بھتہ خوری سے الیکٹرانک مارکیٹ ٹھپ ہوگئی تحفظ کیلیے تاجروں کا حکومت کو خط

کاروبار سمیٹنے پر مجبور ہیں،الیکٹرانک ڈیلرز کے صدر محمد ادریس میمن

پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے تمام ادارے بے بس ہوچکے ہیں جبکہ حکومت جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ فوٹو: فائل

ملک کی سب سے بڑی کراچی الیکٹرانکس مارکیٹ میں کاروبار امن و امان کی ابتری اور بھتہ خوری کے سبب ٹھپ ہوگیا۔

آئے روز بھتے کی پرچیوں اور دھمکیوں کے سبب الیکٹرانک مارکیٹ کے تاجر اپنا کاروبار سمیٹنے پر مجبور ہوگئے، کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ ، ڈی جی رینجرز سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو ہنگامی خطوط کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ملک کے اہم تجارتی مرکز کو تباہی اور لاکھوں افراد کے روزگار پر چھائے خطرات دور کرنے تاجروں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دادرسی کی اپیل کردی ہے۔

کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد ادریس میمن کے مطابق پریڈی کے علاقے ریگل، عبداللہ ہارون روڈ اور اطراف کی دیگر مارکیٹوں کے دکانداروں پر براہ راست فائرنگ، بم حملوں اور آئے دن بھتے کی پرچیوں نے دکانداروں کو خوفزدہ کردیاہے، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے تمام ادارے بے بس ہوچکے ہیں جبکہ حکومت جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔




محمد ادریس نے صدر مملکت ، وزیراعظم پاکستان گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ ، کورکمانڈر اور ڈائر یکٹر جنرل رینجرز سندھ کو الگ الگ لکھے گئے اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ کراچی کی مجبور و بے کس تاجر برادری کی حالت زار سے وہ بخوبی آگاہ ہوں گے جو مختلف سیاسی جماعتوں کی آڑ میں جرائم پیشہ گروپوں اور سفاک بھتہ مافیا کے شکنجے میں پھنسے ماہی بے آب کی طرح تڑپ تڑپ کر آپ سے مسلسل رحم کی اپیلیں کرتے چلے آرہی ہے لیکن بزنس کمیونٹی کی فریاد بے اثر ہوچکی ہے یا پھر ہماری چیخ و پکار نے حکمرانوں کی سماعت کو اس قدر بے حس کر دیا ہے کہ ہماری بے بسی اور حالت زار پرانھیں ذرا بھی ترس نہیں آتا۔

انھوں نے کہا کہ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مکمل بے اعتنائی کے باوجود تاجر برادری چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی سوال پر مجبور ہے کہ پریشان حال بزنس کمیونٹی ان سے آس نہ لگائے تو کہاں جائے ؟ کیا ظالم غنڈہ عناصر کیخلاف اقوام متحدہ سے تحفظ کی درخواست کریں؟ ریاست کیلیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والی تاجر برادری کو دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور اس کیلیے امن اور تحفظ کی فراہمی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، کیونکہ تحفظ حاصل نہ ہونے پر سرمایہ کار مجبوراً نقل مکانی کرجاتے ہیں، بد قسمتی سے ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

یہاں تاجربرادری کو سیاسی کشمکش کا ایندھن بناکر غنڈہ عناصر کے ہاتھوں سرعام سولی پر لٹکایا جارہا ہے، اپنے ہاتھوں خود اپنا گلا گھونٹنے کی یہ احمقانہ پالیسی وطن عزیز کو جس خوفناک راستے پر دھکیل رہی ہے، اسکی منزل تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں،انھوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کا ہر ذمے دار شخص اور ادارہ کراچی کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ملکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا غیر معمولی کردار ادا کرے، دوسری صورت میں تاجروں کی دادرسی نہ کرنیکا عمل وطن عزیز پاکستان کو تباہ و برباد کردینے کے مترادف ہوگا۔
Load Next Story