فیصلے کا انتظار صائب مشورہ
گزشتہ روز عدلیہ نے صائب ریمارکس دیے کہ شفافیت کے لیے رپورٹ کا خفیہ حصہ(والیم 10) بھی عام کیا جائے گا
گزشتہ روز عدلیہ نے صائب ریمارکس دیے کہ شفافیت کے لیے رپورٹ کا خفیہ حصہ(والیم 10) بھی عام کیا جائے گا . فوٹو : فائل
سپریم کورٹ نے پیر کو پاناما جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پیش ہونے کے بعد سماعت کرتے ہوئے بعض چشم کشا آبزرویشنز دیں جن میں اپنے آزادانہ ریمارکس سے نہ صرف دھند ہٹا دی بلکہ عدالتی عمل ، کیس کی سماعت کی نزاکتوں اور فریقین کے وکلا کے لیے دوران سماعت ان کی حیثیت رہنما اصولوں جیسی رکھی اور یہ عدالت کے باہر ان شعلہ نوا سیاستدانوں اور وکلا برادری کے رہنماؤں کے لیے انتباہ کا درجہ بھی رکھتی ہیں جو پاناما کیس کے سلسلہ میں روزوشب متوازی سیاسی عدالتیں لگاتے رہتے ہیں اور جنہیں میڈیا کے فہمیدہ حلقے سیاست تھیٹر سے تعبیر کرتے ہیں، یہ در حقیقت میڈیا ہائیڈ پارک کا منظر پیش کرتی ہیں۔
عجیب بات ہے کہ عدالت عظمیٰ جیسے ہی کیس کی سماعت ملتوی کرتی ہے عدالت سے باہر ''ماورائے عدالت'' اسٹیج سج جاتا ہے جس پر زیرسماعت کیس پر تبصروں کا طوفان اٹھایا جاتا ہے، سیاسی جماعتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ ایک ہائی پروفائل کیس کی اس وقت عدالت میں سماعت ہورہی ہے، اس کے فیصلے تک صبر وتحمل اور جمہوری طرز عمل کا مظاہر ہونا شرط ہے جب کہ اس اصول کی پاسداری ن لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو ہر حال میں کرنی چاہیے، چونکہ پاناما کیس میں ان کے اسٹیکس بہت ہیں، انھیں عدالت کے باہر ''جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو، اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا '' کا سلسلہ بند کردینا چاہیے جس کے منفی اثرات پورے ملک کو ناقابل تلافی اعصابی ہیجان اور شدید ڈپریشن میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہے ہیں، ایک طرف سیاسی پولیرائزیشن بڑھتی جارہی ہے، سیاسی محاذ آرائی، خلفشار،بے یقینی اور کیس کے فیصلہ کے حوالہ سے ذہنی انتشار اور اندیشہ ہائے دوردراز کا سلسلہ جاری ہے، ہر ایک کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کل کیا ہوگا۔
قومی اداروں ، ان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچوں اورمختلف حکومتی و ریاستی معاملات تک کے تعطل کی باتیں میڈیا میں آرہی ہیں، میڈیا ٹاکس میں جذباتی مکالمے عروج پر ہیں،کھینچاتانی ، بحث و تکرار کا بازار گرم ہے، نازیبا کلمات تک آن ایئر جاتے ہیں، کسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں ورنہ گھر بھیجنے کا فارمولا ہمارے پاس ہے، دوسرے سیاست دان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا مفاد یہی ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں، مگر کوئی نہیں سوچتا کہ سپریم کورٹ آخر کس بات کا فیصلہ کرنے جارہی ہے ، سیاستدان اپنے فیصلے یوں تو جاری نہ کریں، عدلیہ کے وقار کو دھچکے لگ رہے ہیں ، جج حضرات یہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں حالانکہ عدلیہ چاہے تو پل بھر میں نام نہاد متوازی سیاسی عدالتوں کی بساط لپیٹی جاسکتی ہے۔
اس طوفان بد تمیزی کو اور میڈیا پر کیس پر تبصروں کو روکنے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بھی جمہوری قدروں کی پیروی ، انصاف کے حصول کی روایات اور پارلیمانی آداب سے الگ کوئی چیز نہیں، پاناما کیس کی وجہ سے سیاسی ، وزارتی اداکاروں اور شرکا کو عدالتی احترام، انصاف کی فراہمی کے نظام ، کیس کی حساسیت، اس کے ملک گیر سیاسی مضمرات و نتائج کی روشنی میں جمہوری رویے اور مسلمہ سماجی و سیاسی اقدار سے متعلق شعور وآگہی کا فیضان حاصل ہونا چا ہئے ، حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے ممکنہ عدالتی فیصلے کے تناظر میں اپنے آیندہ کے روڈ میپ اور لائحہ عمل سے قوم کو آگاہ کریں، وزیراعظم کی تبدیلی ، نئے پاکستان اور شفاف سیاسی نظام کی نوید لفاظی اور میڈیا ٹاکس سے ہر گز حقیقت میں نہیں بدل سکتی، اس کے لیے ہوم ورک کس پارٹی نے مکمل کیا ہے اور وہ ورکنگ پیپرز کہاں ہیں ،پاناما لیکس پیپرز پر بازی گری کافی نہیں، انٹرا پارٹی تیاریوں کی عوام کو لحظہ با لحظہ خبر ملنی چاہیے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ میڈیا ہی کو سیاست دان ایک عدالتی فورم کا متبادل سمجھ بیٹھے ہیں، بیشمار پروگراموں میں ان کی مسلسل شرکت اور لفظوں کی گولہ باری محض ریٹنگ بڑھانے اور پوائنٹ اسکورنگ تک محدود ہے، ٹمپر لوز کرتے سیاسی چہرے میڈیا کے سحر میں مبتلا ہیں، سیاست عوامی ریلیف اور جمہوری ثمرات سے کس قدر متصف ہے کسی کو اس سے دلچسپی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور کیس کے فریقین کا جمہوری اقدار اور عدالت عظمیٰ کے آنے والے فیصلہ پر یقین مستحکم اور محکم ہونا چاہیے بشرطیکہ موجودہ سیاسی صورتحال انھیں اس کی مہلت دے۔
گزشتہ روز عدلیہ نے صائب ریمارکس دیے کہ شفافیت کے لیے رپورٹ کا خفیہ حصہ(والیم 10) بھی عام کیا جائے گا، عدلیہ کی اس آبزرویشن پر بھی اہل سیاست سوچ بچار کریں جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی پابند نہیں، پیش کی گئیں دستاویزات کو بطور قابل قبول شواہد لیا جاسکتا ہے یا نہیں، اس کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک ملازمت کے بارے میں دستاویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی دستاویز مصدقہ نہ ہو تو کون سند دے گا کہ یہ کاغذ اصلی بھی ہیں یا نہیں؟ غیر مصدقہ دستاویزات کی قانونی حیثیت کو بھی جانچنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہو تو اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل فل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا عدالت جے آئی ٹی دستاویزات پر فیصلہ کر سکتی ہے؟ سوال یہ ہے حاصل شدہ دستاویزات کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ نتائج اخذ کرنا عدالت کا کام ہے ، سپریم کورٹ کے لیے جے آئی ٹی کی سفارشات پر عملدرآمد لازم ہے نہ وہ اس کی پابند ہے،کوئی دستاویز بطور ثبوت قابل قبول ہو تب بھی وہ فیصلہ کے لیے حرف آخر نہیں، عدلیہ نے قرار دیا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم ان فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم ان پر عمل کیوں کریں، خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی فائنڈنگ نہیں دے سکتی، یہ عدالت کا کام ہے، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ یہ پہلو ہم نے بھی ڈسکس کیا ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے تاہم آپ خود کو قانونی پہلوؤں تک محدود رکھیں، جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کر رہی تھی۔ ان معروضات میں بھی فریقین اور ان کے وکلا کے لیے ایک بلیغ پیغام ہے۔
دنیا کے عدالتی فورم بھی مجرموں ، ملزموں اور وکلا کی شدت آمیز رویوں ، اضطراری طرز عمل اور درشت گوئی سے مبرا نہیں لیکن وہاں ججز کے احترام اور انصاف کے شفاف نظام کو بحیثیت مجموعی کوئی خطرہ نہیں، سیاسی مقدموں کی بڑھ چڑھ کر کوریج ہوتی ہے، کرپشن ، قتل، اغوا ،دہشتگردی اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں اور ریاستی تنازعات میں ملوث ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کے خلاف عدالت میں کیسز چلتے ہیں، مگر وہاں عدالت سے باہر تماشے نہیں لگتے، اسے عدالتی وقار کے منافی سمجھا جاتا ہے،میڈیا بھی حد پار نہیں کرتا۔ مشہور ہے کہ ہر کہانی کے تین پہلو ہوتے ہیں ، تہماری کہانی، میری کہانی اور سچی کہانی، جب کہ مغرب کے وکلا میں اس مقولے کو بھی مقبولیت حاصل رہی کہ اچھے اور عظیم وکیل میں کیا فرق ہے، جواب ملا کی اچھا وکیل قانون کو جانتا ہے جب کہ عظیم وکیل جج کو اچھی طرح پہچانتا ہے۔ اسی سیاق وسباق میں ہمارے سیاست دانوں کو عدلیہ کے صبر وتحمل کا مزید امتحان نہیں لینا چاہیے۔ قبل اس کے کہ عدالت خود سے حکم دے کہ عدالت کے باہر تماشا بند کیا جائے، صائب حسن عمل یہی ہے کہ حکمراں، اپوزیشن جماعتیں اور وکلا عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا سنجیدگی سے انتظار کریں۔
عجیب بات ہے کہ عدالت عظمیٰ جیسے ہی کیس کی سماعت ملتوی کرتی ہے عدالت سے باہر ''ماورائے عدالت'' اسٹیج سج جاتا ہے جس پر زیرسماعت کیس پر تبصروں کا طوفان اٹھایا جاتا ہے، سیاسی جماعتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ ایک ہائی پروفائل کیس کی اس وقت عدالت میں سماعت ہورہی ہے، اس کے فیصلے تک صبر وتحمل اور جمہوری طرز عمل کا مظاہر ہونا شرط ہے جب کہ اس اصول کی پاسداری ن لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو ہر حال میں کرنی چاہیے، چونکہ پاناما کیس میں ان کے اسٹیکس بہت ہیں، انھیں عدالت کے باہر ''جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو، اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا '' کا سلسلہ بند کردینا چاہیے جس کے منفی اثرات پورے ملک کو ناقابل تلافی اعصابی ہیجان اور شدید ڈپریشن میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہے ہیں، ایک طرف سیاسی پولیرائزیشن بڑھتی جارہی ہے، سیاسی محاذ آرائی، خلفشار،بے یقینی اور کیس کے فیصلہ کے حوالہ سے ذہنی انتشار اور اندیشہ ہائے دوردراز کا سلسلہ جاری ہے، ہر ایک کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کل کیا ہوگا۔
قومی اداروں ، ان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچوں اورمختلف حکومتی و ریاستی معاملات تک کے تعطل کی باتیں میڈیا میں آرہی ہیں، میڈیا ٹاکس میں جذباتی مکالمے عروج پر ہیں،کھینچاتانی ، بحث و تکرار کا بازار گرم ہے، نازیبا کلمات تک آن ایئر جاتے ہیں، کسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں ورنہ گھر بھیجنے کا فارمولا ہمارے پاس ہے، دوسرے سیاست دان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا مفاد یہی ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں، مگر کوئی نہیں سوچتا کہ سپریم کورٹ آخر کس بات کا فیصلہ کرنے جارہی ہے ، سیاستدان اپنے فیصلے یوں تو جاری نہ کریں، عدلیہ کے وقار کو دھچکے لگ رہے ہیں ، جج حضرات یہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں حالانکہ عدلیہ چاہے تو پل بھر میں نام نہاد متوازی سیاسی عدالتوں کی بساط لپیٹی جاسکتی ہے۔
اس طوفان بد تمیزی کو اور میڈیا پر کیس پر تبصروں کو روکنے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بھی جمہوری قدروں کی پیروی ، انصاف کے حصول کی روایات اور پارلیمانی آداب سے الگ کوئی چیز نہیں، پاناما کیس کی وجہ سے سیاسی ، وزارتی اداکاروں اور شرکا کو عدالتی احترام، انصاف کی فراہمی کے نظام ، کیس کی حساسیت، اس کے ملک گیر سیاسی مضمرات و نتائج کی روشنی میں جمہوری رویے اور مسلمہ سماجی و سیاسی اقدار سے متعلق شعور وآگہی کا فیضان حاصل ہونا چا ہئے ، حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے ممکنہ عدالتی فیصلے کے تناظر میں اپنے آیندہ کے روڈ میپ اور لائحہ عمل سے قوم کو آگاہ کریں، وزیراعظم کی تبدیلی ، نئے پاکستان اور شفاف سیاسی نظام کی نوید لفاظی اور میڈیا ٹاکس سے ہر گز حقیقت میں نہیں بدل سکتی، اس کے لیے ہوم ورک کس پارٹی نے مکمل کیا ہے اور وہ ورکنگ پیپرز کہاں ہیں ،پاناما لیکس پیپرز پر بازی گری کافی نہیں، انٹرا پارٹی تیاریوں کی عوام کو لحظہ با لحظہ خبر ملنی چاہیے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ میڈیا ہی کو سیاست دان ایک عدالتی فورم کا متبادل سمجھ بیٹھے ہیں، بیشمار پروگراموں میں ان کی مسلسل شرکت اور لفظوں کی گولہ باری محض ریٹنگ بڑھانے اور پوائنٹ اسکورنگ تک محدود ہے، ٹمپر لوز کرتے سیاسی چہرے میڈیا کے سحر میں مبتلا ہیں، سیاست عوامی ریلیف اور جمہوری ثمرات سے کس قدر متصف ہے کسی کو اس سے دلچسپی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور کیس کے فریقین کا جمہوری اقدار اور عدالت عظمیٰ کے آنے والے فیصلہ پر یقین مستحکم اور محکم ہونا چاہیے بشرطیکہ موجودہ سیاسی صورتحال انھیں اس کی مہلت دے۔
گزشتہ روز عدلیہ نے صائب ریمارکس دیے کہ شفافیت کے لیے رپورٹ کا خفیہ حصہ(والیم 10) بھی عام کیا جائے گا، عدلیہ کی اس آبزرویشن پر بھی اہل سیاست سوچ بچار کریں جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی پابند نہیں، پیش کی گئیں دستاویزات کو بطور قابل قبول شواہد لیا جاسکتا ہے یا نہیں، اس کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک ملازمت کے بارے میں دستاویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی دستاویز مصدقہ نہ ہو تو کون سند دے گا کہ یہ کاغذ اصلی بھی ہیں یا نہیں؟ غیر مصدقہ دستاویزات کی قانونی حیثیت کو بھی جانچنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہو تو اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل فل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا عدالت جے آئی ٹی دستاویزات پر فیصلہ کر سکتی ہے؟ سوال یہ ہے حاصل شدہ دستاویزات کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ نتائج اخذ کرنا عدالت کا کام ہے ، سپریم کورٹ کے لیے جے آئی ٹی کی سفارشات پر عملدرآمد لازم ہے نہ وہ اس کی پابند ہے،کوئی دستاویز بطور ثبوت قابل قبول ہو تب بھی وہ فیصلہ کے لیے حرف آخر نہیں، عدلیہ نے قرار دیا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم ان فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم ان پر عمل کیوں کریں، خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی فائنڈنگ نہیں دے سکتی، یہ عدالت کا کام ہے، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ یہ پہلو ہم نے بھی ڈسکس کیا ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے تاہم آپ خود کو قانونی پہلوؤں تک محدود رکھیں، جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کر رہی تھی۔ ان معروضات میں بھی فریقین اور ان کے وکلا کے لیے ایک بلیغ پیغام ہے۔
دنیا کے عدالتی فورم بھی مجرموں ، ملزموں اور وکلا کی شدت آمیز رویوں ، اضطراری طرز عمل اور درشت گوئی سے مبرا نہیں لیکن وہاں ججز کے احترام اور انصاف کے شفاف نظام کو بحیثیت مجموعی کوئی خطرہ نہیں، سیاسی مقدموں کی بڑھ چڑھ کر کوریج ہوتی ہے، کرپشن ، قتل، اغوا ،دہشتگردی اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں اور ریاستی تنازعات میں ملوث ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کے خلاف عدالت میں کیسز چلتے ہیں، مگر وہاں عدالت سے باہر تماشے نہیں لگتے، اسے عدالتی وقار کے منافی سمجھا جاتا ہے،میڈیا بھی حد پار نہیں کرتا۔ مشہور ہے کہ ہر کہانی کے تین پہلو ہوتے ہیں ، تہماری کہانی، میری کہانی اور سچی کہانی، جب کہ مغرب کے وکلا میں اس مقولے کو بھی مقبولیت حاصل رہی کہ اچھے اور عظیم وکیل میں کیا فرق ہے، جواب ملا کی اچھا وکیل قانون کو جانتا ہے جب کہ عظیم وکیل جج کو اچھی طرح پہچانتا ہے۔ اسی سیاق وسباق میں ہمارے سیاست دانوں کو عدلیہ کے صبر وتحمل کا مزید امتحان نہیں لینا چاہیے۔ قبل اس کے کہ عدالت خود سے حکم دے کہ عدالت کے باہر تماشا بند کیا جائے، صائب حسن عمل یہی ہے کہ حکمراں، اپوزیشن جماعتیں اور وکلا عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا سنجیدگی سے انتظار کریں۔