جی20 سربراہی اجلاس کا آغاز ٹرمپ پوتن کی پہلی ملاقات

جرمن شہر ہیمبرگ میں دونوں عالمی رہنمائوں کی خوشگوار ملاقات

اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور تجارت موضوع بحث، مرکل نے استقبالیہ خطاب کیا، ہیمبرگ میں مظاہرے، جھڑپوں میں مظاہرین کے علاوہ 70 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ۔ فوٹو: اے ایف پی

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان پہلی ملاقات اور مصافحہ بڑے خوشگوار موڈ میں ہوا ہے، دونوں رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وہ تنازعات کا شکار ہونے والے اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوتن کے درمیان ہیمبرگ میں جی20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر پہلی ملاقات اور مصافحہ ہوا ہے مگر دونوں کے درمیان تفصیلی ملاقات بعد میں ہوگی ۔

دیگر مسائل کے علاوہ صدر ٹرمپ اور صدر پوتن کے درمیان ایک بڑا تنازع امریکا کے صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت ہے۔ جی 20 سربراہ اجلاس میں جن امور پر بات ہو گی ان میں موسمیاتی تبدیلی اور تجارت سر فہرست ہیں۔ جرمن شہر ہیمبرگ میں 20ترقی یافتہ اور ابھرتی اقتصادیات کے حامل ممالک کی سمٹ کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس سربراہ اجلاس میں شرکت کرنیوالے لیڈروں کا کنونشن سینٹر پر استقبال جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کیا۔ انھوں نے اجلاس کی ابتدا میں استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے ان لیڈران کی توجہ عالمی مسائل کی جانب مرکوز کرائی۔ سمٹ کے دوران ہی چین، بھارت، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ کے صْدور کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے ساتھ مختصر گفتگو کی۔ روسی و امریکی صْدور نے اجلاس کے شروع ہونے سے قبل آپس میں مصافحہ کیا۔ جمعرات کو جب صدر ٹرمپ نے پولینڈ میں تقریر کی تھی تو انھوں نے اس میں بھی روس سے کہہ دیا تھا کہ وہ یوکرین اور دیگر ممالک کو تباہ کرنا بند کرے اور ذمہ دار اقوام کی برادری میں شامل ہو جائے۔


اس کے بعد گزشتہ روز سربراہ اجلاس سے قبل بھی ۔ صدر ٹرمپ نے وسطٰی اور مشرقی یورپی ملکوں کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے بڑے پیمانے پر ایندھن درآمد کرنے کی بجائے اسے امریکا سے منگوانے کے معاہدے کریں۔ سربراہ اجلاس کے حوالے سے اپنی ترجیحات کے بارے میں صدر پوتن نے بھی ایک جرمن اخبار میں جو مضمون لکھا ہے، اس میں انھوں نے امریکا سے کہا ہے وہ روس پر لگائی جانے والی وہ پابندیاں اٹھائے جو2014ء میں روس کی جانب سے کریمیا کو اپنا حصہ بنانے کے بعد لگائی گئی تھیں، اس کے علاوہ پوتن نے ماحولیات کے حوالے سے پیرس معاہدے کی پرزور حمایت کا بھی کہا ہے اور اسے ماحولیات سے متعلق طویل المدت قانون سازی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ اس حوالے سے اجلاس سے قبل ہیمبرگ میں بہت بڑا مظاہرہ بھی ہوا ہے جس کا عنوان تھا ''جہنم میں خوش آمدید''، سمٹ کے دوران ہیمبرگ میں اقتصادی عالمگیریت کے مخالفین سمیت بہت سی سماجی تنظیمیں احتجاجی مظاہرے بھی کر رہی ہیں۔ جرمن پولیس کے مطابق گزشتہ شام قریب ایک ہزار انتہائی بائیں بازو کے شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں76 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے تین کو اسپتال بھی داخل کرایا گیا جبکہ زخمی مظاہرین کی تعداد کا نہیں بتایا گیا۔ ہیمبرگ شہر میں قریب20 ہزار پولیس اہلکار، بکتر بند گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں اور نگرانی کرنے والے ڈرونز کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے کیلیے شہر میں تعینات ہیں۔ تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ جرمنی میں جدید ٹیکنالوجی کے صنعتی گڑھ ہیمبرگ میں جی20کا سربراہ اجلاس منعقد کر کے چانسلر انگیلا میرکل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایک جمہوری معاشرے میں مظاہرے برداست کرنے کے صلاحیت ہونی چاہیے تاہم ان مظاہروں سے جی20کے سربراہی اجلاس سے منسلک کئی تقریبات متاثر ہوئی ہیں۔ جرمن حکومت کے فیس بک صفحات پر شائع ہونے والی ایک مختصر ویڈیو میں جی 20کے دیگر رہنماں کی موجودگی میں دونوں حضرات کو ہاتھ ملاتے اور مسٹر ٹرمپ کو مسکراتے ہوئے مسٹر پوتن کے بازو پر تھپکی لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
Load Next Story