بلوچستان میں اعلیٰ پولیس افسرکی خود کش حملے میں شہادت

صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم نواز شریف‘ گورنر‘ وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر رہنماؤں نے بھی چمن دھماکے کی مذمت کی

صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم نواز شریف‘ گورنر‘ وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر رہنماؤں نے بھی چمن دھماکے کی مذمت کی ۔ فوٹو : فائل

بلوچستان کے علاقہ چمن میں افغان سرحد کے قریب خود کش حملہ میں ڈی پی او قلعہ عبداللہ' ساجد خان مہمند سمیت تین افراد شہید اور 11زخمی ہو گئے' ادھر کرم ایجنسی میں بھی بارودی سرنگ دھماکے سے ایف سی کے 3اہلکار شہید اور 5زخمی ہوئے۔

صدر ممنون حسین' وزیراعظم نواز شریف' گورنر' وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر رہنماؤں نے بھی چمن دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے شہید پولیس آفیسر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے' دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آج بھی پرعزم ہیں۔

یہ خود کش حملہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک تاحال موجود' مضبوط اور متحرک ہے اور وہ سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلا رہا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا ایک مقصد عوام میں بھی عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔

تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گردوں کی بڑی تعداد بلوچستان کو اپنی آماجگاہ بنائے ہوئے ہے جنھیں مقامی افرادکے علاوہ سرحد پار دہشت گردوں اور ایجنسیوں کی آشیر باد حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام تر سیکیورٹی انتظامات کے باوجود دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس چھپے ہوئے اور بے چہرہ دشمن سے مقابلہ آسان نہیں کیونکہ اس کی شناخت نہ ہونے کے باعث وہ قانون کی گرفت میں نہیں آ رہا۔


اس دشمن سے مقابلہ کے لیے ناگزیر ہے کہ مقامی افراد میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ معاشرے کو پرامن بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان کا تعاون اہمیت کا حامل ہے' مقامی افراد ہی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو بہتر معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ دہشت گردوں اور غیرملکی ایجنسیوں کی بھرپور کوشش ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے مسائل پیدا کیے جائیں تاکہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سی پیک کے باعث غیرملکی ایجنسیاں بلوچستان کو خصوصی طور پر نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس طرح فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اسی طرح کا ایک وسیع پیمانے پر آپریشن بلوچستان میں بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان سرحد پر نگرانی کا نظام موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔ افغان سرحد پر سیکیورٹی کا فول پروف نظام ہی دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے جن سرحدی علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں یا وہ دراندازی کر کے داخل ہوتے ہیں' ان علاقوں کو نصف صدی سے زائد عرصے تک مادر پدر آزاد چھوڑ دیا گیا' فاٹا میں انگریز عہد میں جو قانون بنایا گیا تھا' اس پر بھی عملدرآمد ختم کر دیا گیا' اسی طرح بلوچستان کے وہ علاقے جن کی سرحد افغانستان اور ایران سے ملتی ہے' ان پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی' یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گرد اور اسمگلرز با آسانی آمدورفت کرتے رہے' اس کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی یہاں سے افغانستان اور ایران با آسانی آتے جاتے رہے۔

پاکستان کی ریاستی رٹ نہ ہونے کی بنا پر یہاں طاقتور قبائلی سرداروں کا اثرورسوخ رہا' افغان جنگ کے دوران یہاں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کے باشندوں کی بڑی تعداد بھی آ گئی اور ان کے ساتھ وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی لوگ آ کر رہنے لگے' یہ سب کچھ افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے کیا گیا' اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے لہٰذا تبدیل شدہ صورت حال میں حالات کے مطابق اقدامات کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ اب پاکستان ان علاقوں میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جس سے یہاں ریاستی رٹ بتدریج قائم ہو رہی ہے اور دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں تاہم حکومت کو ابھی یہاں مزید اقدامات کرنا ہوں گے' ان علاقوں میں صدیوں پرانا قبائلی نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ان علاقوں کو آئین پاکستان اور ریاستی اداروں اور قوانین کے زیر تحت لایا جائے' اس طریقے سے ہی یہاں دہشت گردی کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہو سکتا ہے۔
Load Next Story