کنٹرول لائن پر ایک بار پھر بھارتی جارحیت

مسئلہ صرف بھارتی گولہ باری اور فائرنگ کا نہیں اس سے شہریوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہو رہا ہے

مسئلہ صرف بھارتی گولہ باری اور فائرنگ کا نہیں اس سے شہریوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہو رہا ہے . فوٹو : آئی ایس پی آر

LONDON:
بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 خواتین سمیت 5 افراد شہید اور 9 زخمی ہوگئے جب کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا قابل مذمت اور یہ اقدام انسانیت ، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی سے متعلق قوانین کے خلاف ہے۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ 2003 ء کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے اور کنٹرول لائن پر امن برقرار رکھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ہفتہ کو کنٹرول لائن پر چڑی کوٹ اور ستوال سیکٹر میں شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

بھارتی فوج نے چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بڑے ہتھیار اور مارٹر بھی استعمال کیے تاہم پاک فوج کی جانب سے اس اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا گیا۔ ضلع پونچھ کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ ہفتے کی صبح 6 بجے شروع ہوا۔ ادھر تحریک آزادی کشمیر کو نیا رنگ دینے والے حریت کمانڈر برہان وانی شہیدکی پہلی برسی پر انھیں شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا، مقبوضہ و آزاد کشمیر اور ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

مقبوضہ کشمیر اور جموں میں مکمل ہڑتال کی گئی، حریت کانفرنس کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر پوری وادی اور جموں میں کاروبار زندگی معطل رہا، کشمیریوں نے قابض افواج کی مظاہرہ کرنے پرگولی مارنے کی دھمکی نظر اندازکردی اور شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہر شہر مظاہرے کیے، آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت مخالف ریلیاں نکالیں۔ بھارتی فوج نے اس موقع پر 21ہزار اضافی اہلکار تعینات کرکے مقبوضہ وادی کوکرفیو لگاکر چھاؤنی میں تبدیل کردیا، قابض فوج نے ترال میں برہان وانی شہید کی قبرکا محاصرہ کرکے اسے سیل کردیا۔


بھارتی فوج کی جانب سے سرحدوں کی بلاجواز اور بلااشتعال خلاف ورزی معمول بن چکی ہے' اس کا جب جی چاہتا ہے وہ سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ شروع کر دیتی ہے' پاکستانی حکومت کے بار بار احتجاج کرنے کے باوجود بھارتی حکومت نے کبھی اسے اہمیت نہیں دی' اب ایک بار پھر حسب روایت بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بلا کر احتجاج کیا گیا ہے لیکن بھارتی رویے کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ اس احتجاج کو بھی خاطر میں نہیں لائے گا اور سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر بھارت ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس کے اس پس منظر میں کیا مقاصد پوشیدہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین بھی سرحدوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاکستانی علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے چکے ہیں لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ اقوام متحدہ نے کبھی بھارتی جارحیت کی مذمت نہیں کی اور نہ بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے اس جارحانہ رویے سے باز آ جائے جب کہ اس کا یہ رویہ اقوام متحدہ کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

اس صورت حال کے تناظر میں جو تشویشناک پہلو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کو اس جارحانہ عمل سے کیسے روکا جائے۔ عوامی حلقے تو جذباتی انداز میں یہ کہتے ہیں کہ بھارتی فوج کو ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے کہ دوبارہ اسے جارحیت کرنے کی جرات نہ ہو، یہ تو عوامی جذبات ہیں مگر سفارتی سطح پر بھی پاکستان نے بھارتی جارحیت روکنے کے لیے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی' ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں بھرپور آواز اٹھانے کے علاوہ عالمی طاقتوں کے سفراء کو دعوت دیتا اور انھیں ساری صورت حال سے آگاہ کرتا مگر ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا بس روایتی انداز میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دے کر خود کو بری الذمہ تصور کر لیا جاتا ہے۔

مسئلہ صرف بھارتی گولہ باری اور فائرنگ کا نہیں اس سے شہریوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہو رہا ہے، بھارتی سرحد کے قریب رہنے والے شہریوں کی جان و مال کا کوئی تحفظ نہیں کیا جا رہا اور انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کو اس کے جارحانہ رویے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستانی حکومت عالمی سطح پر اس کے خلاف سخت موقف اختیار کرے اور سرحدوں پر کسی قسم کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے یا پھر دونوں ملک کوئی ایسا میکنزم بنائیں جس کے ذریعے کنٹرول لائن کے معاملات طے ہوجائیں۔

 
Load Next Story