لندن سہ فریقی کانفرنس …مثبت پیش رفت
صدر آصف علی زرداری اور صدر حامد کرزئی نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے امن عمل میں شرکت پر آمادہ ہو جائیں۔
تینوں ملکوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان اور افغانستان کے لیڈروں نے پیر کے دن لندن میں برطانوی وزیر اعظم کی میزبانی میں اعلان کیا ہے کہ وہ کوشش کریں گے چھ ماہ کے اندر اندر کسی پائیدار امن معاہدے تک پہنچ جائیں جب کہ انھوں نے طالبان کی دوحہ (قطر) میں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت کے مطالبے کی بھی بھرپور حمایت کی ہے۔ مذاکرات کی میزبانی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کی جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغانستان کے ہم منصب صدر حامد کرزئی نے شرکت کی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور صدر حامد کرزئی نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے امن عمل میں شرکت پر آمادہ ہو جائیں۔ تاہم مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں میں ابھی تک نہ تو طالبان کے کسی نمایندے نے شرکت کی ہے اور نہ ہی امریکا کی کوئی براہ راست شمولیت نظر آتی ہے۔ جب کہ عسکریت پسند کابل حکومت کے ساتھ بات چیت سے اب بھی انکار کر رہے ہیں۔لندن میں ہونے والے ان مذاکرات میں اس بات کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2014 میں ایساف افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد وہاں خانہ جنگی کا امکان موجود ہے اور یہ فوری طور پرشروع ہوسکتی ہے۔ چنانچہ لندن کانفرنس کے شرکاء نے فیصلہ کیا ہے کہ آیندہ چھ ماہ کے اندر اندر افغانستان میں قیام امن کے لیے کوئی پائیدار لائحہ عمل تیار کر لیا جائے گا۔
یہ بات وزیر اعظم کیمرون کے دفتر سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔ انھوں نے کہا دوحہ میں طالبان کا دفتر کھولنے سے ان کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو سکے گا۔ مذاکرات طالبان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے مابین ہوں گے۔ صدر حامد کرزئی قبل ازیں طالبان کے دوحہ میں آفس کھولنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے اصل مذاکرات طالبان اور امریکا کے مابین محدود ہو کر رہ جائیں گے جب کہ کابل حکومت کو ایک طرف کر دیا جائے گا۔
لندن کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان اور پاکستانی لیڈر پاکستان کی حراست سے طالبان قیدیوں کی رہائش کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کریں گے۔ افغان امن مذاکرات کاروں نے پاکستان کی طرف سے گرفتار طالبان رہنماؤں کی رہائی کا خیر مقدم بھی کیا ہے کیونکہ باور کیا جاتا ہے کہ اس امر سے طالبان مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے رضا مند ہو جائیں گے۔افغان طالبان کی طرف سے اس پیش رفت پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ لندن میں ہونے والی حالیہ سہ فریقی ملاقات ایک سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال جولائی میں کابل اور ستمبر میں نیویارک میں ایسی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ لیکن لندن کانفرنس کی خصوصیت اور اہمیت یہ ہے اس میں پاکستانی اور افغان انٹیلی جنس سربراہ بھی شریک ہوئے۔
یوں یہ اپنی نوعیت کی پہلی اعلیٰ سطحی کانفرنس ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے طالبان سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات پر رضا مند ہو جائیں۔ مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ پر امن سیاسی عمل کا وقت ہے۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا وہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں بہت خوشگوار تعلقات کے لیے پر امید ہیں ۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کا عمل خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ ہمیں اکٹھے ہی زندگی بسر کرنا ہے۔
انھوں نے کہا ہم اپنے محل وقوع یا پڑوسی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان وار کوگیارہ سال ہوچکے ہیں، اب صرف چھ ماہ میں امن سمجھوتہ تلاش کر لینا منطقی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ افغانستان میں لڑنے والے طالبان کی طرف سے ان مذاکرات میں شرکت کا کوئی عندیہ نظر نہیں آ رہا۔ طالبان نے مارچ 2012 میں قطر میں امریکی نمایندوں کے ساتھ رابطہ ختم کر دیا تھا کیونکہ امریکا گرفتار طالبان لیڈروں کی رہائی پر تیار نہیں ہوا تھا۔
افغان اور پاکستانی وفود نے اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات کے معیار اور تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دونوں اطراف نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے ہمسائیگی تعلقات کی بنیادی اہمیت ہے جو دونوں ممالک کے طویل المیعاد استحکام کو یقینی بناتے ہیں اور حتمی نتیجہ ایسا ہونا چاہیے جس میں تمام افغان ملک کے سیاسی مستقبل میں پر امن طور پر شریک ہو سکیں۔ انھوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ دفتر کھولنے اور بات چیت کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔
بات چیت میں امن عمل کے علاوہ اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون، عوامی رابطوں، مہاجرین کی واپسی اور سرحدی انتظام سمیت وسیع تر دوطرفہ امور کا بھی احاطہ کیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر پیشرفت اور امن عمل سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو باہمی طور پر تقویت ملے گی۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ تجارت اور سرحدی انتظام کے امور کو آگے لے جانے کے لیے فروری کے دوران خارجہ، داخلہ اور تجارت کے وزرأ کی ملاقاتوں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گی۔ پاکستان اور افغانستان نے اتفاق کیا کہ وہ اپنی عسکری اور سیکیورٹی سروسز کے درمیان وسیع تر اعتماد اور تعاون کو تشکیل دینے کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
مذاکرات کے بعد تینوں سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں امن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے مفاد میں ہے۔ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھی خطے میں قیام امن کے لیے برطانیہ، افغانستان اور پاکستان مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا طالبان سمیت افغانستان کے تمام گروپوں کے لیے ملک کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا یہ سب سے بہترین موقع ہے۔ حامد کرزئی اور صدر زرداری نے کہا کہ وہ اگلے چھ مہینوں میں افغانستان کے لیے امن کے معاہدے کے حصول کی کوشش کریں گے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل سرحد پر دونوں اطراف سے موثر بارڈر کنٹرول مینجمنٹ سسٹم لگائے جانے کی ضرورت ہے۔ افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی کے لیے روڈ میپ ترتیب دیا جائے۔ انھوں نے کہا تمام افغان فریقین کو اعتماد میں لیا جائے اور انھیں اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق امن عمل میں شامل کیا جائے۔یوں دیکھا جائے تو آنے والے چھ ماہ انتہائی اہم ہیں۔ صدر مملکت نے جو کچھ کہا ہے ، ان پر عمل کرکے ہی پاکستان کو پرامن ملک بنا یا جاسکتا ہے اور اس کا افغانستان کو بھی فائدہ ہوگا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور صدر حامد کرزئی نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے امن عمل میں شرکت پر آمادہ ہو جائیں۔ تاہم مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں میں ابھی تک نہ تو طالبان کے کسی نمایندے نے شرکت کی ہے اور نہ ہی امریکا کی کوئی براہ راست شمولیت نظر آتی ہے۔ جب کہ عسکریت پسند کابل حکومت کے ساتھ بات چیت سے اب بھی انکار کر رہے ہیں۔لندن میں ہونے والے ان مذاکرات میں اس بات کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2014 میں ایساف افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد وہاں خانہ جنگی کا امکان موجود ہے اور یہ فوری طور پرشروع ہوسکتی ہے۔ چنانچہ لندن کانفرنس کے شرکاء نے فیصلہ کیا ہے کہ آیندہ چھ ماہ کے اندر اندر افغانستان میں قیام امن کے لیے کوئی پائیدار لائحہ عمل تیار کر لیا جائے گا۔
یہ بات وزیر اعظم کیمرون کے دفتر سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔ انھوں نے کہا دوحہ میں طالبان کا دفتر کھولنے سے ان کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو سکے گا۔ مذاکرات طالبان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے مابین ہوں گے۔ صدر حامد کرزئی قبل ازیں طالبان کے دوحہ میں آفس کھولنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے اصل مذاکرات طالبان اور امریکا کے مابین محدود ہو کر رہ جائیں گے جب کہ کابل حکومت کو ایک طرف کر دیا جائے گا۔
لندن کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان اور پاکستانی لیڈر پاکستان کی حراست سے طالبان قیدیوں کی رہائش کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کریں گے۔ افغان امن مذاکرات کاروں نے پاکستان کی طرف سے گرفتار طالبان رہنماؤں کی رہائی کا خیر مقدم بھی کیا ہے کیونکہ باور کیا جاتا ہے کہ اس امر سے طالبان مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے رضا مند ہو جائیں گے۔افغان طالبان کی طرف سے اس پیش رفت پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ لندن میں ہونے والی حالیہ سہ فریقی ملاقات ایک سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال جولائی میں کابل اور ستمبر میں نیویارک میں ایسی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ لیکن لندن کانفرنس کی خصوصیت اور اہمیت یہ ہے اس میں پاکستانی اور افغان انٹیلی جنس سربراہ بھی شریک ہوئے۔
یوں یہ اپنی نوعیت کی پہلی اعلیٰ سطحی کانفرنس ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے طالبان سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات پر رضا مند ہو جائیں۔ مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ پر امن سیاسی عمل کا وقت ہے۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا وہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں بہت خوشگوار تعلقات کے لیے پر امید ہیں ۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کا عمل خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ ہمیں اکٹھے ہی زندگی بسر کرنا ہے۔
انھوں نے کہا ہم اپنے محل وقوع یا پڑوسی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان وار کوگیارہ سال ہوچکے ہیں، اب صرف چھ ماہ میں امن سمجھوتہ تلاش کر لینا منطقی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ افغانستان میں لڑنے والے طالبان کی طرف سے ان مذاکرات میں شرکت کا کوئی عندیہ نظر نہیں آ رہا۔ طالبان نے مارچ 2012 میں قطر میں امریکی نمایندوں کے ساتھ رابطہ ختم کر دیا تھا کیونکہ امریکا گرفتار طالبان لیڈروں کی رہائی پر تیار نہیں ہوا تھا۔
افغان اور پاکستانی وفود نے اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات کے معیار اور تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دونوں اطراف نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے ہمسائیگی تعلقات کی بنیادی اہمیت ہے جو دونوں ممالک کے طویل المیعاد استحکام کو یقینی بناتے ہیں اور حتمی نتیجہ ایسا ہونا چاہیے جس میں تمام افغان ملک کے سیاسی مستقبل میں پر امن طور پر شریک ہو سکیں۔ انھوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ دفتر کھولنے اور بات چیت کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔
بات چیت میں امن عمل کے علاوہ اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون، عوامی رابطوں، مہاجرین کی واپسی اور سرحدی انتظام سمیت وسیع تر دوطرفہ امور کا بھی احاطہ کیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر پیشرفت اور امن عمل سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو باہمی طور پر تقویت ملے گی۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ تجارت اور سرحدی انتظام کے امور کو آگے لے جانے کے لیے فروری کے دوران خارجہ، داخلہ اور تجارت کے وزرأ کی ملاقاتوں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گی۔ پاکستان اور افغانستان نے اتفاق کیا کہ وہ اپنی عسکری اور سیکیورٹی سروسز کے درمیان وسیع تر اعتماد اور تعاون کو تشکیل دینے کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
مذاکرات کے بعد تینوں سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں امن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے مفاد میں ہے۔ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھی خطے میں قیام امن کے لیے برطانیہ، افغانستان اور پاکستان مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا طالبان سمیت افغانستان کے تمام گروپوں کے لیے ملک کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا یہ سب سے بہترین موقع ہے۔ حامد کرزئی اور صدر زرداری نے کہا کہ وہ اگلے چھ مہینوں میں افغانستان کے لیے امن کے معاہدے کے حصول کی کوشش کریں گے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل سرحد پر دونوں اطراف سے موثر بارڈر کنٹرول مینجمنٹ سسٹم لگائے جانے کی ضرورت ہے۔ افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی کے لیے روڈ میپ ترتیب دیا جائے۔ انھوں نے کہا تمام افغان فریقین کو اعتماد میں لیا جائے اور انھیں اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق امن عمل میں شامل کیا جائے۔یوں دیکھا جائے تو آنے والے چھ ماہ انتہائی اہم ہیں۔ صدر مملکت نے جو کچھ کہا ہے ، ان پر عمل کرکے ہی پاکستان کو پرامن ملک بنا یا جاسکتا ہے اور اس کا افغانستان کو بھی فائدہ ہوگا۔