برطانیہ میں لادینیت نیا مذہب بننے لگا’’ لادینی چرچ‘‘ کی مقبولیت
انگلینڈ اور ویلز میں لادین افرادکی تعداد ایک کروڑ 41 لاکھ ہو چکی ہے،بی بی سی.
اس زندگی کیہر سیکنڈ سے لطف اٹھاؤ کیونکہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے، معتقدین. فوٹو: فائل
برطانیہ میں لادینیت بھی ایک مذہب بنتا جارہاہے ،نارتھ لندن میں 'لادینی چرچ' کافی مقبول ہو رہا ہے۔
اس چرچ میں جو بیان دیا جاتا ہے اس میں یہ پیغام نہیں ہوتا کہ ہم سب مرنے والے ہیں اور اور موت کے بعد کوئی دنیا نہیں ہے۔ بی بی سی کے مطابق اتوار کو جو چرچ سروس ہوئی وہ کوئی عام سروس نہیں تھی۔ایک ماہ قبل شروع ہونے والے اس چرچ کے منتظم سینڈرسن جونز ہیں۔ اس سروس میں تقریباً 300 افراد نے شرکت کی۔ان افراد کی اکثریت سفید فام، نوجوان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
سروس میں شریک لادینی افراد سٹیوی ونڈر اور کوئن کے گانوں پر جھومے۔ اس کے علاوہ ایلس دی ونڈرلینڈ کا مطالعہ کیا گیا اور فزیکس کے ماہر ڈاکٹر ہیری کلف نے پاور پوائنٹ بریفنگ دی۔ ان کا کہناتھاکہ یہ زندگی بہت چھوٹی ہے اس لیے ہر سیکنڈ سے لطف اٹھاؤ کیونکہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔انگلینڈ اور ویلز میں جن افراد نے اپنے آپ کو لادینی قرار دیا ہے ان کی تعداد اب ایک کروڑ 41 لاکھ ہو چکی ہے۔
اس چرچ میں جو بیان دیا جاتا ہے اس میں یہ پیغام نہیں ہوتا کہ ہم سب مرنے والے ہیں اور اور موت کے بعد کوئی دنیا نہیں ہے۔ بی بی سی کے مطابق اتوار کو جو چرچ سروس ہوئی وہ کوئی عام سروس نہیں تھی۔ایک ماہ قبل شروع ہونے والے اس چرچ کے منتظم سینڈرسن جونز ہیں۔ اس سروس میں تقریباً 300 افراد نے شرکت کی۔ان افراد کی اکثریت سفید فام، نوجوان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
سروس میں شریک لادینی افراد سٹیوی ونڈر اور کوئن کے گانوں پر جھومے۔ اس کے علاوہ ایلس دی ونڈرلینڈ کا مطالعہ کیا گیا اور فزیکس کے ماہر ڈاکٹر ہیری کلف نے پاور پوائنٹ بریفنگ دی۔ ان کا کہناتھاکہ یہ زندگی بہت چھوٹی ہے اس لیے ہر سیکنڈ سے لطف اٹھاؤ کیونکہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔انگلینڈ اور ویلز میں جن افراد نے اپنے آپ کو لادینی قرار دیا ہے ان کی تعداد اب ایک کروڑ 41 لاکھ ہو چکی ہے۔