ریمنڈ ڈیوس کے سولہ چاند

اگر ہم ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پر کچھ بھی چرچا نہیں کریں گے تو ہمارے پڑھنے والوں کو شکایت ہو سکتی ہے۔

barq@email.com

MANCHESTER:
ان دنوں امریکا کے کسی ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے بڑے چرچے ہو رہے ہیں ۔کتاب تو ہم نے نہیں پڑھی ہے کیونکہ سنا ہے اس کی قیمت ڈالروں میں ہے اور ڈالر توآپ جانتے ہیں ہمارے لیے چیل کے گھونسلے میں ماس جیسے ہیں بلکہ ہم یہ کوشش کر کے تھک چکے ہیں کہ کوئی خدا کا نیک بندہ ہمیں صرف ڈالر کا چہرہ ہی کرا دے تو شاید ہمارے سوئے بھاگ جاگ پڑیں لیکن ایسا کوئی شخص بھی ہمارے حلقہ رسائی میں نہیں ہے جو ہم کو اس قتالۂ عالم سے روشناس کرائے یعنی ۔

کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے

ہجر میں کیا ہیں کہ تم سے کہیں

ہماری قسمت میں بچارا درد کا مارا روپیہ ہی ہے جو اتنا کچا ہے کہ اگر ہم بازار میں دس روپے کی کوئی چیز لے کر کھائیں اور اچھی لگنے پر ایک اور مانگیں تو دکانداکہے گا کہ اتنے وقت میں وہ چیز دو روپے مہنگی ہوچکی ہے۔لیکن ریمنڈ ڈیوس کی اس کتاب کے ''چرچوں '' ہی سے ہمیں اتنا اندازہ ہو چکا ہے کتاب بڑے معرکے کی کتاب ہوگی یا تو جناب نسیم حجازی کے کسی ناول کی طرح ہوگی جسے پڑھ کر ہم جیسے غیر مجاہدوں کا خون بھی سیروں بڑھ جاتا ہے یا پھر احمد فراز ، پروین شاکر یا وصی شاہ یا نوشی گیلانی جیسی کوئی نظیمہ ہوگی جن کے پڑھنے سے آنکھوں میں ایسے محبوب کاسراپا گھومنے لگتا ہے۔

آج کچھ اتنا حسیں ہے وہ تو

یو سمجھ لو کہ نہیں ہے وہ تو

کچھ ہلکا سا اشارہ بعض مباحث میں یہ بھی ہوتا ہے جیسے ریمنڈ ڈیوس کوئی پاکستانی امور کا ماہر رہا ہے جیسے اپنے ہاں اخباروں میں یا ٹی وی پر خاص خاص امور کے خاص خاص ماہر ہوتے ہیں، بڑے بڑے ریڈیو اسٹیشنوں یعنی بی بی سی اور وائس آف امریکا میں بھی ایسے ماہرین ہوتے ہیں مثلاً ایشیائی امور کے ماہر ، عربی امور کے ماہر،چینی جاپانی امور کے ماہر یا ہالی وڈ، بالی وڈ کے ماہر ۔ یہ ریمنڈ ڈیوس یقینًا پاکستانی امور کا ماہر ہوگا یا کم از کم پاکستانی اسٹیج پر چل رہے مسلسل ڈرامے یا ''سوپ '' کا ماہر ہوگا ۔ جو ان دنوں بڑا پاپولر جا رہا ہے اور جس میں عمران خان ولن، نواز شریف ہیرو اور شاہ محمود قریشی سائیڈ رول نبھا رہے ہیں۔


مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کیریکٹر ایکٹر رول میں ہیںاور ہیروئن؟ لیکن یہ ہم آپ کو نہیں بتاپائیں گے کیونکہ ایان علی کو کاسٹ سے علحیدہ کیا جاچکا ہے اور شیری رحمان کو فلم کا اسکرپٹ پسند نہیں آیا ہے، ہو سکتا ہے ہمارا یہ اندازہ غلط ہو اور ریمنڈ ڈیوس اس چیز کا ماہر ہو جو ہمارے صوبے کے یعنی خیبر پختون خوا سے فرار ہو کر پنجاب میں روپوش ہو چکی ہے، اصل نام تو پتہ نہیں لیکن کرپشن کی عرفیت سے زیادہ پہچانی جاتی ہے۔ہمیں ریمنڈ ڈیوس سے کوئی تعلق یا جان پہچان تو نہیں ہے لیکن آخر کار چھوٹے سہی بے بضاعت سہی کالم نگار تو ہیں اور اگر ہم ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پر کچھ بھی چرچا نہیں کر یں گے تو ہمارے پڑھنے والوں کو شکایت ہو سکتی ہے ۔

ویسے بھی کسی کتاب پر تبصرہ کرنے یا مقدمہ لکھنے کے لیے کتاب کا پڑھنا ضروری تو نہیں صرف مصنف کو خراج تحسین ہی پیش کرنا ہوتا ہے سو ہم بھی یہی کر رہے ہیں، بڑی اچھی کتاب ہے سنا ہے اس کے لکھنے والے یعنی ریمنڈ ڈیوس امریکی ہے او جب امریکی ہے تو باقی کسی بھی خوبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی، امریکی ہونے سے بڑی خوبی اور ہو بھی کیا سکتی ہے، اس ناتے اس کی شکل بھی یقینًا اچھی دو سو فیصد ڈالر سے ملتی جلتی ہوگی، ڈالر سے نہ بھی ملتی ہو تو اس کے وجود سے ڈالر کی خوشبو توآتی ہوگی جو موجودہ دور میں سب سے زیادہ پسندیدہ خوشبو ہے اور جب خوشبو ہے تو رنگ بھی ہوگا۔ یعنی

وہ رنگ ہے خوشبو ہے محبت اس کی تمنا

یہ سوچ مرے دل کو مچلنے نہیں دیتی

مطلب یہ کہ ریمنڈڈیوس میں خوبیاں ہی خوبیاں ہونگی، اس کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہوتا کہ پاکستان میں جس نے صرف قلم پکڑنا سیکھا ہے وہ اس کا مدح خوان ہے

جہاں تک کتاب کا تعلق ہے تو جو کتاب کسی امریکی نے لکھی ہو اور امریکا میں چھپی بھی ہو اس میں اور کسی خوبی کا ہونا چنداں ضرور ی نہیں ہے ۔

ایک نہایت ہی خبردار قسم کے کالم نگار نے لکھا ہے کہ اس کتاب میں کچھ پاکستانیوں کا بھی ذکر ہے اگر یہ بات ہے تو پھر کتاب اور زیادہ قابل قدر ہوگئی، ساتھ ہی ساتھ پاکستانیوں کے لیے فخر کا مقام ہے کہ اب خدا کے فضل سے عوام کی دعاؤں سے اور آئی ایم ایف کی برکت سے پاکستانی بھی اتنے ہوگئے ہیں کہ امریکی کتابوں میں ایک خالص امریکی اس کے ذکر میں رطب اللسان ہے۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ماشاء اللہ پاکستانی صرف کرکٹ ہی میں نہیں بلکہ اور بھی بہت ساری جہتوں میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں، چارچاند تو بہت پہلے اسے لگ چکے تھے، پھر دھیرے دھیرے موم بائی میں پاکستانی ٹیلنٹ کے نئے چاند طلوع ہوئے ، یہ میوزک کے چاند ہیں اور ہمارے سیاست کے ہیروز نے تو بے تحاشا چاند لگائے چنانچہ اس ریمنڈ ڈیوس کی کتاب اور اس میں پاکستانیوںکے ذکر سے کوئی سولہ چاند تو ہو ہی گئے ہوں گے ۔
Load Next Story