کوئٹہ میں دہشتگردی کی واردات
یہ وارننگ الارم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
خط کے مندرجات کے مطابق دہشتگردی پھیلانے کے لیے تین دہشت گردوں کو تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل
کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت جو ایک طویل عرصے سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، اگرچہ امن وامان کی صورتحال میں خاصی بہتری آئی ہے لیکن اب بھی دہشت گرد چھپ کر وارکرنے سے باز نہیں آرہے۔ تازہ ترین واقعے میں کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی دیبہ کے قریب نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق جب کہ ایس پی قائد آباد سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے، بعد ازاں طبی امداد کے دوران ایس پی سمیت مزید دو اہلکاردم توڑ گئے۔
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردوں نے ہٹ اینڈ رن کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ جہاں پولیس افسر سمیت اہلکاروں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کیا ہے ، وہ یقیناً قابل ستائش وباعث فخر ہے، وہی اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ابھی بھی سیکیورٹی نظام میں موجود خامیاں دور کرنے اور ایک فول پروف نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوسکیں۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی اورکوئٹہ میں قائم جیلوں، حساس مقامات وتنصیبات اور سرکاری اداروں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بڑی دہشتگردی کے منصوبہ بندی کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو مذکورہ حساس مقامات پر سیکیورٹی سخت کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ دہشتگرد کراچی اور کوئٹہ میں قائم جیلوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ وارننگ الارم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، چونکہ پہلے بھی ایسی رپورٹس اخبارات میں شایع ہوتی رہی ہیں اور دہشتگرد اپنے ہدف کو باآسانی نشانہ بنانے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ پہلے ہی کراچی کے سینٹرل جیل سے کالعدم تحریک طالبان کے دوقیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جوکہ سیکیورٹی لیپس ہے،خط کے مندرجات کے مطابق دہشتگردی پھیلانے کے لیے تین دہشت گردوں کو تیار کیا گیا ہے ، دہشتگرد باردو سے بھری گاڑی کے ذریعے حساس مقامات و تنصیبات اور سرکاری دفاتر پر حملہ کرسکتے ہیں ۔
جب خطرے کا الارم پہلے سے بج رہا ہو توحفاظتی نظام کا ایک ایسا میکنزم وجود میں آجانا چاہیے جس کے ذریعے قبل از وقت ایسے مجرمانہ منصوبوں کی بیخ کنی کی جاسکے اور انھیں بروقت گرفتار کر کے قانون کے شکنجے میں لایا جاسکے ۔ بہرحال سیکیورٹی اداروں کو ایسے حساس نوعیت کے معاملات کو انتہائی سرعت اور فول پروف سیکیورٹی کے نظام کے تحت ناکام بنانا چاہیے تاکہ ملک اورعوام جانی ومالی نقصان سے محفوظ رہیں۔
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردوں نے ہٹ اینڈ رن کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ جہاں پولیس افسر سمیت اہلکاروں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کیا ہے ، وہ یقیناً قابل ستائش وباعث فخر ہے، وہی اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ابھی بھی سیکیورٹی نظام میں موجود خامیاں دور کرنے اور ایک فول پروف نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوسکیں۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی اورکوئٹہ میں قائم جیلوں، حساس مقامات وتنصیبات اور سرکاری اداروں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بڑی دہشتگردی کے منصوبہ بندی کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو مذکورہ حساس مقامات پر سیکیورٹی سخت کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ دہشتگرد کراچی اور کوئٹہ میں قائم جیلوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ وارننگ الارم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، چونکہ پہلے بھی ایسی رپورٹس اخبارات میں شایع ہوتی رہی ہیں اور دہشتگرد اپنے ہدف کو باآسانی نشانہ بنانے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ پہلے ہی کراچی کے سینٹرل جیل سے کالعدم تحریک طالبان کے دوقیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جوکہ سیکیورٹی لیپس ہے،خط کے مندرجات کے مطابق دہشتگردی پھیلانے کے لیے تین دہشت گردوں کو تیار کیا گیا ہے ، دہشتگرد باردو سے بھری گاڑی کے ذریعے حساس مقامات و تنصیبات اور سرکاری دفاتر پر حملہ کرسکتے ہیں ۔
جب خطرے کا الارم پہلے سے بج رہا ہو توحفاظتی نظام کا ایک ایسا میکنزم وجود میں آجانا چاہیے جس کے ذریعے قبل از وقت ایسے مجرمانہ منصوبوں کی بیخ کنی کی جاسکے اور انھیں بروقت گرفتار کر کے قانون کے شکنجے میں لایا جاسکے ۔ بہرحال سیکیورٹی اداروں کو ایسے حساس نوعیت کے معاملات کو انتہائی سرعت اور فول پروف سیکیورٹی کے نظام کے تحت ناکام بنانا چاہیے تاکہ ملک اورعوام جانی ومالی نقصان سے محفوظ رہیں۔