قبر میں اُترنے سے پہلے پہلے
بلوم برگ اپنی بیٹیوں اور اُن کے شوہروں کا مستقبل سنوارنے کے لیے ملک کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
tanveer.qaisar@express.com.pk
وہ امریکا کا دسواں بڑا دولت مند شخص ہے۔ اُس کے ذاتی خزانے میں 25 ارب ڈالر کی خطیر رقم پڑی ہے لیکن اُس نے یہ دولت بدعنوانی سے کمائی ہے نہ یہ خزانہ اُسے وراثت میں ملا۔ پچیس ارب ڈالر کا یہ انبار اُس کی ذاتی محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے۔ زمانۂ تعلیم میں وہ اِس قدر تنگ دست تھا کہ یونیورسٹی کی فیس کی ادائیگی کے لیے کاروں کی پارکنگ لاٹ میں اُسے روزانہ پانچ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ 28 جنوری 2013 کا ممتاز امریکی اخبار ''انٹرنیشنل ھیرالڈ ٹربیون'' میرے سامنے پڑا ہے جس میں اِس شخص کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر شایع ہوئی ہے۔ عقب میں امریکا کے معروف تعلیمی ادارے جانز ہاپکنس یونیورسٹی، جہاں وہ کبھی زیرِ تعلیم تھا، کی عمارت نظر آ رہی ہے۔ اِس ستر سالہ سیاستدان اور دولت مند بزنس مین نے 27 جنوری کو اپنی مادرِ علمی کی ایک تقریب میں شریک ہو کر اعلان کیا: ''مرنے سے پہلے میَں چاہتا ہوں کہ میری یہ ساری دولت، 25 ارب ڈالر، جانز ہاپکنس یونیورسٹی اور امریکا کے دوسرے تعلیمی اداروں، اسپتالوں، تجربہ گاہوں میں تقسیم ہو جائے تاکہ امریکا جدید سے جدید تر اور محفوظ سے محفوظ تر بنتا چلا جائے۔ قبر میں اتارے جانے سے قبل میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ میری دولت میرے وطن کے کام آ جائے۔ یہ دولت میَں نے اِسی سرزمین سے کمائی اور اِسی سرزمین کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔'' تالیوں کی گونج میں وہ اسٹیج سے اُترا تو یونیورسٹی کے تمام طلباء و طالبات اور اساتذہ اپنے اِس بلند قامت سابقہ طالب علم کی خدمات سے شاداں اور فرحاں تھے اور خوشی کے مارے اُن سب کی آنکھیں نم بھی تھیں۔
کیا وطنِ عزیز اور پورے عالمِ اسلام میں کوئی ایسا بے لوث شخص ہمیں میسّر ہے؟
اِس عظیم اور بے لوث آدمی کا نام ہے مائیکل بلوم برگ۔ وہ اِس وقت امریکا کی مشہور ترین ریاست نیو یارک کے میئر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، کامیاب بزنس مین اور کامران ترین سیاستدان۔ جانز ہاپکنس یونیورسٹی اور ہاورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ۔ اُنھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ بارہ برس سے نیو یارک کے مسلسل میئر بنتے چلے آ رہے ہیں۔ 2001 سے 2013 تک۔ اپنے پیش رَو روڈی جولیانی کو شکست دینا آسان نہیں تھا لیکن مائیکل بلوم برگ نے اپنی تعلیمی اور سماجی خدمات اور عوام سے اخلاص کی بدولت یہ معرکہ سر کر لیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ بلوم برگ محض عوام کی خدمات کی بدولت کامیاب سیاستدان بنے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ وہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں کہ تالیاں بجوانے اور واہ واہ کروانے کے لیے ضرورت مندوں کے لیے مالی امداد کا وقتی اعلان تو کر دیا لیکن بعد ازاں اِسے دانستہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اِس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے ساتھ سیاست کے سارے جَل کو بھی گندا کر دیا لیکن یہ امریکا ہے جہاں وعدے کر کے نبھانا بھی پڑتے ہیں اور وعدہ شکنوں کا احتساب بھی کیا جاتا ہے۔
مائیکل بلوم برگ نیو یارک کے 108 ویں میئر ہیں۔ زبردست منتظم اور مستحکم بزنس مین لیکن وہ اپنی جائز دولت کے انبار پر سانپ بن کر بیٹھے نہ اِسے اپنی اولاد کے حوالے کیا۔ وہ گزشتہ چار عشروں کے دوران مسلسل امریکا کے مختلف تعلیمی اداروں، اسپتالوں، خیراتی مراکز کی اعانت کرتے آ رہے ہیں۔ 2005 میں وہ 240 ملین ڈالر، 2006میں 60 ملین ڈالر، 2007میں 47 ملین ڈالر، 2009 میں 150 ملین ڈالر، 2010 میں 332 ملین ڈالر اور 2011 میں 311 ملین ڈالر عطیات کی شکل میں دے کر اپنے ملک کی خدمت کر چکے ہیں۔ انھوں نے ''بلوم برگ فائونڈیشن'' بھی بنا رکھی ہے جس کے پلیٹ فارم پر اُنھوں نے 2005 میں معروف امریکی بزنس مین بِل گیٹس کے ساتھ مل کر ترقی پذیر دنیا میں ایسی حکومتوں کو پانچ سو ملین ڈالر کے عطیات دیے جو اپنے ہاں تمباکو نوشی کو کنٹرول اور کم کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ سرطان ایسے موذی مرض سے نجات حاصل کرنے اور تمباکو نوشی کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر خصوصاً امریکا میں بلوم برگ نے اپنی ذاتی جیب سے جتنا پیسہ خرچ کیا ہے، غالباً کسی اور نے اتنا روپیہ پانی کی طرح نہیں بہایا ہو گا۔ کیا ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسا مقتدر سیاستدان مل سکتا ہے؟ بدقسمتی سے یہاں تو گنگا ہی اُلٹی بہہ رہی ہے۔ اپنے وطن سے پیسہ لُوٹ کر بیرون ممالک میں منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں مہنگی جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک جائیداد، جس کی مالیت بارہ ارب روپے بتائی جاتی ہے، کا آجکل لندن میں بڑا غلغلہ مچا ہوا ہے جو ہمارے ایک سینیٹر سے منسوب بتائی جاتی ہے۔ اِس سینیٹر نے اپنے اثاثوں کی کُل مالیت تو اٹھانوے لاکھ روپے بتائی ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انھوں نے لندن میں بارہ ارب روپے کی ایک جائیداد کہاں سے اور کن ذرایع سے حاصل کی؟ اور اُن کے لندن میں 16 دیگر فلیٹس کس جادو کی چھڑی سے حاصل کیے گئے؟
لیکن کافر اور غیر مسلمان سیاستدان مائیکل بلوم برگ ایسا کر سکتے ہیں نہ ایسا کرنے کا سوچ ہی سکتے ہیں کہ جانتے ہیں قانون کا شکنجہ سب کے لیے یکساں بھی ہے اور ووٹروں کی آنکھیں تعصب اور برادری ازم نے بند بھی نہیں کر رکھیں۔ مائیکل بلوم برگ خود تو اتنے مذہبی نہیں ہیں لیکن وہ ایک سخت مذہبی یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا ایک معاشی مہاجر کی حیثیت سے برسوں قبل امریکا میں آ بسے تھے۔ وہ اِس سرزمین پر اُترے اور پھر اِسی کے خیر خواہ رہے۔ امریکا میں آباد ہمارے معاشی مہاجرین کی طرح نہیں کہ بار بار Back Home کی یاد آ آ کر ستاتی ہے اور محبتیں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یا ہمارے بعض سیاستدانوں کی طرح نہیں کہ جیب میں تو کینیڈا کا پاسپورٹ ہے اور چلے آئے ہیں پاکستان اور پاکستانیوں کی قسمت سنوارنے۔ اپنے ملک، اپنی ریاست اور اپنے عوام کی خدمت کا اندازہ اِس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ مائیکل بلوم برگ گزشتہ بارہ برس سے نیو یارک کے ہمہ مقتدر سیاستدان (میئر) چلے آ رہے ہیں لیکن اُنھوں نے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ ہاں ہر سال وہ خدمت کے ''صلے'' میں سرکار کے خزانے سے ایک ڈالر ضرور وصول کرتے ہیں۔ بطور ٹوکن۔ گویا گزشتہ بارہ برس کے دوران انھوں نے صرف بارہ ڈالر ''تنخواہ'' وصول کی ہے۔ کیا ہمارے ہاں ایسی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ ہمارا کوئی سیاستدان مسلسل بارہ سال اقتدار میں رہے اور اس نے سرکار کے خزانے سے صرف بارہ روپے تنخواہ وصول کی ہو؟
مائیکل بلوم برگ جب سے اقتدار میں ہیں، سرکاری گھر استعمال کرنے کے بجائے ذاتی گھر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ نیو یارک کے قلب میں واقع محل نما میئر ہائوس کو وہ صرف دفتری معاملات نمٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اُن کی دو بیٹیاں ہیں لیکن اُن کا اور اُن کے شوہروں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بلوم برگ اپنے ملک اور اپنی ریاست کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ اگر ہم اُن کی سوانح حیات Bloomberg by Bloomberg کا مطالعہ کریں تو ہم پر حیرت و استعجاب اور دیانت داری کے کئی در وا ہوتے ہیں۔ اتنا کامیاب سیاستدان، دولت مند بزنس اور نیو یارکرز کا محافظ میئر مہینے میں سات بار زیرِ زمین چلنے والی ٹرین میں عام مسافروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اپنے دفتر پہنچنے کے لیے کوئی عار نہیں بلکہ فخر محسوس کرتا ہے۔ وہ ریاست بھر کے تمام بچوں کا مستقبل سنوارنے اور انھیں مختلف سماجی امراض سے بچانے کے لیے اتنا محتاط واقع ہوا ہے کہ کوشش کر کے قانون بنایا کہ اسکول کا کوئی بچہ موبائل فون لے کر اسکول کی چار دیواری میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اِن بچوں کی عمر سترہ سال تک رکھی گئی ہے۔
آیے !ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں ہمارے پاس مائیکل بلوم برگ ایسا کوئی مقتدر سیاستدان پایا جاتا ہے؟ کیا ہمارے ہاں کوئی ایک بھی دولتمند ایسا سیاستدان موجود ہے جو قبر میں اُترنے سے قبل اپنی ساری دولت اپنے وطن کے تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور تجربہ گاہوں میں تقسیم کرنے کی وصیت کر چکا ہو؟
کیا وطنِ عزیز اور پورے عالمِ اسلام میں کوئی ایسا بے لوث شخص ہمیں میسّر ہے؟
اِس عظیم اور بے لوث آدمی کا نام ہے مائیکل بلوم برگ۔ وہ اِس وقت امریکا کی مشہور ترین ریاست نیو یارک کے میئر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، کامیاب بزنس مین اور کامران ترین سیاستدان۔ جانز ہاپکنس یونیورسٹی اور ہاورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ۔ اُنھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ بارہ برس سے نیو یارک کے مسلسل میئر بنتے چلے آ رہے ہیں۔ 2001 سے 2013 تک۔ اپنے پیش رَو روڈی جولیانی کو شکست دینا آسان نہیں تھا لیکن مائیکل بلوم برگ نے اپنی تعلیمی اور سماجی خدمات اور عوام سے اخلاص کی بدولت یہ معرکہ سر کر لیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ بلوم برگ محض عوام کی خدمات کی بدولت کامیاب سیاستدان بنے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ وہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں کہ تالیاں بجوانے اور واہ واہ کروانے کے لیے ضرورت مندوں کے لیے مالی امداد کا وقتی اعلان تو کر دیا لیکن بعد ازاں اِسے دانستہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اِس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے ساتھ سیاست کے سارے جَل کو بھی گندا کر دیا لیکن یہ امریکا ہے جہاں وعدے کر کے نبھانا بھی پڑتے ہیں اور وعدہ شکنوں کا احتساب بھی کیا جاتا ہے۔
مائیکل بلوم برگ نیو یارک کے 108 ویں میئر ہیں۔ زبردست منتظم اور مستحکم بزنس مین لیکن وہ اپنی جائز دولت کے انبار پر سانپ بن کر بیٹھے نہ اِسے اپنی اولاد کے حوالے کیا۔ وہ گزشتہ چار عشروں کے دوران مسلسل امریکا کے مختلف تعلیمی اداروں، اسپتالوں، خیراتی مراکز کی اعانت کرتے آ رہے ہیں۔ 2005 میں وہ 240 ملین ڈالر، 2006میں 60 ملین ڈالر، 2007میں 47 ملین ڈالر، 2009 میں 150 ملین ڈالر، 2010 میں 332 ملین ڈالر اور 2011 میں 311 ملین ڈالر عطیات کی شکل میں دے کر اپنے ملک کی خدمت کر چکے ہیں۔ انھوں نے ''بلوم برگ فائونڈیشن'' بھی بنا رکھی ہے جس کے پلیٹ فارم پر اُنھوں نے 2005 میں معروف امریکی بزنس مین بِل گیٹس کے ساتھ مل کر ترقی پذیر دنیا میں ایسی حکومتوں کو پانچ سو ملین ڈالر کے عطیات دیے جو اپنے ہاں تمباکو نوشی کو کنٹرول اور کم کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ سرطان ایسے موذی مرض سے نجات حاصل کرنے اور تمباکو نوشی کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر خصوصاً امریکا میں بلوم برگ نے اپنی ذاتی جیب سے جتنا پیسہ خرچ کیا ہے، غالباً کسی اور نے اتنا روپیہ پانی کی طرح نہیں بہایا ہو گا۔ کیا ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسا مقتدر سیاستدان مل سکتا ہے؟ بدقسمتی سے یہاں تو گنگا ہی اُلٹی بہہ رہی ہے۔ اپنے وطن سے پیسہ لُوٹ کر بیرون ممالک میں منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں مہنگی جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک جائیداد، جس کی مالیت بارہ ارب روپے بتائی جاتی ہے، کا آجکل لندن میں بڑا غلغلہ مچا ہوا ہے جو ہمارے ایک سینیٹر سے منسوب بتائی جاتی ہے۔ اِس سینیٹر نے اپنے اثاثوں کی کُل مالیت تو اٹھانوے لاکھ روپے بتائی ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انھوں نے لندن میں بارہ ارب روپے کی ایک جائیداد کہاں سے اور کن ذرایع سے حاصل کی؟ اور اُن کے لندن میں 16 دیگر فلیٹس کس جادو کی چھڑی سے حاصل کیے گئے؟
لیکن کافر اور غیر مسلمان سیاستدان مائیکل بلوم برگ ایسا کر سکتے ہیں نہ ایسا کرنے کا سوچ ہی سکتے ہیں کہ جانتے ہیں قانون کا شکنجہ سب کے لیے یکساں بھی ہے اور ووٹروں کی آنکھیں تعصب اور برادری ازم نے بند بھی نہیں کر رکھیں۔ مائیکل بلوم برگ خود تو اتنے مذہبی نہیں ہیں لیکن وہ ایک سخت مذہبی یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا ایک معاشی مہاجر کی حیثیت سے برسوں قبل امریکا میں آ بسے تھے۔ وہ اِس سرزمین پر اُترے اور پھر اِسی کے خیر خواہ رہے۔ امریکا میں آباد ہمارے معاشی مہاجرین کی طرح نہیں کہ بار بار Back Home کی یاد آ آ کر ستاتی ہے اور محبتیں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یا ہمارے بعض سیاستدانوں کی طرح نہیں کہ جیب میں تو کینیڈا کا پاسپورٹ ہے اور چلے آئے ہیں پاکستان اور پاکستانیوں کی قسمت سنوارنے۔ اپنے ملک، اپنی ریاست اور اپنے عوام کی خدمت کا اندازہ اِس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ مائیکل بلوم برگ گزشتہ بارہ برس سے نیو یارک کے ہمہ مقتدر سیاستدان (میئر) چلے آ رہے ہیں لیکن اُنھوں نے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ ہاں ہر سال وہ خدمت کے ''صلے'' میں سرکار کے خزانے سے ایک ڈالر ضرور وصول کرتے ہیں۔ بطور ٹوکن۔ گویا گزشتہ بارہ برس کے دوران انھوں نے صرف بارہ ڈالر ''تنخواہ'' وصول کی ہے۔ کیا ہمارے ہاں ایسی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ ہمارا کوئی سیاستدان مسلسل بارہ سال اقتدار میں رہے اور اس نے سرکار کے خزانے سے صرف بارہ روپے تنخواہ وصول کی ہو؟
مائیکل بلوم برگ جب سے اقتدار میں ہیں، سرکاری گھر استعمال کرنے کے بجائے ذاتی گھر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ نیو یارک کے قلب میں واقع محل نما میئر ہائوس کو وہ صرف دفتری معاملات نمٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اُن کی دو بیٹیاں ہیں لیکن اُن کا اور اُن کے شوہروں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بلوم برگ اپنے ملک اور اپنی ریاست کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ اگر ہم اُن کی سوانح حیات Bloomberg by Bloomberg کا مطالعہ کریں تو ہم پر حیرت و استعجاب اور دیانت داری کے کئی در وا ہوتے ہیں۔ اتنا کامیاب سیاستدان، دولت مند بزنس اور نیو یارکرز کا محافظ میئر مہینے میں سات بار زیرِ زمین چلنے والی ٹرین میں عام مسافروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اپنے دفتر پہنچنے کے لیے کوئی عار نہیں بلکہ فخر محسوس کرتا ہے۔ وہ ریاست بھر کے تمام بچوں کا مستقبل سنوارنے اور انھیں مختلف سماجی امراض سے بچانے کے لیے اتنا محتاط واقع ہوا ہے کہ کوشش کر کے قانون بنایا کہ اسکول کا کوئی بچہ موبائل فون لے کر اسکول کی چار دیواری میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اِن بچوں کی عمر سترہ سال تک رکھی گئی ہے۔
آیے !ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں ہمارے پاس مائیکل بلوم برگ ایسا کوئی مقتدر سیاستدان پایا جاتا ہے؟ کیا ہمارے ہاں کوئی ایک بھی دولتمند ایسا سیاستدان موجود ہے جو قبر میں اُترنے سے قبل اپنی ساری دولت اپنے وطن کے تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور تجربہ گاہوں میں تقسیم کرنے کی وصیت کر چکا ہو؟