غربت میں کمی کے اقدامات اور سبسڈی کی فراہمی

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوام کو سبسڈی کی فراہمی ایک اچھا عمل ہے

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوام کو سبسڈی کی فراہمی ایک اچھا عمل ہے

وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 484 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جبکہ صوبوں کی طرف سے 11 ارب روپے کے لگ بھگ سبسڈی دی گئی ہے۔ تیسری سہ ماہی تک صوبہ پنجاب کی طرف سے 8.8ارب روپے کی، سندھ کی طرف سے 1.003ارب روپے اور خیبر پختونخواہ کی طرف سے 2 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاہم بلوچستان کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں دی گئی۔

اس عرصے میں پنجاب میں غربت میں کمی لانے کے لیے 295.71 ارب روپے' سندھ کی طرف سے 180 ارب روپے، خیبر پختونخوا کی طرف سے 77.291 ارب روپے اور بلوچستان کی طرف سے 53.708 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوام کو سبسڈی کی فراہمی ایک اچھا عمل ہے کیونکہ اس سے عوام کو بہرحال کچھ نہ کچھ ریلیف ملتا ہے تاہم اس کو اس حوالے سے مناسب پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اگر اس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا ہے یا عوام کے لیے ریلیف کا سامان کرنا ہے تو اس سلسلے میں یہ کوئی زمینی حقائق پر مبنی اقدام نہیں ہے


کیونکہ بہرحال یہ معیشت کا تنفس مصنوعی طریقے سے بحال رکھنے جیسا کوئی عمل ہے۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو سبسڈی تو ضرور فراہم کی جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں کہ لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہو اور روپے کی قدر اگر بڑھتی نہیں ہے تو اس میں کمی بھی نہ ہونے پائے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت کو عوام کو سبسڈی فراہم کرنے پر بھاری رقوم خرچ نہیں کرنا پڑیں گی کیونکہ ان اقدامات کے نتیجے میں ان کی آمدنیوں میں اضافہ ہو چکا ہو گا۔

جہاں تک تخفیف غربت کے اقدامات کا تعلق ہے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں جس قدر غربت پائی جاتی ہے یا اس کی شرح میں جس تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس کو سامنے رکھا جائے تو یہ اقدامات نہایت محدود اور تھوڑے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں مختص کی جانے والی رقوم میں وافر اضافہ ناگزیر ہے۔ تاہم اس سے بھی بہتر اقدام یہ ہے کہ ملکی معیشت کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی جائے' ملک میں ایک عرصے سے جاری توانائی کی قلت دور کی جائے تاکہ صنعتوں کا پہیہ رواں دواں رہ سکے' زرعی ترقی کے اہداف کو پورا کرنا ممکن ہو سکے۔

کاروباری و تجارتی سرگرمیاں فروغ پا سکیں اور عام آدمی کا جو وقت بجلی آنے کے انتظار میں بے مقصد ضایع ہوتا ہے اس کو تصرف میں لا کر انفرادی اور اجتماعی ترقی کا عمل تیز کیا جا سکے۔ یہ سبھی اقدامات عمل میں لائے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنا لی جائے تو اس سے نہ صرف غربت میں خود بخود کمی واقع ہو گی بلکہ ہماری حکومتیں سبسڈی کے عذاب سے بھی بچی رہیں گی کیونکہ معاشی ترقی کے ان اقدامات کے نتیجے میں لوگوں کی قوت خرید اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ مہنگائی کے اثرات سہنے کے قابل ہو جائیں گے۔
Load Next Story