پاک افغان سرحد پر ساتویں روز بھی ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی برقرار

غیر قانونی ٹیکس کی ادائیگی پر 60 ٹرکوں کو افغانستان داخلے کی اجازت دیدی گئی۔

ٹرانزٹ ٹریڈ پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، مجبوراً 87 ہزار فی ٹرک ادا کیے، ٹرانسپورٹرز فوٹو: فائل

چمن پاک افغان سرحد پر ساتویں روز بھی ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی برقراررہی ۔

جبری اور غیر قانونی ٹیکس کی ادائیگی کے بعد 60 ٹرک افغانستان داخل ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق چمن پاک افغان سرحد پر افغان کسٹم احکام نے ساتویں روز بھی ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی برقرار رکھی جبکہ جبری اور غیر قانونی ٹیکس کی ادائیگی کے افغان کسٹم احکام نے 60 ٹرک افغانستان داخل ہونے دیا۔




پاکستانی ایکسپورٹرز نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا، پاک افغان معاہدے کے مطابق افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا تک رسائی کے لیے کوئی ٹیکس نہیں، پھل خراب ہونے کے باعث مجبوراََ ٹیکس فی ٹرک 87 ہزار روپے ادا کیے گئے۔ جس کے بعد ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرک افغانستان چھوڑے گئے۔ ٹرانسپورٹرز نے وزیر تجارت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کے خلاف افغان وزارت تجارت سے وضاحت طلب کی جائے۔
Load Next Story