پولیس سرپرستی میں دوبارہ چائنا کٹنگ شروع کیے جانے کا انکشاف
مبینہ طور پر پولیس کوبھاری نذرانے دیے جا رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے کا پولیس کے اعلیٰ افسران کو خط
سب سے زیادہ ملیر ڈسٹرکٹ اور اورنگی ٹاؤن ڈویژن پولیس کی سربراہی میں چائنا کٹنگ پر کام کیا جا رہا ہے، ذرائع ۔ فوٹو : فائل
قانون نافذ کرنے والے ادارے نے پولیس کے اعلیٰ افسران کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں لینڈ مافیا اور سیاسی تنظیموںسے تعلق رکھنے والے افراد نے چائنا کٹنگ کاسلسلہ دوبارہ شروع کردیا اوراس کام کیلیے پولیس کو بھاری نذرانے دیے جا رہے ہیں تاکہ پولیس کسی بھی قسم کی مداخلت نہ کرے ۔
تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے افسر نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایا کہ عیدالفطر سے قبل قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی جانب سے حکومت سندھ کے ساتھ ساتھ پولیس کے اعلیٰ افسران کوخط ارسال کیا تھا کہ مختلف علاقوں میں لینڈ مافیا اور سیاسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سرکاری اور غیر سرکاری اراضی پر دوبارہ سے چائنا کٹنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ، سرجانی ٹاؤن ، نارتھ کراچی ، لانڈھی ، کورنگی ، ہاکس بے، ابراہیم حیدری، گلستان جوہر، سہراب گوٹھ ،سچل،گڈاپ سٹی، گلشن معمار ، منگھوپیر ،بن قاسم ، اسٹیل ٹاؤن اور میمن گوٹھ میں مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں چائنا کٹنگ کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہوگیا،علاقہ پولیس اپنے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر چائنا کٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزکررہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سب سے زیادہ ملیر ڈسٹرکٹ اور اورنگی ٹاؤن ڈویژن پولیس کی سربراہی میں چائنا کٹنگ پرکام کیا جارہا ہے، ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خط میں لکھا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت افسران واہلکاروں کی مانیٹرنگ کریں،ان کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائیں۔
ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حال ہی میں سیاسی تنظیموں اور لینڈ مافیا کے متعدد کارندوں کوگرفتارکرکے پولیس کے حوالے کیا تھا اور ان سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش میں شہر میں دوبارہ چائنا کٹنگ کے بارے میں انکشاف ہوا جس پر پولیس کے اعلیٰ افسران قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے فوری طور پر خط ارسال کیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اس حوالے اپنی حکمت عملی کو مرتب کرلیا اورجلد ہی دوبارہ سے شروع کی جانے والی چائنا کٹنگ میں ملوث عناصر کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی جا رہی ہے، اس ضمن میں تمام شواہد اوردیگر دستاویزات کو بھی حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ گرفتاری کے بعد ملزمان کیخلاف ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔
تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے افسر نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایا کہ عیدالفطر سے قبل قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی جانب سے حکومت سندھ کے ساتھ ساتھ پولیس کے اعلیٰ افسران کوخط ارسال کیا تھا کہ مختلف علاقوں میں لینڈ مافیا اور سیاسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سرکاری اور غیر سرکاری اراضی پر دوبارہ سے چائنا کٹنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ، سرجانی ٹاؤن ، نارتھ کراچی ، لانڈھی ، کورنگی ، ہاکس بے، ابراہیم حیدری، گلستان جوہر، سہراب گوٹھ ،سچل،گڈاپ سٹی، گلشن معمار ، منگھوپیر ،بن قاسم ، اسٹیل ٹاؤن اور میمن گوٹھ میں مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں چائنا کٹنگ کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہوگیا،علاقہ پولیس اپنے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر چائنا کٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزکررہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سب سے زیادہ ملیر ڈسٹرکٹ اور اورنگی ٹاؤن ڈویژن پولیس کی سربراہی میں چائنا کٹنگ پرکام کیا جارہا ہے، ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خط میں لکھا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت افسران واہلکاروں کی مانیٹرنگ کریں،ان کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائیں۔
ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حال ہی میں سیاسی تنظیموں اور لینڈ مافیا کے متعدد کارندوں کوگرفتارکرکے پولیس کے حوالے کیا تھا اور ان سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش میں شہر میں دوبارہ چائنا کٹنگ کے بارے میں انکشاف ہوا جس پر پولیس کے اعلیٰ افسران قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے فوری طور پر خط ارسال کیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اس حوالے اپنی حکمت عملی کو مرتب کرلیا اورجلد ہی دوبارہ سے شروع کی جانے والی چائنا کٹنگ میں ملوث عناصر کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی جا رہی ہے، اس ضمن میں تمام شواہد اوردیگر دستاویزات کو بھی حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ گرفتاری کے بعد ملزمان کیخلاف ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔