جے آئی ٹی رپورٹ خدشات و توقعات

عدلیہ کی آزادی پر ان کے گہرے اور غیر متزلزل یقین کا اس سے بڑا اور کوئی فیصلہ کن مرحلہ نہیں آسکتا

عدلیہ کی آزادی پر ان کے گہرے اور غیر متزلزل یقین کا اس سے بڑا اور کوئی فیصلہ کن مرحلہ نہیں آسکتا . فوٹو : ایکسپریس نیوز

KARACHI:
سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے پیر کو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کیس کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ کے3 رکنی خصوصی بینچ کو پیش کردی ہے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا جب کہ ملک بھر کے عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہیں ۔

ماہرین قانون ، تجزیہ کار، سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کیس کے اہم فریقین ممکنہ فیصلہ کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کررہے ہیں وہ در حقیقت پاناما لیکس کیس کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کی بند مٹھی کے کھلنے کے انتظار کی ایک شدت آمیز سیمابی کیفیت ہے جو بعض قانونی حلقوں کی سنجیدہ آراء کے تناظر میں ملکی سیاست میں ایک تاریخ ساز فیصلے پر منتج ہوگی اور جس کے نتیجہ میں خدا کرے قانون کی حکمرانی کے ایک دیرینہ اور بیش قیمت خواب کی گمشدہ تعبیر بھی جڑی ہوئی ہونی چاہیے جب جا کر جے آئی ٹی کی مسلمہ شفاف تحقیقاتی رپورٹ پر قوم صاد کریگی ، فیصلہ جو بھی آئے اس سے پہلے یا بعد میں سیاسی ارتعاش کے بجائے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ پاناماکیس سے جڑی سیاسی تقدیر کو سیاستدان ماضی کے دردناک آمرانہ تجربوں کے سیاق وسباق میں اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، کسی مہم جوئی اور جارحانہ سیاسی پیش قدمی سے بوجوہ گریز پائی ہی ملکی جمہوری نظام کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رکھ سکے گی، ورنہ ایسے ابن الوقت دشمنوں کی کوئی کمی نہیں جو سیاسی انارکی سے فائدہ نہ اٹھائیں، اس لیے عدالتی اختیار اور ممکنہ عدالتی فیصلہ کو خندہ پیشانی ، کشادہ دلی اور جمہوری جذبہ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت آج بھی رہے گی اور کل بھی ، تاکہ پیدا شدہ ہر قسم کی سیاسی صورتحال کو قانونی و آئینی حدود میں رکھنے کی سیاسی کوششوں میں کوئی طاقت کنفیوژن پیدا نہ کرسکے۔


اگرچہ آزاد عدلیہ کی طرح آزادی صحافت بھی تحقیقاتی رپورٹنگ کے حوالہ سے سیاسی حقائق کی چھان بین میں پیچھے نہیں رہ سکتی، تاہم میڈیا کو بھی ان امور اور ایشوز پر عوامی جذبات اور سیاسی درجہ حرارت کو مد نظر رکھنا چاہیے جو امور کہ عدالت میں زیر سماعت ہوں، بلاشبہ جے آئی ٹی کے حوالے سے غیرروایتی خبروں کا تانتا بندھا رہا،اس کوشش میں عدلیہ اور جے آئی ٹی کے صبر کو بھی کئی بار آزمایا گیا مگر اب گیند عدلیہ کی کورٹ میں ہے جب کہ پانامالیکس کیس کے فیصلے سے ہی اس حقیقت پر سے پردہ ہٹے گا کہ ملکی جمہوریت رواداری، بلوغت ، بصیرت اور معاملہ فہمی کی متاع بے بہا سے کتنی سرفراز اور ''شاک پروف''ہے۔عدلیہ و صحافت نے مل کر جمہوریت کو شفافیت اور حکمرانی کو دائمی کرپشن سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، یہ ان کی پیشہ ورانہ ذمے داری اور قومی مشن ہے، اس میں کسی سیاسی مصلحت سے دوطرفہ آزادی کے موجودہ اصولی موقف کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ حکومتی بد انتظامی کی خبریں دینا فری پریس کا دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں بنیادی وطیرہ ہے، اس لیے پاناما کیس سے جڑے خدشات کو حقیقت میں بدلنے والی غیر جمہوری قوتوں کا راستہ سیاسی جماعتیں ہی اپنے طرز عمل سے ہی روک سکتی ہیں،ٹکراؤ سے گریز وقت کا تقاضہ ہے۔ قومی سیاست کے ضمیر کو فریب دینے کا کسی کو کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک غیر ملکی فرم کے انکشافات پر ملک کے منتخب وزیراعظم اور ان کے خانوادہ کے اثاثوں اور طرز حکمرانی پر سوال اٹھایا گیا اور اسی کی تحقیقات پر عدالت عظمیٰ مامور ہے، اب ایک فیصلہ عدلیہ کو کرنا ہے اور دوسرا تاریخ کو، چنانچہ اہل سیاست جن میں ن لیگ اور تحریک انصاف سمیت دیگرموقر سیاسی جماعتیں اس قومی آزمائش میں توجہ کا مرکز ہیں ، جنہیں فیصلے کے بعد کی امتحانی صورتحال کو سنبھالنا بھی ہے، فیصلہ عدلیہ کا ہوگا ، کوئی آفت سماوی یا تباہی کا طبل نہیں بجنے والا، سیاسی جماعتوں نے تحفظات اور اخباری بیانات کے باوجود انتہائی تحمل کے ساتھ جے آئی ٹی کو کام کرنے دیا ، تحقیقاتی ٹیم نے محنت سے تفتیش میں تسلسل جاری و قائم رکھا، تفتیش سے متعلق شکایات اور تضادات کا معاملہ عدلیہ کے پیش نظر رہے گا ، جمہوریت کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے اور کسی بھی ممکنہ فیصلے کی روشنی میں ملکی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پانامالیکس کیس کے تہلکہ خیز سلسلہ کے اہم کرداروں کے سیاسی وژن کا امتحان ہوگا ۔

عدلیہ کی آزادی پر ان کے گہرے اور غیر متزلزل یقین کا اس سے بڑا اور کوئی فیصلہ کن مرحلہ نہیں آسکتا۔ عدلیہ کیس کے پیش کردہ و دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایک عہد آفریں فیصلہ سنائے گی اور اس سے بھی بڑا ملین ڈالر سوال پاناما لیکس کیس کے اہم سیاسی فریقین کے سیاسی تدبر کے بارے میں ہے کہ کیا وہ عدلیہ کے فیصلہ پر صبر و تحمل، سیاسی بصیرت اور جمہوری اسپرٹ کی آزمائش میں پورا اترنے کے لیے تیار ہیں؟ ادراک کیجیے کہ اس وقت جمہوریت کے غیر مشروط دفاع کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ ٹکراؤ سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔
Load Next Story