مرغی کے گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری
پرائس فکسیشن کمیٹی اور پولٹری ایسوسی ایشن کی گٹھ جوڑ نے کنزیومر رائٹس کونسل کو صارفین کے حقوق کے تحفظ سے روک دیاہے۔
سندھ پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے زندہ مرغی اور گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت جاری ہے. فوٹو: آئی این پی/ فائل
ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی سربراہی میں قائم پولٹری پرائس فکسیئشن کمیٹی اب سندھ پولٹری ایسوسی ایشن کی حمایتی کمیٹی میں تبدیل ہو گئی ہے۔
جس کے بعد سندھ پولٹری ایسوسی ایشن نے زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پولٹری پرائس فکسیشن کمیٹی کے چیئرمین اور پولٹری ایسوسی ایشن کی گٹھ جوڑ نے صارفین کی نمائندگی کرنیوالی کنزیومر رائٹس کونسل کوغیر اعلانیہ طور پر دور کرکے صارفین کے حقوق کے تحفظ سے روک دیاہے۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ سال 2012 کے دوران سندھ پولٹری ایسوسی ایشن نے ناجائز منافع خوری کے لیے سال کے365دن میں سے 229دن قیمتوںکامن مانا تعین کیا جبکہ سال کے آغاز سے اب تک یومیہ بنیادوں پر مرغی کے گوشت کی قیمتوں کے من مانے تعین کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یومیہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
اس سے قبل ہفتہ میں دو دن زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا جس میں پولٹری پرائس فکسیشن کمیٹی کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ایسٹ کنزیومر رائٹس کونسل اور پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی شرکت لازمی قرار دی گئی ہے، تاہم گذشتہ ایک سال سے یومیہ بنیادوں پر یہ پریکٹس جاری ہے جس میں صرف چند دن ہی کنزیومر رائٹس کونسل کو نمائندگی کے لیے بلایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی میں کسی بھی ممبر کی عدم موجودگی کے باجود یومیہ بنیادوں پر باقاعدگی کے ساتھ لسٹوں کا اجراء غیر قانونی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سندھ پولٹری ایسوسی ایشن اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی رضامندی سے نکالے جانے والی ریٹ لسٹ دکانداروں کو فراہم نہیں کی جاتیں کیونکہ شہروں اور کچی آبادیوں کے درمیان قیمتوں کے فرق سے دکانداروں کی خرید و فروخت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
جس کے بعد سندھ پولٹری ایسوسی ایشن نے زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پولٹری پرائس فکسیشن کمیٹی کے چیئرمین اور پولٹری ایسوسی ایشن کی گٹھ جوڑ نے صارفین کی نمائندگی کرنیوالی کنزیومر رائٹس کونسل کوغیر اعلانیہ طور پر دور کرکے صارفین کے حقوق کے تحفظ سے روک دیاہے۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ سال 2012 کے دوران سندھ پولٹری ایسوسی ایشن نے ناجائز منافع خوری کے لیے سال کے365دن میں سے 229دن قیمتوںکامن مانا تعین کیا جبکہ سال کے آغاز سے اب تک یومیہ بنیادوں پر مرغی کے گوشت کی قیمتوں کے من مانے تعین کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یومیہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
اس سے قبل ہفتہ میں دو دن زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا جس میں پولٹری پرائس فکسیشن کمیٹی کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ایسٹ کنزیومر رائٹس کونسل اور پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی شرکت لازمی قرار دی گئی ہے، تاہم گذشتہ ایک سال سے یومیہ بنیادوں پر یہ پریکٹس جاری ہے جس میں صرف چند دن ہی کنزیومر رائٹس کونسل کو نمائندگی کے لیے بلایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی میں کسی بھی ممبر کی عدم موجودگی کے باجود یومیہ بنیادوں پر باقاعدگی کے ساتھ لسٹوں کا اجراء غیر قانونی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سندھ پولٹری ایسوسی ایشن اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی رضامندی سے نکالے جانے والی ریٹ لسٹ دکانداروں کو فراہم نہیں کی جاتیں کیونکہ شہروں اور کچی آبادیوں کے درمیان قیمتوں کے فرق سے دکانداروں کی خرید و فروخت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔