قوانین نرمی سے پاک بھارت تجارت بڑھ سکتی ہے امریکن فاؤنڈیشن
پابندیوں کے خاتمے سے پاک بھارت باہمی تجارت میں 20سے 50ارب ڈالر تک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، امریکی رپورٹ
پابندیاں اور محصول پاک بھارت تجارت میں اضافے۔کی راہ میں رکاوٹ ہے، امریکی تھنک ٹیکن کی رپورٹ۔ فوٹو: فائل
امریکی تھنک ٹینک نیو امریکن فاونڈیشن نے کہا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے مابین محصول اور دیگرضابطے کی کارروائیوں کو ختم کر دیا جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت میں کم از کم دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بات امریکا میں قائم ایک تھنک ٹینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے بھا رتی خبر رساں ادارے نے جاری کیا ہے۔ نیو امریکن فاونڈیشن کی اس رپورٹ کی بنیاد دو معروف معیشت دانوں کے تجزیاتی مقالے ہیں جن میں سے ایک اسکالر کا بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے تعلق ہے۔ تجزیات میں کہا گیا ہے کہ محصول اور دیگر پابندیوں کو ہٹانے کے اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں 20سے 50ارب ڈالر تک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت بی الترتیب دو اور ڈھائی ارب ڈالر کی سطح پر ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں سرگرمی لاکر پاکستان کی جیت بھی ہوگی اور ہار بھی لیکن اس کے باعث فراہم ہونے والے نئے مواقع سست روی کی شکار ملکی معیشت کے فروغ کے لیے بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں وسیع تر ہیں مثال کے طور پر انھوں نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ ازاد تجارت کے دروازے کھول کر پاکستان کی کار سازی اور ادویات بنانے والے شعبوں سے متعلق صنعتوں کو دھچکا لگے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو بھارت کی زیادہ جدید تر ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔
یہ بات امریکا میں قائم ایک تھنک ٹینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے بھا رتی خبر رساں ادارے نے جاری کیا ہے۔ نیو امریکن فاونڈیشن کی اس رپورٹ کی بنیاد دو معروف معیشت دانوں کے تجزیاتی مقالے ہیں جن میں سے ایک اسکالر کا بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے تعلق ہے۔ تجزیات میں کہا گیا ہے کہ محصول اور دیگر پابندیوں کو ہٹانے کے اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں 20سے 50ارب ڈالر تک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت بی الترتیب دو اور ڈھائی ارب ڈالر کی سطح پر ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں سرگرمی لاکر پاکستان کی جیت بھی ہوگی اور ہار بھی لیکن اس کے باعث فراہم ہونے والے نئے مواقع سست روی کی شکار ملکی معیشت کے فروغ کے لیے بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں وسیع تر ہیں مثال کے طور پر انھوں نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ ازاد تجارت کے دروازے کھول کر پاکستان کی کار سازی اور ادویات بنانے والے شعبوں سے متعلق صنعتوں کو دھچکا لگے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو بھارت کی زیادہ جدید تر ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔