عراقی فوج کا موصل پر قبضہ

داعش نے جون 2014ء میں موصل پر قبضہ کیا

داعش نے جون 2014ء میں موصل پر قبضہ کیا : فوٹو/اے ایف پی/فائل

LONDON:
عراقی فوج ایک طویل جنگ کے بعد داعش کے آخری گڑھ موصل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی اور حکومت کی جانب سے باضابطہ فتح کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح موصل میں قائم ابوبکر البغدادی کی قائم کردہ خود ساختہ خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔ داعش نے جون 2014ء میں موصل پر قبضہ کیا جس کے بعد اس نے آگے بڑھتے ہوئے عراق اور شام کے دوسرے علاقوں پر بھی قبضہ کر کے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا اور ابوبکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا گیا۔ عراقی افواج پچھلے سال اکتوبر سے موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے پوری کوشش کر رہی تھی، اس مشن کے لیے اسے امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل رہی' عراقی فوج کو داعش سے لڑائی میں مسلسل نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا' اب 9ماہ کی مسلسل لڑائی کے بعد عراقی فوج داعش کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی' موصل سے فرار ہو کر دریائے فرات عبور کرنے کی کوشش کرنے والے داعش کے 30جنگجو لڑائی میں مارے گئے۔


1258ء میں منگول حاکم ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا اب جون 2016ء میں داعش نے موصل پر قبضے کے بعد ہلاکو خان ہی کے کردار کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے موصل میں تاریخی عمارات' عجائب گھروں اور لائبریریوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ مقدس مقامات کو بھی نہ بخشا' انھوں نے آثار قدیمہ کو بھی مٹانا شروع کر دیا اس طرح موصل کے تاریخی آثار صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ موصل تیل سے مالا مال شہر ہے جو عراق، شام اور ترکی کے درمیان ایک بڑا تجارتی ہب بھی کہلاتا ہے۔

داعش نے موصل پر قبضے کے بعد تیل کی تجارت سے دولت حاصل کرنا شروع کی اس طرح انھوں نے دیگر علاقوں میں بھی اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی شروع کر دی۔ داعش کی تحریک سے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے اور وہاں سے بھی نوجوانوں کی ایک تعداد داعش میں شمولیت اختیار کرنے لگی اس طرح داعش کا دائرہ عراق اور شام سے نکل کر افغانستان تک پھیلنے لگا۔ سعودی عرب' ترکی اور دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمے داری بھی داعش نے قبول کی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ داعش نے مسلمان ممالک ہی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں اور انھیں نقصان پہنچایا۔ اب موصل میں داعش کا آخری مضبوط گڑھ تو ختم ہو گیا لیکن دیگر علاقوں میں یہ تنظیم موجود ہے جس کے خلاف ابھی ایک طویل جنگ لڑنا باقی ہے۔
Load Next Story