سندھ حکومت اشتہار دیدے شہری اپنے رسک پر گھر سے نکلیں سپریم کورٹ
جس شہرمیں لوگوں کا خوف سے گھرسے نکلنامشکل ہووہاںآزادانہ ومنصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں؟
شایدحکومت نے طے کرلیاکہ وہ قاتل نہیں پکڑے گی، آبزرویشن، سیاسی مصلحتوں کے باعث قانون سازی نہ ہوسکی،ایڈووکیٹ جنرل سندھ، بد امنی کیس کی سماعت آج پھرہوگی۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آبزرویشن دی ہے کہ جس شہرمیں شہریوںکاخوف کے باعث گھرسے نکلنامشکل ہووہاں آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں؟
آئین شفاف انتخابات کا تقاضاکرتاہے،ان حالات میں منصفانہ انتخابات نظرنہیںآتے،عدلیہ قانون سازوںکوہدایات جاری نہیںکرسکتی،وہ ہمارے اورعوام کے نمائندے ہیں،آئین اورقانون نے انہیںاختیاردیاہے، اگر وہ نہیںچاہتے توہم اورآپ کچھ نہیں کرسکتے،سندھ حکومت اشتہاردیدے شہری اپنے رسک پرگھرسے نکلیں،بچوں کوامام ضامن باندھ کراسکول بھیجاجائے،شہرمیں22ہزارسے زائد ملزمان گھوم رہے ہوں توکیاڈھائی سوتفتیشی افسر ان کاکھوج لگاکرگرفتارکرسکیں گے؟
ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے اعتراف کیاکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کراچی میں امن وامان کیلیے مکمل ہدایات ہیں لیکن کچھ سیاسی مجبوریوں کے باعث حکومت قانون سازی نہیںکرسکی، بیوروکریٹس نے واضح کیاہے کہ نئی قانون سازی کے بغیرکراچی میں امن وامان کی صورتحال بہترنہیںہو سکتی،۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمدجلال عثمانی اورجسٹس امیرہانی مسلم پرمشتمل 4رکنی لارجر بینچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی،آئی جی سندھ کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے علاوہ نجی وکیل کے پیش ہونے پربینچ نے وضاحت طلب کی۔
خاور ایڈووکیٹ نے بینچ کوبتایاکہ چونکہ سرکاری ملازمین کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں ہیںاس لیے نجی وکلاکی خدمات حاصل کی گئی ہیں، سماعت کے آغازپرجسٹس امیرہانی مسلم نے ممبر انسپکشن ٹیم سندھ ہائیکورٹ کی ایک رپورٹ کے کے متعلق نشاندھی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک اور آئی جی سندھ فیاض لغاری سے استفسار کیا کہ اس بارے میں ان کا کیامؤقف ہے،رپورٹ کے مطابق کراچی میں22,535مفرور اور اشتہاری ملزمان ہیں ،جسٹس ایس اے خواجہ نے استفسارکیا کہ کراچی بدامنی کیس کے فیصلے کے باوجودپولیس کی یہ کارکردگی ہے۔
ان ملزمان کوگرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ،فاضل جسٹس نے آئین کے آرٹیکل9کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ شہریوں کی زندگی کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ حکومت کواشتہار دیدیناچاہیے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتی۔آئی جی سندھ نے بتایاکہ بڑی تعداد میں مفرور ملزمان کو گرفتارکیاگیاہے تاہم بینچ نے انہیں ہدایت کی کہ پہلے وہ اس رپورٹ کے درست ہونے کے بارے میں وضاحت کریں اس کے بعداپنی کارکردگی بیان کریں،پولیس نے جتنے بھی ملزمان گرفتار کیے ہوں یہ بتایاجائے کہ ابھی کتنے مفرورملزمان باقی ہیں،ان ملزمان کی گرفتاری کیلیے کتنے تفتیشی افسران دستیاب ہیں،آئی جی سندھ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکے۔
انھوں نے کہاکہ تقریباً2ہزار سے زائدتفتیشی افسران ہونگے ، جسٹس ہانی نے تصیح کی کہ صرف سندھ میں 169 تفتیشی افسران ہیں تاہم اے آئی جی لیگل علی شیرجکھرانی نے بتایاکہ سندھ بھر میں 7/8سو تفتیشی افسران ہیں جبکہ کراچی میں 250کے قریب تفتیشی افسران ہیں ، فاضل بینچ نے استفسارکیاکہ شہرمیں22ہزارسے زائدملزمان گھوم رہے ہوں توکیایہ ممکن ہے کہ ڈھائی سو تفتیشی افسران ان کی کھوج لگاکرگرفتارکرسکیں،عدالت عظمیٰ نے آبزروکیاکہ حکومت سیاسی مصلحتوں کے باعث مطلوبہ قانون سازی نہیں کررہی، عدل،کسی سے زندگی کاحق نہیں چھینا جاسکتا، اگرکراچی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیاجارہاہے تو اس کاذمے دارکون ہے ؟
عدالت کے استفسار پربتایاگیاکہ سندھ ہائیکورٹ کے ممبرانسپکشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 22ہزار ملزمان اشتہاری اور مفرورقراردیے گئے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ شایدحکومت نے طے کرلیا ہے کہ لوگوں کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے والوں کوگرفتارنہیںکیاجائے گا۔عدالت کوبتایاگیاکہ کراچی کے ضلع جنوبی میں4901،ضلع غربی میں4900،ضلع شرقی میں5907،ضلع وسطی میں2618اورضلع ملیر میں4209ملزمان شامل ہیں۔عدالت کے استفسار پرآئی جی سندھ نے بتایا کہ مذکورہ ملزمان میں 14ہزار484مفروراور 9ہزار621اشتہاری ملزمان شامل ہیں۔
جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اکثرملزمان کوتفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ہی چھوڑ دیاجاتا ہے جوجرائم کی شرح میں اضافے کی اہم وجہ ہے،عدالت کے استفسارپرایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود نے بتایا کہ کراچی میں تفتیشی افسران کی تعداد250ہے کراچی میں پولیس کی افرادی قوت 26ہزارہے جن میں8ہزاراہلکارمختلف شخصیات کی سیکیورٹی کی ذمے داریاں اداکررہے ،افرادی قوت میں اضافے کی اشدضرورت ہے اوراس حوالے سے 7500اہلکاروں کی بھرتیوںکاعمل شروع کیاگیالیکن اس پرپابندی عائدکردی گئی فاضل بینچ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نومبر2011میں فیصلہ سنایاتھامگراس پرعمل ہوا اورنہ ہی امن و امان کے قیام کیلیے اقدامات کیے گئے،اب انتخابات کے قریب سیاسی مقاصد کیلیے بھرتیاں کی جارہی ہیں۔
کراچی میں امن وامان ہفتوں کا نہیں سالوںکامعاملہ ہے ،پولیس بتائے کہ انھوں نے بھرتیوں کیلیے ریکوزیشن کب بھیجی اورکتنی نفری کی ضرورت ہے،جسٹس جوادایس خواجہ نے کہاکہ غلطی تسلیم کرلیناقابل شرم نہیں،پولیس کو تسلیم کرلیناچاہیے کہ وہ نااہل تھی لیکن آئندہ غلطی نہیں ہوناچاہیے،موجودہ حالات میں توامن و امان کوقیام ممکن نظرنہیں آتا،تاہم عدالت مایوس ہوکرآرام سے نہیں بیٹھ سکتی،حکومت کوڈیڑھ سال قبل بھرتیوں کا عمل شروع کرنا چاہیے تھا،اب بہت دیر ہوچکی ،صورتحال الارمنگ ہوچکی، سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ پولیس کے تفتیشی افسران اورایم ایل اوزبنیادی تربیت سے بھی محروم ہیں،انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت کی ضرورت ہے۔
آئی جی سندھ نے کہاکہ موجودہ تعدادکوتقریباًدگنا کیاجانا چاہیے ،ایڈیشنل آئی جی اقبال محمودنے اعتراف کیا کہ پولیس کی افرادی قوت میں اضافے کے ساتھ تقرریوں میں شفافیت اورتفتیشی افسران کی باقاعدہ تربیت کی بھی ضرورت ہے، جسٹس ہانی نے کہاکہ پولیس خاک فرانسک تربیت کافائدہ آٹھائے گی ، یہاں تو رفاعی اداروں کی ایمبولینس زخمیوں اور بوری بندلاشوںکواسپتال پہنچاتی ہیں،پولیس تو موقع پر پہنچتی ہی نہیں وہ تواسپتال آتی ہے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ کراچی میں 1995سے رینجرز موجود ہے اور ان پر بھاری رقم خرچ کی جارہی ہے ،رینجرز کی تعیناتی کے بعد حالات ٹھیک ہوئے یا مزید بگڑگئے؟
اقبال محمود نے اعتراف کیا کہ اس عرصے میں امن و امان کی صورت حال مزیدخراب ہوئی ہے،ایس ایس پی نیازکھوسونے عدالت کو بتایاکہ کراچی میں اغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے، جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اغوا تاوان کیلیے ہوتاتھااب تربیت یافتہ دہشتگردلوگوں کو اغواکرنے کے بجائے صرف پرچی تھمادیتے ہیں اور شام کو رقم وصول کرلیتے ہیں ،یہ رقم کی وصولی کاآسان طریقہ ہے،اکثر واقعات کامقدمہ ہی درج نہیں ہوتالوگ پولیس سے رابطہ بھی نہیں کرتے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ عوام کااداروں سے اعتمادختم ہوگیاہے اس لیے لوگ ملزم کو پکڑکرسڑک پرہی سزا دے دیتے ہیں اور پولیس کے حوالے نہیں کرتے،ایس ایس پی نیازکھوسونے دعوی کیاکہ اگر گواہوں کے تحفظ اور اسلحہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیدیاجائے تو وہ شہر میں امن کی ضمانت دینے کے لیے تیا رہیں لیکن قانون سازی کے بغیرامن کا قیام مشکل ہے، فاضل بینچ نے ان سے کہاکہ یہ ہمیں کیوں بتارہے ہیں ، قانون سازی حکومت کا کام ہے ،عدالت کا اس میں کردارنہیں ،جسٹس خلجی نے کہاکہ افسران عدالت میں کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی سی کوشش کررہے ہیں لیکن انتظامیہ مطلوبہ وسائل اور قانون سازی میں ناکام ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل غلام قادر جتوئی کی جانب سے وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک کو کٹہرے میں طلب کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے ریاست کے ذمے داران ہیں انہیں ہی کوئی نوٹ یا سمری بھیجناہوگی ،عدالت انہیں ہی جانتی ہے ،ہمیں آئین وقانون کے مطابق چلنا ہے ،عدالت کے استفسار پر سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے بتایا کہ اس حوالے سے ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے اور جلد ہی قانون سازی کرلی جائے گی،انہوں نے بتایاکہ اس حوالے سے یکساں قانون سازی کیلیے وفاقی سیکریٹری قانون سے بھی رابطہ کیاگیاہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہاکہ آئین کے تحت یہ صوبائی معاملہ ہے اوراٹھارویں ترمیم کے بعدواضح ہوگیا ہے کہ صوبائی اسمبلی قانون سازی کرسکتی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراف کیا کہ کچھ سیاسی مجبوریاں آڑے آگئیں اس لیے قانون سازی نہیںہوسکی،کچھ حلقوںکی جانب سے کہا گیا کہ صرف کراچی کے لیے اسلحہ سے متعلق خصوصی قانون سازی کیوں کی جائے،پورے ملک میں ایک پالیسی ہونا چاہیے ، لیکن شکرکہ اب انتخابات قریب ہیں ،جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مرضی کا قانون ایک گھنٹے میں بنایالیاجاتا ہے۔
عدالت کوئی فیصلہ سنائے تواگلے ہی روزآرڈیننس پیش کردیا جاتا ہے کہ عدالت نے غلط فیصلہ دیاتھا ور آرڈیننس کے ذریعے صحیح فیصلہ کردیاگیاہے۔عدالت نے آبزروکیا کہ سال2011کے دوران1800افراد کو قتل کیاگیاجبکہ کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2012 میں 2300سے بھی تجاوز کرگئی اور یہ تشویشناک صورتحال ہے ،عدالت نے سماعت جمعرات تک کیلیے ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آبزرویشن دی ہے کہ جس شہرمیں شہریوںکاخوف کے باعث گھرسے نکلنامشکل ہووہاں آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں؟
آئین شفاف انتخابات کا تقاضاکرتاہے،ان حالات میں منصفانہ انتخابات نظرنہیںآتے،عدلیہ قانون سازوںکوہدایات جاری نہیںکرسکتی،وہ ہمارے اورعوام کے نمائندے ہیں،آئین اورقانون نے انہیںاختیاردیاہے، اگر وہ نہیںچاہتے توہم اورآپ کچھ نہیں کرسکتے،سندھ حکومت اشتہاردیدے شہری اپنے رسک پرگھرسے نکلیں،بچوں کوامام ضامن باندھ کراسکول بھیجاجائے،شہرمیں22ہزارسے زائد ملزمان گھوم رہے ہوں توکیاڈھائی سوتفتیشی افسر ان کاکھوج لگاکرگرفتارکرسکیں گے؟
ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے اعتراف کیاکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کراچی میں امن وامان کیلیے مکمل ہدایات ہیں لیکن کچھ سیاسی مجبوریوں کے باعث حکومت قانون سازی نہیںکرسکی، بیوروکریٹس نے واضح کیاہے کہ نئی قانون سازی کے بغیرکراچی میں امن وامان کی صورتحال بہترنہیںہو سکتی،۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمدجلال عثمانی اورجسٹس امیرہانی مسلم پرمشتمل 4رکنی لارجر بینچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی،آئی جی سندھ کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے علاوہ نجی وکیل کے پیش ہونے پربینچ نے وضاحت طلب کی۔
خاور ایڈووکیٹ نے بینچ کوبتایاکہ چونکہ سرکاری ملازمین کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں ہیںاس لیے نجی وکلاکی خدمات حاصل کی گئی ہیں، سماعت کے آغازپرجسٹس امیرہانی مسلم نے ممبر انسپکشن ٹیم سندھ ہائیکورٹ کی ایک رپورٹ کے کے متعلق نشاندھی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک اور آئی جی سندھ فیاض لغاری سے استفسار کیا کہ اس بارے میں ان کا کیامؤقف ہے،رپورٹ کے مطابق کراچی میں22,535مفرور اور اشتہاری ملزمان ہیں ،جسٹس ایس اے خواجہ نے استفسارکیا کہ کراچی بدامنی کیس کے فیصلے کے باوجودپولیس کی یہ کارکردگی ہے۔
ان ملزمان کوگرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ،فاضل جسٹس نے آئین کے آرٹیکل9کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ شہریوں کی زندگی کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ حکومت کواشتہار دیدیناچاہیے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتی۔آئی جی سندھ نے بتایاکہ بڑی تعداد میں مفرور ملزمان کو گرفتارکیاگیاہے تاہم بینچ نے انہیں ہدایت کی کہ پہلے وہ اس رپورٹ کے درست ہونے کے بارے میں وضاحت کریں اس کے بعداپنی کارکردگی بیان کریں،پولیس نے جتنے بھی ملزمان گرفتار کیے ہوں یہ بتایاجائے کہ ابھی کتنے مفرورملزمان باقی ہیں،ان ملزمان کی گرفتاری کیلیے کتنے تفتیشی افسران دستیاب ہیں،آئی جی سندھ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکے۔
انھوں نے کہاکہ تقریباً2ہزار سے زائدتفتیشی افسران ہونگے ، جسٹس ہانی نے تصیح کی کہ صرف سندھ میں 169 تفتیشی افسران ہیں تاہم اے آئی جی لیگل علی شیرجکھرانی نے بتایاکہ سندھ بھر میں 7/8سو تفتیشی افسران ہیں جبکہ کراچی میں 250کے قریب تفتیشی افسران ہیں ، فاضل بینچ نے استفسارکیاکہ شہرمیں22ہزارسے زائدملزمان گھوم رہے ہوں توکیایہ ممکن ہے کہ ڈھائی سو تفتیشی افسران ان کی کھوج لگاکرگرفتارکرسکیں،عدالت عظمیٰ نے آبزروکیاکہ حکومت سیاسی مصلحتوں کے باعث مطلوبہ قانون سازی نہیں کررہی، عدل،کسی سے زندگی کاحق نہیں چھینا جاسکتا، اگرکراچی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیاجارہاہے تو اس کاذمے دارکون ہے ؟
عدالت کے استفسار پربتایاگیاکہ سندھ ہائیکورٹ کے ممبرانسپکشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 22ہزار ملزمان اشتہاری اور مفرورقراردیے گئے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ شایدحکومت نے طے کرلیا ہے کہ لوگوں کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے والوں کوگرفتارنہیںکیاجائے گا۔عدالت کوبتایاگیاکہ کراچی کے ضلع جنوبی میں4901،ضلع غربی میں4900،ضلع شرقی میں5907،ضلع وسطی میں2618اورضلع ملیر میں4209ملزمان شامل ہیں۔عدالت کے استفسار پرآئی جی سندھ نے بتایا کہ مذکورہ ملزمان میں 14ہزار484مفروراور 9ہزار621اشتہاری ملزمان شامل ہیں۔
جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اکثرملزمان کوتفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ہی چھوڑ دیاجاتا ہے جوجرائم کی شرح میں اضافے کی اہم وجہ ہے،عدالت کے استفسارپرایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود نے بتایا کہ کراچی میں تفتیشی افسران کی تعداد250ہے کراچی میں پولیس کی افرادی قوت 26ہزارہے جن میں8ہزاراہلکارمختلف شخصیات کی سیکیورٹی کی ذمے داریاں اداکررہے ،افرادی قوت میں اضافے کی اشدضرورت ہے اوراس حوالے سے 7500اہلکاروں کی بھرتیوںکاعمل شروع کیاگیالیکن اس پرپابندی عائدکردی گئی فاضل بینچ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نومبر2011میں فیصلہ سنایاتھامگراس پرعمل ہوا اورنہ ہی امن و امان کے قیام کیلیے اقدامات کیے گئے،اب انتخابات کے قریب سیاسی مقاصد کیلیے بھرتیاں کی جارہی ہیں۔
کراچی میں امن وامان ہفتوں کا نہیں سالوںکامعاملہ ہے ،پولیس بتائے کہ انھوں نے بھرتیوں کیلیے ریکوزیشن کب بھیجی اورکتنی نفری کی ضرورت ہے،جسٹس جوادایس خواجہ نے کہاکہ غلطی تسلیم کرلیناقابل شرم نہیں،پولیس کو تسلیم کرلیناچاہیے کہ وہ نااہل تھی لیکن آئندہ غلطی نہیں ہوناچاہیے،موجودہ حالات میں توامن و امان کوقیام ممکن نظرنہیں آتا،تاہم عدالت مایوس ہوکرآرام سے نہیں بیٹھ سکتی،حکومت کوڈیڑھ سال قبل بھرتیوں کا عمل شروع کرنا چاہیے تھا،اب بہت دیر ہوچکی ،صورتحال الارمنگ ہوچکی، سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ پولیس کے تفتیشی افسران اورایم ایل اوزبنیادی تربیت سے بھی محروم ہیں،انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت کی ضرورت ہے۔
آئی جی سندھ نے کہاکہ موجودہ تعدادکوتقریباًدگنا کیاجانا چاہیے ،ایڈیشنل آئی جی اقبال محمودنے اعتراف کیا کہ پولیس کی افرادی قوت میں اضافے کے ساتھ تقرریوں میں شفافیت اورتفتیشی افسران کی باقاعدہ تربیت کی بھی ضرورت ہے، جسٹس ہانی نے کہاکہ پولیس خاک فرانسک تربیت کافائدہ آٹھائے گی ، یہاں تو رفاعی اداروں کی ایمبولینس زخمیوں اور بوری بندلاشوںکواسپتال پہنچاتی ہیں،پولیس تو موقع پر پہنچتی ہی نہیں وہ تواسپتال آتی ہے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ کراچی میں 1995سے رینجرز موجود ہے اور ان پر بھاری رقم خرچ کی جارہی ہے ،رینجرز کی تعیناتی کے بعد حالات ٹھیک ہوئے یا مزید بگڑگئے؟
اقبال محمود نے اعتراف کیا کہ اس عرصے میں امن و امان کی صورت حال مزیدخراب ہوئی ہے،ایس ایس پی نیازکھوسونے عدالت کو بتایاکہ کراچی میں اغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے، جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اغوا تاوان کیلیے ہوتاتھااب تربیت یافتہ دہشتگردلوگوں کو اغواکرنے کے بجائے صرف پرچی تھمادیتے ہیں اور شام کو رقم وصول کرلیتے ہیں ،یہ رقم کی وصولی کاآسان طریقہ ہے،اکثر واقعات کامقدمہ ہی درج نہیں ہوتالوگ پولیس سے رابطہ بھی نہیں کرتے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ عوام کااداروں سے اعتمادختم ہوگیاہے اس لیے لوگ ملزم کو پکڑکرسڑک پرہی سزا دے دیتے ہیں اور پولیس کے حوالے نہیں کرتے،ایس ایس پی نیازکھوسونے دعوی کیاکہ اگر گواہوں کے تحفظ اور اسلحہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیدیاجائے تو وہ شہر میں امن کی ضمانت دینے کے لیے تیا رہیں لیکن قانون سازی کے بغیرامن کا قیام مشکل ہے، فاضل بینچ نے ان سے کہاکہ یہ ہمیں کیوں بتارہے ہیں ، قانون سازی حکومت کا کام ہے ،عدالت کا اس میں کردارنہیں ،جسٹس خلجی نے کہاکہ افسران عدالت میں کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی سی کوشش کررہے ہیں لیکن انتظامیہ مطلوبہ وسائل اور قانون سازی میں ناکام ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل غلام قادر جتوئی کی جانب سے وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک کو کٹہرے میں طلب کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے ریاست کے ذمے داران ہیں انہیں ہی کوئی نوٹ یا سمری بھیجناہوگی ،عدالت انہیں ہی جانتی ہے ،ہمیں آئین وقانون کے مطابق چلنا ہے ،عدالت کے استفسار پر سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے بتایا کہ اس حوالے سے ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے اور جلد ہی قانون سازی کرلی جائے گی،انہوں نے بتایاکہ اس حوالے سے یکساں قانون سازی کیلیے وفاقی سیکریٹری قانون سے بھی رابطہ کیاگیاہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہاکہ آئین کے تحت یہ صوبائی معاملہ ہے اوراٹھارویں ترمیم کے بعدواضح ہوگیا ہے کہ صوبائی اسمبلی قانون سازی کرسکتی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراف کیا کہ کچھ سیاسی مجبوریاں آڑے آگئیں اس لیے قانون سازی نہیںہوسکی،کچھ حلقوںکی جانب سے کہا گیا کہ صرف کراچی کے لیے اسلحہ سے متعلق خصوصی قانون سازی کیوں کی جائے،پورے ملک میں ایک پالیسی ہونا چاہیے ، لیکن شکرکہ اب انتخابات قریب ہیں ،جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مرضی کا قانون ایک گھنٹے میں بنایالیاجاتا ہے۔
عدالت کوئی فیصلہ سنائے تواگلے ہی روزآرڈیننس پیش کردیا جاتا ہے کہ عدالت نے غلط فیصلہ دیاتھا ور آرڈیننس کے ذریعے صحیح فیصلہ کردیاگیاہے۔عدالت نے آبزروکیا کہ سال2011کے دوران1800افراد کو قتل کیاگیاجبکہ کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2012 میں 2300سے بھی تجاوز کرگئی اور یہ تشویشناک صورتحال ہے ،عدالت نے سماعت جمعرات تک کیلیے ملتوی کردی۔