بھارت نہ پاکستان کشمیری کوئی تیسرا فیصلہ کریں تو بھی اعتراض نہیں وزیراعظم

جلد فتح کا سورج طلوع ہو گا، بھارت پاکستان کا پانی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، پرویز اشرف کا خطاب

اسلام آباد :وزیراعظم راجا پرویز اشرف یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس اس وقت یہ صلاحیت نہیں کہ پاکستان کا پانی روک سکے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت جتنا حق ہے بھارت اتنا ہی پانی پانی استعمال کرسکتا ہے۔ کشمیری بھارت یا پاکستان کے ساتھ جانا چاہیں یا کوئیتیسرا فیصلہ کریں اس میں کسی کو کیا اعتراض ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرویز اشرف نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسا کوئی ڈیم نہیں جو پاکستان کا پانی روک لے، وہ جہاں ڈیم بنانے کی کوشش کرتا ہے، حکومت پاکستان اور بین الاقوامی قوانین حرکت میں آتے ہیں، کشمیر زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے نہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محض ایک تنازع، بلکہ یہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کشمیریوں کا معاملہ اور انسانی مسئلہ ہے۔

آن لائن کے مطابق پرویز اشرف نے کہا کشمیر پاکستان اور بھارت کیلیے تنازع اور امن کیلیے خطرہ ضرور ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ کروڑ لوگ اپنی مرضی اور پسند سے اپنی حکومت اور اپنی زندگی کا فیصلہ کریں اگر وہ اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ آنا چاہیں یا بھارت کے ساتھ یا کوئی اور فیصلہ کریں تو کسی کو کیا اعتراض ہے۔ ہم کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارت سے اچھے تعلقات اور تجارت کے خواہاں ہیں لیکن کشمیر کا مسئلہ سب سے اہم ہے، کشمیر میں جلد فتح کا سورج طلوع ہونیوالا ہے۔




ثنا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا بھارت کشمیر کے معاملے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے کشمیریوں کی مرضی اور منشاء کے بر خلاف فوجی قوت کے بل بوتے پر حکومت کی جا رہی ہے پاکستان کا بچہ بچہ اس انسانی مسئلے کے حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ ہے پاکستان کی حکومت پارلیمنٹ،کابینہ کشمیر کمیٹی کشمیریوں کی ہر قسم کی معاونت کیلیے کار بند رہیگی، کشمیریوں کو اپنی مرضی اور منشا کے عین مطابق زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے۔ تنازع سے پوری دنیا کا امن وابستہ ہے اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق رائے دہی کو تسلیم کیا ہے۔

کشمیر کے حوالے سے ہم سب کی منزل ایک ہی ہے بھارت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہں اور اس معاملے پر جامع مذاکرات کو آگے بڑھایا ہے بات چیت کی کامیابی کے لیے روابط قائم کرناپڑتے ہیں تاکہ کشیدگی کم ہو، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتے ہیں اور یہ کوئی ناجائز موقف نہیں ہے، آج دنیا امن کی متلاشی ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جب آزادی کیلیے کوئی قوم کمر بستہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت انھیں شکست نہیں دے سکتی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر منظور وٹو نے کہا کہ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، کشمیریوں کی اکثریت پاکستان سے الحاق چاہتی ہے، قومی کشمیر کمیٹی کے سربراہ فضل الرحمن نے کہا کہ تمام تر تاریخی نشیب و فراز کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکتے۔ اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا نوٹس لے اور بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا پابند بنایا جائے۔ بھارت کشمیری دریائوں پر ڈیم بنا کر پانی روک رہا ہے جس سے زراعت اور صنعت تباہ ہو جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story