مالی میں سیکڑوں شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا فرانس
کدال کا علاقہ اب فوج کے کنٹرول میں ہے: وزیر دفاع، مارچ سے انخلا شروع ہوگا،وزیر خارجہ
کدال کا علاقہ اب فوج کے کنٹرول میں ہے: وزیر دفاع، مارچ سے انخلا شروع ہوگا،وزیر خارجہ. فوٹو: اے ایف پی
فرانس نے کہا ہے کہ مالی میں گزشتہ ماہ شروع کی جانے والی کارروائی میں سیکڑوں اسلامی شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
فرانس کے وزیر دفاع ڑاں ایوز لا ڈرائین کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں کو فضائی حملوں اور فرانسیسی افواج کے ساتھ براہ راست لڑائی میں ہلاک کیا گیا۔ دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مالی میں موجود فرانسیسی افواج کا انخلا مارچ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی اخبارکو ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر تمام معاملات منصوبے کے مطابق جاری رہے تو مالی میں موجود فرانسیسی افواج کی تعداد کم کر دینی چاہیے۔
اس سے پہلے فرانس کے وزیر دفاع ڑاں ایوز لا ڈرائین نے کہا تھا کہ مالی کے شمال میں کدال کا علاقہ اب فرانسیسی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ چاڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افریقی فوجیوں کی مدد سے ایسا ممکن ہوا۔ فرانسیسی وزیر دفاع کے مطابق فرانسیسی طیاروں نے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد اسلامی شدت پسند ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ اس وقت مالی میں 3500 کے قریب فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ چاڈ اور نائجر کے 2000 فوجی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔
فرانس کے وزیر دفاع ڑاں ایوز لا ڈرائین کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں کو فضائی حملوں اور فرانسیسی افواج کے ساتھ براہ راست لڑائی میں ہلاک کیا گیا۔ دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مالی میں موجود فرانسیسی افواج کا انخلا مارچ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی اخبارکو ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر تمام معاملات منصوبے کے مطابق جاری رہے تو مالی میں موجود فرانسیسی افواج کی تعداد کم کر دینی چاہیے۔
اس سے پہلے فرانس کے وزیر دفاع ڑاں ایوز لا ڈرائین نے کہا تھا کہ مالی کے شمال میں کدال کا علاقہ اب فرانسیسی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ چاڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افریقی فوجیوں کی مدد سے ایسا ممکن ہوا۔ فرانسیسی وزیر دفاع کے مطابق فرانسیسی طیاروں نے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد اسلامی شدت پسند ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ اس وقت مالی میں 3500 کے قریب فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ چاڈ اور نائجر کے 2000 فوجی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔