جی 20 تنظیم اور طاقتور اقوام
ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان جو غیر معمولی ملاقات ہوئی ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان جو غیر معمولی ملاقات ہوئی ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے ۔ فوٹو : فائل
جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 سربراہ اجلاس کے شرکاء نے عالمی دہشتگردی کے خاتمے اورفنڈنگ روکنے پر اتفاق کیا گیا جب کہ امریکا ماحولیاتی آلودگی کے پیرس معاہدے کے کے خلاف ہی رہا۔ سربراہ اجلاس کے پہلے روز اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں رکن ممالک نے عالمی دہشتگردی کے خاتمے اور اس کی فنڈنگ روکنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں رکن ممالک نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔جی 20کے رکن ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ردعمل کو مزید موثر بنانے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے مزید اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ رکن ممالک نے زوردیا کہ سفری اور امیگریشن کے قوانین میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔
جی 20اجلاس کی اہمیت اس حوالے سے بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ملاقات 2 گھنٹے16منٹ تک جاری رہی، جس پر دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہنے پر اتفاق کیا۔
ادھر ہیمبرگ میں عالمگیریت کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جب کہ امریکی صدر کی موجودگی میں عوام نے شدید احتجاج، مشتعل مظاہرین نے پولیس کی کئی گاڑیاں نذر آتش کر دیں، پولیس نے عوام پر شدید آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جرمنی آمد پر مقامی مسلم کمیونٹی سمیت تارکین وطن نے ہزاروں کی تعداد میں امریکی صدر کے خلاف نعرے بازی۔ہیمبرگ میں جو کچھ ہوا 'اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اجلاس کی جو کارروائی سامنے آئی ہے اس سے یہی نظر آتا ہے کہ جی 20 تنظیم میں بھی طاقتور ممالک کی بالادستی ہے جب کہ دیگر ممالک اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیات کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ چلنے پر تیارنہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان جو غیر معمولی ملاقات ہوئی ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں طاقتیں عالمی امور میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ میڈیا میں یہی اطلاع آئی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
اب دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ شام اور عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے 'اس میں امریکا اور روس سب سے بڑے فریق ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ دونوں ملک جو کچھ کر رہے ہیں 'اس کے نتائج کا انھیں بخوبی علم ہے اور وہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ پالیسی کے تحت ہی کر رہے ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کی پالیسی میں مداخلت نہیں کر رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی معاملات میں امریکا اور روس ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کی ازسرنو تقسیم پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
عالمگیریت کا فائدہ بھی سب سے زیادہ انھی دونوں ملکوں کو ہے' ان کے بعد اس نظام سے سب سے زیادہ فائدہ جرمنی اور جاپان کو ہے یا پھر برطانیہ کو ہے۔ مغربی یورپ یا یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی شاید اتنا فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ اب چونکہ چین بھی ایک طاقتور ملک کے طور پر جی20میں شامل ہے' لہٰذا وہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس سارے منظر نامے میں مایوسی کا پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی ایک خاص حد سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے جی20ہو یا جی 8'ان تنظیموں کا فائدہ صرف اور صرف طاقتور ملکوں اور اقوام کو ہے۔
اعلامیے میں رکن ممالک نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔جی 20کے رکن ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ردعمل کو مزید موثر بنانے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے مزید اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ رکن ممالک نے زوردیا کہ سفری اور امیگریشن کے قوانین میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔
جی 20اجلاس کی اہمیت اس حوالے سے بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ملاقات 2 گھنٹے16منٹ تک جاری رہی، جس پر دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہنے پر اتفاق کیا۔
ادھر ہیمبرگ میں عالمگیریت کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جب کہ امریکی صدر کی موجودگی میں عوام نے شدید احتجاج، مشتعل مظاہرین نے پولیس کی کئی گاڑیاں نذر آتش کر دیں، پولیس نے عوام پر شدید آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جرمنی آمد پر مقامی مسلم کمیونٹی سمیت تارکین وطن نے ہزاروں کی تعداد میں امریکی صدر کے خلاف نعرے بازی۔ہیمبرگ میں جو کچھ ہوا 'اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اجلاس کی جو کارروائی سامنے آئی ہے اس سے یہی نظر آتا ہے کہ جی 20 تنظیم میں بھی طاقتور ممالک کی بالادستی ہے جب کہ دیگر ممالک اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیات کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ چلنے پر تیارنہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان جو غیر معمولی ملاقات ہوئی ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں طاقتیں عالمی امور میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ میڈیا میں یہی اطلاع آئی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
اب دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ شام اور عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے 'اس میں امریکا اور روس سب سے بڑے فریق ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ دونوں ملک جو کچھ کر رہے ہیں 'اس کے نتائج کا انھیں بخوبی علم ہے اور وہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ پالیسی کے تحت ہی کر رہے ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کی پالیسی میں مداخلت نہیں کر رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی معاملات میں امریکا اور روس ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کی ازسرنو تقسیم پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
عالمگیریت کا فائدہ بھی سب سے زیادہ انھی دونوں ملکوں کو ہے' ان کے بعد اس نظام سے سب سے زیادہ فائدہ جرمنی اور جاپان کو ہے یا پھر برطانیہ کو ہے۔ مغربی یورپ یا یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی شاید اتنا فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ اب چونکہ چین بھی ایک طاقتور ملک کے طور پر جی20میں شامل ہے' لہٰذا وہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس سارے منظر نامے میں مایوسی کا پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی ایک خاص حد سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے جی20ہو یا جی 8'ان تنظیموں کا فائدہ صرف اور صرف طاقتور ملکوں اور اقوام کو ہے۔