سانحہ احمد پور شرقیہ کی تحقیقاتی رپورٹ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد خال خال ہی دکھائی دیتا ہے
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد خال خال ہی دکھائی دیتا ہے ۔ فوٹو : فائل
احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر الٹنے کے المناک سانحہ پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پاکستان پٹرولیم رولز 1937 کی خلاف ورزی پر متعلقہ پٹرولیم کمپنی کو ایک کروڑ روپے جرمانہ اور سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ اور زخمیوں کو فی کس 5 لاکھ زر تلافی ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
بے شک اوگرا نے تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کے جائے وقوع کے دورے اور ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے، لیکن مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مزید سوال پیدا ہوئے ہیں، رپورٹ کے کئی پوائنٹس ایسے ہیں جنھوں نے دیگر متعلقہ اداروں کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان بنادیے ہیں۔
رپورٹ میں نکات پیش کیے گئے ہیں کہ ٹینکرز میں پٹرولیم رولز 1937 کی پیروی نہیں کی گئی، سی آئی ای لائسنس بھی نہیں تھا، ٹینکر 4 ایکسل کا تھا جب کہ 50 ہزار لیٹر ٹینکر کے لیے 5 یا 6 ایکسل کا ہونا ضروری ہے۔ کمپنی نے جو موٹر وہیکل ایگزامنر کا فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کیا وہ بھی جعلی نکلا۔ یہ تمام تر باتیں پاکستان میں ادارہ جاتی گنجلک مسائل، رشوت و کرپشن اور اداروں کی اپنے فرائض سے غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔ کیا موٹر وے پولیس پٹرولیم رولز اور سیفٹی آرڈیننس سے ناواقف تھی جو 4 ایکسل ٹینکر کو موٹر وے سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔ صرف ایک جانب توجہ مرکوز کرکے دیگر اداروں کی غفلت کو رپورٹ میں نظر انداز نہ کیا جائے۔
اوگرا کی رپورٹ میں ان تمام تر خامیوں کی نشاندہی کے بعد اتھارٹی نے مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے سیفٹی قوانین اور ریگولیشن کے مطابق ٹینکرز استعمال کرنے کی سفارشات تیار کی ہیں، ڈرائیورز کے لیے بھی میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو قابل ستائش ہے لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو پارہا۔ اس بات سے عوام بھی واقف ہیں کہ شہر کی سڑکوں پر ان فٹ گاڑیاں رواں دواں ہیں تو کیا متعلقہ ادارے کسی حادثے کے بعد ہی جاگیں گے۔
علاوہ ازیں جمعہ کو حیدرآباد میں ایم نائن موٹروے پر پچاس ہزار لیٹر ڈیزل سے بھرا ہوا آئل ٹینکر ٹریک سے کچے میں اترنے کے باعث الٹ گیا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ موٹروے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود رہیں اور حادثے کے مقام پر کسی کو بھی رکنے نہیں دیا گیا۔ اگر یہی ذمے داری احمد پور شرقیہ حادثے میں نبھائی جاتی تو اتنا بڑا سانحہ رونما نہیں ہوتا۔
بے شک اوگرا نے تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کے جائے وقوع کے دورے اور ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے، لیکن مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مزید سوال پیدا ہوئے ہیں، رپورٹ کے کئی پوائنٹس ایسے ہیں جنھوں نے دیگر متعلقہ اداروں کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان بنادیے ہیں۔
رپورٹ میں نکات پیش کیے گئے ہیں کہ ٹینکرز میں پٹرولیم رولز 1937 کی پیروی نہیں کی گئی، سی آئی ای لائسنس بھی نہیں تھا، ٹینکر 4 ایکسل کا تھا جب کہ 50 ہزار لیٹر ٹینکر کے لیے 5 یا 6 ایکسل کا ہونا ضروری ہے۔ کمپنی نے جو موٹر وہیکل ایگزامنر کا فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کیا وہ بھی جعلی نکلا۔ یہ تمام تر باتیں پاکستان میں ادارہ جاتی گنجلک مسائل، رشوت و کرپشن اور اداروں کی اپنے فرائض سے غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔ کیا موٹر وے پولیس پٹرولیم رولز اور سیفٹی آرڈیننس سے ناواقف تھی جو 4 ایکسل ٹینکر کو موٹر وے سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔ صرف ایک جانب توجہ مرکوز کرکے دیگر اداروں کی غفلت کو رپورٹ میں نظر انداز نہ کیا جائے۔
اوگرا کی رپورٹ میں ان تمام تر خامیوں کی نشاندہی کے بعد اتھارٹی نے مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے سیفٹی قوانین اور ریگولیشن کے مطابق ٹینکرز استعمال کرنے کی سفارشات تیار کی ہیں، ڈرائیورز کے لیے بھی میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو قابل ستائش ہے لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو پارہا۔ اس بات سے عوام بھی واقف ہیں کہ شہر کی سڑکوں پر ان فٹ گاڑیاں رواں دواں ہیں تو کیا متعلقہ ادارے کسی حادثے کے بعد ہی جاگیں گے۔
علاوہ ازیں جمعہ کو حیدرآباد میں ایم نائن موٹروے پر پچاس ہزار لیٹر ڈیزل سے بھرا ہوا آئل ٹینکر ٹریک سے کچے میں اترنے کے باعث الٹ گیا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ موٹروے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود رہیں اور حادثے کے مقام پر کسی کو بھی رکنے نہیں دیا گیا۔ اگر یہی ذمے داری احمد پور شرقیہ حادثے میں نبھائی جاتی تو اتنا بڑا سانحہ رونما نہیں ہوتا۔