داعش کے سربراہ کی ہلاکت

عراقی اور روسی نیوز ایجنسیوں نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

عراقی اور روسی نیوز ایجنسیوں نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔ فوٹو: فائل

عراقی اور روسی نیوز ایجنسیوں نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی لڑاکا طیاروں نے 28 مئی کو ابوبکر البغدادی کو 30لیڈروں اور 300جنگجوؤں کے ہمراہ شام کے شہر رقہ میں نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ان کی ہلاکت سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آ رہی تھیں تاہم اب روسی خبر رساں ایجنسی نے داعش کے حوالے سے ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد نئے امیر کے نام پر مشاورت کی جا رہی ہے۔


دو تین روز پیشتر عراقی فوج نے ایک طویل جنگ کے بعد داعش کے آخری گڑھ موصل پر قبضہ کر لیا جس کے بعد وہاں قائم ابوبکر البغدادی کی نام نہاد خلافت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ داعش نے جون 2014ء میں موصل پر قبضہ کیا جس کے بعد اس نے آگے بڑھتے ہوئے عراق اور شام کے دوسرے علاقوں پر بھی اپنا تسلط جما لیا۔ بغدادی نے 2014ء میں موصل کی ایک مسجد میں اپنی خلافت کا اعلان کیا۔ اب جہاں اس کی ہلاکت کے بعد داعش کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے وہاں موصل بھی ہاتھ سے نکلنے کے بعد اس تنظیم کے زیرتسلط علاقے سکڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

تاہم البغدادی کی ہلاکت کے بعد داعش ختم نہیں ہوئی بلکہ اب وہ اپنے نئے امیر کے انتخاب پر مشاورت کر رہی ہے' دیکھنا یہ ہے کہ نیا امیر اس دہشت گرد تنظیم کی تجدید نو کیسے کرتا ہے کیونکہ عراق میں ابھی اس کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض امریکی عہدیدار عراقی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ دولت اسلامیہ کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے خاص طور پر سنی برادری سے بات چیت کرے۔ داعش کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی ایک طویل جنگ لڑنا باقی ہے جس کے لیے داعش سے برسرپیکار قوتوں کو بہتر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story