شہر میں ٹریفک انجینئرنگ اور ماس ٹرانزٹ بس روٹس پر توجہ دیں گے میئر کراچی

کراچی اربن موبیلٹی پروجیکٹ کے لیے عالمی بینک کے ماہرین کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا،وسیم اختر کی اجلاس میں گفتگو

2 ہفتے کے دورے میں بی آرٹی بس روٹس،ٹریفک سگنل نظام اورپبلک ٹرانسپورٹ،بس روٹس،ڈرائیونگ پرتحقیق کریں گے،تھیری ڈیزولز۔ فوٹو: فائل

میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے لیے کراچی کا ٹرانسپورٹ نظام بڑا چیلنج ہے، شہریوں کو سہولت پہنچانے کے لیے ٹریفک انجینئرنگ ،ماس ٹرانزٹ بس روٹس، پارکنگ سمیت مختلف شعبوں پر فوری توجہ دینا ہوگی۔

میئر کراچی وسیم اختر نے گزشتہ روز کراچی اربن موبیلٹی پروجیکٹ نشاندہی مشن کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد کو کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام پر بریفنگ دی گئی، میئر نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے کوئی بھی پروجیکٹ آئے ہم اس میں مکمل تعاون کریں گے منصوبے پر کام کرنے سے پہلے شہر کی ڈائنامکس کو پیش نظر رکھنا ہوگا ورلڈ بینک کے ماہرین کو شہر میں ٹرانسپورٹ نظام کے متعلق تفصیل فراہم کریں گے۔


ورلڈ بینک کے سینئر ٹرانسپورٹ اسپیشلسٹ تھیری ڈیزولز اور نمائندوں نے کہا کہ ان کے پروجیکٹ میں میئر کراچی اور ان کی ٹیم سے مشاورت اور رہنمائی کو کلیدی حیثیت حاصل رہے گی 2 ہفتے کے دورے میں ہماری زیادہ توجہ بی آر ٹی بس روٹس کے اطراف چلنے والے دیگر بس روٹس پر رہے گی جبکہ ٹریفک سگنلز کے نظام اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری پر بھی کام کیا جائے گا۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری کے لیے مقامی ٹرانسپورٹ کلچر، بس روٹس، ڈرائیونگ سمیت تمام پہلوؤں پر مکمل تحقیق کی جائے گی جس کی سفارشات کی روشنی میں ماہرین کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کو موثر بنانے کے لیے پروجیکٹ تیار کریں گے۔

وسیم اختر نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ہمارے ہاں نظر انداز کیا گیا شعبہ ہے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے حکومتی سبسڈی کی ضرورت ہوتی ہے کراچی میں اب تک کوئی جامع اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام نہ بن سکا۔
Load Next Story