رواں سال دھا گے کی برآمدات میں 54فیصد اضافہ
گزشتہ مالی سال کے پہلے 6ماہ میں دھاگے کی برآمدات 1کروڑ71لا کھ ڈالر تھیں جوکہ رواں سال 2کروڑ64لاکھ ڈالر ہو گئیں ۔
توانائی بحران پاور لومز کیلیے تباہ کن ،آرڈر پورے کرنا ممکن نہیں،یارن ایسوسی ایشن فوٹو: اے ایف پی / فائل
DERA GHAZI KHAN:
روا ں ما لی سال کے پہلے 6ماہ میں دھا گے کی برآمدات میں 54 فیصد اضافہ ہوا اور مقدار میں70فیصد اضافہ تفصیلات کے مطا بق گزشتہ ما لی سال کے پہلے 6ماہ میں 1کروڑ71لا کھ ڈالر کی برآمدات ہو ئی تھیںجو رواں سال 54 فیصد اضافے کے ساتھ2کروڑ64لا کھ ڈالر ہو گئیں۔
گزشتہ ما لی سال کے پہلے6ماہ میں 4 ہزار 7 سو میٹرک ٹن دھاگہ برآمد کیا گیا تھا جبکہ رواں سال 70فیصد اضا فے کے ساتھ 8 ہزار میٹرک ٹن دھا گہ برآمد کیا گیا۔ یارن ایسو سی ایشن کے مطابق رواں سال توا نائی بحران کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور پاور لومز سیکٹر بری طرح بحران کا شکار رہا، فیکٹریاں بند ہو گئیں۔
جس کی وجہ سے دھاگے کے برآمد کنند گان نے اس کا بھر پور فائدہ اْٹھا تے ہو ئے گزشتہ سال سے اسٹاک کیا ہوا دھا گہ بہتر ریٹ ملنے کی وجہ سے مختلف ملکوں میں فروخت کر دیا۔ ایسوسی ایشن کے نما ئندوں نے کہا کہ اگر حکومت 50 فیصد بھی توا نا ئی بحران پر قا بوپا لیتی ہے تو پھر بھی ملک میں دھا گے کا بحران پیدا ہو جا ئے گا جو ملک اور پاور لومز سیکٹر کے لیے انتہا ئی خطر نا ک ہے۔ ٹیکسٹا ئل کی مصنو عات کے برآمد کند گان اپنے آرڈر پورے کر نا ممکن نہیں رہے گا۔
روا ں ما لی سال کے پہلے 6ماہ میں دھا گے کی برآمدات میں 54 فیصد اضافہ ہوا اور مقدار میں70فیصد اضافہ تفصیلات کے مطا بق گزشتہ ما لی سال کے پہلے 6ماہ میں 1کروڑ71لا کھ ڈالر کی برآمدات ہو ئی تھیںجو رواں سال 54 فیصد اضافے کے ساتھ2کروڑ64لا کھ ڈالر ہو گئیں۔
گزشتہ ما لی سال کے پہلے6ماہ میں 4 ہزار 7 سو میٹرک ٹن دھاگہ برآمد کیا گیا تھا جبکہ رواں سال 70فیصد اضا فے کے ساتھ 8 ہزار میٹرک ٹن دھا گہ برآمد کیا گیا۔ یارن ایسو سی ایشن کے مطابق رواں سال توا نائی بحران کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور پاور لومز سیکٹر بری طرح بحران کا شکار رہا، فیکٹریاں بند ہو گئیں۔
جس کی وجہ سے دھاگے کے برآمد کنند گان نے اس کا بھر پور فائدہ اْٹھا تے ہو ئے گزشتہ سال سے اسٹاک کیا ہوا دھا گہ بہتر ریٹ ملنے کی وجہ سے مختلف ملکوں میں فروخت کر دیا۔ ایسوسی ایشن کے نما ئندوں نے کہا کہ اگر حکومت 50 فیصد بھی توا نا ئی بحران پر قا بوپا لیتی ہے تو پھر بھی ملک میں دھا گے کا بحران پیدا ہو جا ئے گا جو ملک اور پاور لومز سیکٹر کے لیے انتہا ئی خطر نا ک ہے۔ ٹیکسٹا ئل کی مصنو عات کے برآمد کند گان اپنے آرڈر پورے کر نا ممکن نہیں رہے گا۔