سچ کی تلاش کا عدالتی منظر نامہ

عمران خان کا سیاسی موقف ہے کہ نواز و شہباز شریف اور اسپیکر ایاز صادق بھی مستعفیٰ ہوں

قوم کو یہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ پاناما کیس اقتدار پر قبضہ کی لڑائی نہیں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جمہوری اور عدالتی کوشش ہے . فوٹو: فائل

پیر کو جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی پاناما کیس عملدرآمد بینچ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے10جلدوں پر مشتمل وہ حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی جو ملکی تاریخ میں حکمرانوں کی جوابدہی اور ان کی طرز حکمرانی میں مضمر خرابیوں کی تفتیش کا آغاز ہے ، ثبوتوں کے دو کارٹن جن پر '' ایویڈنس'' درج تھا ہینڈ ٹرالیوں میں اندر لائے گئے، ساتھ ہی رپورٹ میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی کہ رپورٹ کی دسویں جلد کو عام نہ کیا جائے۔

عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ یہ جلد دیگر ممالک کے ساتھ باہمی قانونی تعاون سے متعلق دستاویزات پر مشتمل ہے اور معاملے کی مزید تفتیش میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ عدالت نے یہ استدعا منظور کر لی۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے خلاف تمام حکومتی رہنماؤں کے بیانات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی امورآئی ایس آئی کے حوالے کرنے سے متعلق متنازعہ خبر شایع کرنے اور پاناما بینچ کے فاضل جج کو فون کرنے پر ایک روزنامہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب طلب کر لیا۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پاناما لیکس کیس اور جے ٹی آئی کی رپورٹ کے مضمرات ملکی سیاست کے لیے نہ صرف جمود شکن ثابت ہوئے بلکہ پہلی بار عوام اور حکمرانوں پر یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ بالادستی کے سیاسی عمل میں آزاد عدلیہ ہی وہ فیکٹر ہے جو سیاسی نظام کی رگوں سے بدعنوانی کا زہر نکالنے اور طرز حکمرانی کو شفافیت عطا کرنے کی کلیدی حیثیت کی حامل ہے اور اس کے فیصلہ کی تمام سیاسی جماعتیں، ان کے رہنما اور حکمراں تسلیم کرنے کے پابند ہیں جب کہ ملکی سیاست میں یہ ایک بریک تھرو ہے کہ تمام تر تحفظات کے باوجود کیس کے فریقین، مین اسٹریم سیاسی جماعتیں اور پوری سول سوسائٹی عدالتی فیصلہ کی منتظر ہیں۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں اس عزم کو دہرایا گیا کہ ملکی مفاد میں کی جانے والی مثبت کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ فرانس کے سیاسی مفکر الیکسز ڈی تاکویل نے کہا تھا کہ امریکا میں بمشکل کوئی سیاسی سوال ایسا ہوتا ہے جو جلد یا بدیر عدالتی معاملہ نہ بنتا ہو،اس تناظر میں پاناما کیس کو بھی بعض سیاسی و قانون ماہرین نے سیاسی قراردیا جب کہ بعض نے اسے کرپشن کے خاتمہ کے خلاف ایک ٹھوس مقدمہ اور پیش رفت کے اعتبار سے پیراڈائم شفٹ سے تعبیر کیا ہے، کیس اور جے آئی ٹی رپورٹ نے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تہلکہ خیز ارتعاش پیدا کیا ہے اور اس کا فال آؤٹ سیاسی مضمرات سے لبریز بھی ہوسکتا ہے۔

منگل کو وزیراعظم کی زیر سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنے اجلاس میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکمت عملی اور لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے مشورے کیے۔

عمران خان کا سیاسی موقف ہے کہ نواز و شہباز شریف اور اسپیکر ایاز صادق بھی مستعفیٰ ہوں، ن لیگ نے رپورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، نواز شریف نے بیگناہی کا دعوی کیا ہے، جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا کہنا ہے کہ وہ سچ کی تلاش میں کامیاب ہوئے ہیں۔


قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ حرف آخر نہیں، ادھر جے آئی رپورٹ نے انکشافات کے انبار لگادیے ہیں، سپریم کورٹ نے حکم پر چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے، نیب نے وضاحت جاری کی کہ اثاثہ جات ریفرنس میں گرفتاری ضروری نہیں پوچھ گچھ ہوتی ہے۔

بلاشبہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا رہن سہن ان کی معلوم آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

چشم کشا بات یہ ہے کہ اس اہم اور غیر معمولی کیس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کو کرنا ہے، پاناما کیس کی قانونی جنگ آئینی دائرہ کار میں رہے جب کہ سیاسی کشمکش سے مسائل کو پیچیدہ بنانے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے۔

عدالت نے فریقین کو رپورٹ کے مطالعے کے بعد جواب جمع کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد کیس چلے گا ، قانونی پروسس کو راستہ ملنا چاہیے، عدالت میں وکلا دلائل دیں گے، اور جرح کے مراحل سے گزرتے ہوئے عدلیہ اپنا فیصلہ سنائے گی، اس عرصہ محشر کو حسن تدبر سے گزارنا جمہوریت پر سیاسی جماعتوں کے غیر متزلزل یقین سے مشروط ہوگا۔

قوم کو یہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ پاناما کیس اقتدار پر قبضہ کی لڑائی نہیں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جمہوری اور عدالتی کوشش ہے، عدلیہ کو اپنے فیصلہ کی ایسی تاریخ ساز اور بے مثال نظیر پیش کرنی ہے جو آیندہ کئی برسوں تک عدالتوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے، اور صدیوں تلک پاناما کیس کے گونج سنائی دیتی رہے، اسے ایسا اک شفاف ریفرنس کیس بننا چاہیے۔

 
Load Next Story