ضمنی انتخابات بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ

حالیہ ضمنی انتخابات ظاہر کررہے ہیں کہ شہر قائد کے اسٹیک ہولڈر اورمضبوط جماعتوں کےبرسوں سےجاری نتائج بدل رہےہیں

حالیہ ضمنی انتخابات ظاہر کررہے ہیں کہ شہر قائد کے اسٹیک ہولڈر اورمضبوط جماعتوں کےبرسوں سےجاری نتائج بدل رہےہیں . فوٹو : فائل

سیاست میں جوڑ توڑ ، قبل از انتخابات کامیابی کے دعوے اور مہمات معمول کا حصہ ہیں لیکن اصل نتائج سیاسی دنگل سجنے کے بعد ہی واضح ہوتے ہیں، اور اتوار کو کراچی میں پی ایس 114 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج نے سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ کاروں کو حیران کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پی ایس 114 سے پہلی بار کامیابی لے کر تاریخی طور پر اپ سیٹ کیا ہے، ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی نے 23 ہزار 840 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی۔ واضح رہے کہ 1988 سے 2013 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے اس حلقے سے کبھی کامیابی حاصل نہیں کی، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے ماضی میں اس حلقے سے 3500 سے زائد ووٹ حاصل نہیں کیے، اس لیے اتنے بڑے مارجن سے کامیابی کو پیپلز پارٹی کی تیزی سے بڑھتی غیر مقبولیت میں بہتری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، کیونکہ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر کے حلقہ جی بی 4 میں بھی پیپلز پارٹی کے جاوید حسین کامیاب رہے ہیں۔


کراچی میں پی ایس 114 میں دوسری پوزیشن پر ایم کیو ایم پاکستان کے کامران ٹیسوری 18 ہزار 106 ووٹ حاصل کرپائے۔ ایم کیو ایم لندن نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا، جب کہ ن لیگ تیسرے اور تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہی۔ انتخابات کا ٹرن آؤٹ 32 فیصد رہا۔ الیکشن کے دوران متعدد مقامات پر سیاسی کارکنوں میں تصادم اور جھگڑے کے واقعات قابل افسوس ہیں جس کے باعث پولنگ کا عمل بھی کچھ وقت کے لیے روکنا پڑا۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت پر بھی دھیان مرکوز کرنا چاہیے۔

حالیہ ضمنی انتخابات ظاہر کررہے ہیں کہ شہر قائد کے اسٹیک ہولڈر اور مضبوط جماعتوں کے برسوں سے جاری نتائج بدل رہے ہیں، اس بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامہ کی اصل وجوہات اور قائدین کو اپنی سیاسی جماعتوں کی عوام میں پذیرائی یا غیر مقبولیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ وقت بدل چکا ہے، عوام کا سیاسی شعور بیدار ہے، وہ چہروں یا ناموں کی جگہ اپنے مسائل کو حل کرنے والی شخصیات کے منتظر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا، اب وہی جماعت کامیاب ہوگی جو عوام کے دل میں جگہ بنا پائے گی۔ شہر قائد سمیت ملک کے تمام ہی چھوٹے بڑے شہر بدانتظامی کا شکار ہیں، مسائل اس قدر گنجلک ہوچکے ہیں کہ از سر نو ہر سیٹ اپ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ صائب ہوگا کہ سیاسی جماعتیں عوام کی دادرسی کریں۔
Load Next Story