بھارت میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری پر پابندی کا خاتمہ
وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور حالات کے مطابق چلنے کی...
وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور حالات کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے، فوٹو فائل
بھارتی حکومت نے اپنے ملک میں پاکستانی شہریوں کی طرف سے سرمایہ کاری پر پابندی ختم کر دی ہے۔ بھارتی وزارت تجارت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں یا اداروں کی طرف سے بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے تاہم دفاع، خلائی تحقیق اور ایٹمی توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ اس حوالے سے ایک احسن فیصلہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کا موقع ملے گا اور باہمی تجارت' صنعت و زراعت اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکے گا۔ کئی شعبے ایسے ہیں جن میں پاکستان نے خاطر خواہ ترقی کی ہے اور کچھ شعبوں میں بھارت نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی ہے اب جب دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع میسر آئے گا تو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے گا
جس سے سرحد کے دونوں اطراف ترقی کی رفتار بڑھنے کی امید ہے۔ بھارتی حکومت نے سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے تو واضح ہے کہ ویزوں کے اجراء کا طریق کار آسان بنانے اور اس سلسلے میں وافر سہولتیں فراہم کرنے کا کام بھی تیز ہو جائے گا۔ انہی سارے معاملات اور امکانات کو مدنظر رکھ کر پاکستان نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی کوششوں جیسا ہی ایک اقدام کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان معظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فیصلے سے یقیناً پاکستانی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے عوام کے لیے ثمرآور ثابت ہو گا۔ پاکستانی کاروباری برادری نے بھی بھارتی فیصلے کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بھارت میں سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ تاہم جہاں کئی حلقوں کی جانب سے اس بھارتی فیصلے کو خوش آیند قرار دیا جا رہا ہے وہاں کچھ حلقے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اس حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں 'فلو آف کیپیٹل' بھارت کی جانب ہو جائے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش نہ ہونے اور توانائی کے مسلسل جاری بحران کی وجہ سے ہمارا کافی سرمایہ بنگلہ دیش' ملائشیا' سری لنکا' فلپائن اور دیگر ممالک کو منتقل ہو چکا ہے۔ ان حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس حالیہ بھارتی فیصلے سے رہا سہا سرمایہ بھی بھارت منتقل ہو جائے گا اور ہمارے ملک میں سرمایے کا پہلے سے جاری بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستان بھی مناسب تجارتی' کاروباری' درآمدی و برآمدی اور سرمایہ کاری پالیسی بنانے پر توجہ دے۔ آج کے دور کی ان دو سب سے بڑی سچائیوں سے کسی طور انکار ممکن نہیں ہے کہ گزشتہ صدی کے نصف آخر خاص طور پر ربع چہارم میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور صنعت و ٹیکنالوجی کی وسیع و عریض ترقی نے جہاں پوری دنیا کو سکیڑ کر ایک گلوبل ولیج کی شکل دے دی ہے وہاں اسی عرصے کے دوران جاری رہنے والی مختلف بڑے ممالک کی معاشی پالیسیوں نے اقتصادی بحران کو بھی مہمیز کر دیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا سکڑ کر جتنا قریب آئی ہے اتنا ہی دور بھی ہو گئی ہے۔
خاص طور پر معاشی شعبے میں زوال کی کیفیت نے مختلف خطوں میں واقع ممالک کو علاقائی سطح پر تعاون بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے' پاکستان اور بھارت بھی اسی دبائو کے تحت ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کی جانب دست تعاون بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں جو واضح طور پر ایک حوصلہ افزاء عمل ہے تاہم ضروری ہے کہ اس موقع کو باہمی بھلائی اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے' کوئی بھی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ شائبہ ابھرے کہ کسی ایک کا استحصال ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی شعبے میں تعاون یکطرفہ کی بجائے دو طرفہ ہو۔ اس حوالے سے ایک سرمایہ کار کا یہ بیان قابل غور ہے۔
جس میں انھوں نے کہا ہے کہ فیصلہ اچھا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہو گی کہ بھارت اپنے سرمایہ کاروں پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر پابندی اٹھا لے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت پاکستان کے سرمایہ کاروں کو ان نئے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ضرور دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں جاری ان مسائل پر قابو پانے کی بھی ٹھوس کوشش کرے جو مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے فوری نوعیت کی اور طویل المیعاد پالیسیاں بنائے تاکہ پاکستان کو بھی مقامی' اس خطے اور پوری دنیا کے ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش بنایا جا سکے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ بھارتی قیادت اپنے ہاں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے تو متعدد اقدامات کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں اس حوالے سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ یہ خاموشی توڑنے کی ضرورت ہے' وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور حالات کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری قیادت اس حوالے سے جتنا جلدی کام کرے گی اتنا ہی بہتر ہو گا۔
یہ اس حوالے سے ایک احسن فیصلہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کا موقع ملے گا اور باہمی تجارت' صنعت و زراعت اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکے گا۔ کئی شعبے ایسے ہیں جن میں پاکستان نے خاطر خواہ ترقی کی ہے اور کچھ شعبوں میں بھارت نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی ہے اب جب دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع میسر آئے گا تو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے گا
جس سے سرحد کے دونوں اطراف ترقی کی رفتار بڑھنے کی امید ہے۔ بھارتی حکومت نے سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے تو واضح ہے کہ ویزوں کے اجراء کا طریق کار آسان بنانے اور اس سلسلے میں وافر سہولتیں فراہم کرنے کا کام بھی تیز ہو جائے گا۔ انہی سارے معاملات اور امکانات کو مدنظر رکھ کر پاکستان نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی کوششوں جیسا ہی ایک اقدام کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان معظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فیصلے سے یقیناً پاکستانی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے عوام کے لیے ثمرآور ثابت ہو گا۔ پاکستانی کاروباری برادری نے بھی بھارتی فیصلے کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بھارت میں سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ تاہم جہاں کئی حلقوں کی جانب سے اس بھارتی فیصلے کو خوش آیند قرار دیا جا رہا ہے وہاں کچھ حلقے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اس حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں 'فلو آف کیپیٹل' بھارت کی جانب ہو جائے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش نہ ہونے اور توانائی کے مسلسل جاری بحران کی وجہ سے ہمارا کافی سرمایہ بنگلہ دیش' ملائشیا' سری لنکا' فلپائن اور دیگر ممالک کو منتقل ہو چکا ہے۔ ان حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس حالیہ بھارتی فیصلے سے رہا سہا سرمایہ بھی بھارت منتقل ہو جائے گا اور ہمارے ملک میں سرمایے کا پہلے سے جاری بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستان بھی مناسب تجارتی' کاروباری' درآمدی و برآمدی اور سرمایہ کاری پالیسی بنانے پر توجہ دے۔ آج کے دور کی ان دو سب سے بڑی سچائیوں سے کسی طور انکار ممکن نہیں ہے کہ گزشتہ صدی کے نصف آخر خاص طور پر ربع چہارم میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور صنعت و ٹیکنالوجی کی وسیع و عریض ترقی نے جہاں پوری دنیا کو سکیڑ کر ایک گلوبل ولیج کی شکل دے دی ہے وہاں اسی عرصے کے دوران جاری رہنے والی مختلف بڑے ممالک کی معاشی پالیسیوں نے اقتصادی بحران کو بھی مہمیز کر دیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا سکڑ کر جتنا قریب آئی ہے اتنا ہی دور بھی ہو گئی ہے۔
خاص طور پر معاشی شعبے میں زوال کی کیفیت نے مختلف خطوں میں واقع ممالک کو علاقائی سطح پر تعاون بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے' پاکستان اور بھارت بھی اسی دبائو کے تحت ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کی جانب دست تعاون بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں جو واضح طور پر ایک حوصلہ افزاء عمل ہے تاہم ضروری ہے کہ اس موقع کو باہمی بھلائی اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے' کوئی بھی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ شائبہ ابھرے کہ کسی ایک کا استحصال ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی شعبے میں تعاون یکطرفہ کی بجائے دو طرفہ ہو۔ اس حوالے سے ایک سرمایہ کار کا یہ بیان قابل غور ہے۔
جس میں انھوں نے کہا ہے کہ فیصلہ اچھا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہو گی کہ بھارت اپنے سرمایہ کاروں پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر پابندی اٹھا لے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت پاکستان کے سرمایہ کاروں کو ان نئے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ضرور دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں جاری ان مسائل پر قابو پانے کی بھی ٹھوس کوشش کرے جو مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے فوری نوعیت کی اور طویل المیعاد پالیسیاں بنائے تاکہ پاکستان کو بھی مقامی' اس خطے اور پوری دنیا کے ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش بنایا جا سکے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ بھارتی قیادت اپنے ہاں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے تو متعدد اقدامات کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں اس حوالے سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ یہ خاموشی توڑنے کی ضرورت ہے' وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے اور حالات کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری قیادت اس حوالے سے جتنا جلدی کام کرے گی اتنا ہی بہتر ہو گا۔