یونیورسٹیاں اور مذہبی انتہاپسند

یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی گئی مگر مذہبی طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کو چھوٹ دی گئی۔

tauceeph@gmail.com

مستقبل میں مذہبی انتہاپسند مدارس کے بجائے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ابھریں گے۔ نورین لغاری اور سعد عزیز کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے واقعات سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ مذہبی انتہاپسندی جدید تعلیمی اداروں میں جڑیں پکڑ رہی ہے۔ حکومت سندھ کے دہشت گردی کے تدارک کے محکمے C.T.D نے سرکاری اور پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے سربراہوں کے لیے دہشت گردی کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا۔

سی ٹی ڈی کے افسر منیر احمد شیخ نے شرکاء کو اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایاکہ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی سندھ کی طالبہ نورین لغاری سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بعد میں بتایا کہ 10 سے 15 طالبات کے گروپ کے رویے میں تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ یہ طالبات باقی طالبات سے علیحدہ ہوکر ایک درس کی محفل میں شریک ہوتی تھیں۔

شیخ صاحب نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر شرکاء کو بتایا کہ تبلیغ اور مذہبی انتہا پسندی کے درمیان انتہائی باریک فرق ہے جس کو سمجھنا ضروری ہے۔ سی ٹی ڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ عمر شاہد ملک جو انگریزی زبان میں دو ناول لکھنے کی بناء پر شہرت حاصل کرچکے ہیں کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی کی طرف مائل ہونے والے نوجوان تربیت یافتہ اور مہذب تھے۔

انھوں نے ایک 31سالہ نوجوان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے جدید تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی تھی اورایک جدید اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ یہ شخص اتنا انتہا پسند ہوا کہ وزیرستان جا کر طالبان میں شامل ہوا اور بعد میں امریکی ڈرون کے حملے میں زخمی ہوکر واپس آیا۔ آج کل یہ شخص مذہبی انتہاپسندی کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی تربیت کے مرکز میں کام کر رہا ہے۔ راجہ عمر خطاب جو سندھ پولیس کے سینئر افسر ہیں نے سیمینار میں کہا کہ کلفٹن میں قائم تعلیمی ادارے کا استاد اپنے ادارے میں نوجوانوں کے ذہنوں کو مذہبی انتہاپسندی کی طرف راغب کرتا تھا۔

اسی طرح ایک پرائیوٹ یونیورسٹی کے استاد نے اپنے صاحبزادے اور قریبی رشتے داروں کو مذہبی انتہاپسندوں کے دائرے میں شامل کرایا تھا اور ان لوگوں کو ہتھیار اور بم بنانے کی تربیت دی تھی، پولیس اس استاد کو تلاش کررہی ہے۔ ملک کے جدید تعلیمی اداروں میں مذہبی انتہاپسندی کا معاملہ خاصا قدیم ہے۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ صرف سوشل میڈیا کے پیغام اورکالعدم تنظیموں سے روابط کی بناء پر ہی مذہبی انتہا پسندی کی طرف مائل نہیں ہورہے ہیں بلکہ یونیورسٹیوں میں مذہبی انتہاپسندی جڑیں پکڑچکی ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کا سلسلہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے جا کر مل جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی اساتذہ کے مائنڈسیٹ ، نصاب، ریسرچ اور عمومی رویوں سے منسلک ہوتی ہے۔

ملک کی دو بڑی یونیورسٹیاں پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی 60ء کی دہائی سے دائیں بازو کے عناصر کے قبضے میں چلی گئی تھیں اور اساتذہ کے تقرر میں مخصوص نظریے کے حامل افراد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے اہلکاروں نے اساتذہ اور طلبہ کے اخلاق کو درست کرنے کی ذمے داری ازخود سنبھال لی تھی، یوں ان یونیورسٹیوں میں آزادانہ تحقیق اور علمی موضوعات پر کھلے مباحثوں کا رواج پروان نہیں چڑھ سکا تھا مگر جنرل ضیاء الحق کا دور بدترین دور ثابت ہوا۔ اس دور میں دائیں بازو کے رجعت پسندانہ نظریات کے علم برداروں کو تدریسی اور غیر تدریسی شعبوں میں ملازمتیں دی گئیں۔


یہ اساتذہ سائنسی طرز فکر سے ناآشنا تھے، یوں سوشل سائنس، فزیکل سائنس ، میڈیکل سائنس حتیٰ کہ انجنیئرنگ ٹیکنالوجی وغیرہ میں بھی رجعت پسندانہ نظریات شامل کیے گئے، اس طرح اساتذہ کے ساتھ ساتھ نصاب کو رجعت پسندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ میڈیکل سائنس کی بنیاد انسان کے ارتقاء پر ہے مگر کراچی کی حد تک بھی چند ایک کے سوا کوئی اور استاد ڈاکٹر ڈاورن کے نظریہ ارتقاء کو اس کی روح کے مطابق بیان کرنے کا اہل نہیں ہے۔

سوشل سائنس کے مضامین میں مذہبی مواد کی تعداد بڑھا دی گئی۔ ان مضامین کے وہ باب جو دنیا کی جدید یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل نہ ہوئے بلکہ پڑوسی ممالک اور مختلف مذاہب سے نفرت پر مبنی مواد خوب شامل رہا۔ سماجی علوم کے استاد ڈاکٹر ریاض شیخ کا کہنا ہے کہ سماجیات، فلسفہ اور انتھایولوجی جیسے مضامین میں انتہاپسند مواد کی مقدار بڑھادی گئی، یوں ان مضامین کی ہیت تبدیل ہوئی تھی۔

اردو زبان کے نصاب میں بھی انتہاپسندانہ مواد شامل کیا گیا۔ معاملہ صرف اساتذہ اور نصاب تک محدود نہیں رہا بلکہ تحقیق کے شعبے میں بھی انتہاپسند موضوعات کو اہمیت دی گئی۔ ابلاغ عامہ، معاشیات، تجارت، کاروباری نظمیات، ارضیات اور دیگر مضامین کے طلبہ نے مذہبی موضوعات پر مقالے لکھ کر ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان طالب علموں کے مقالوں میں ایک جیسا مواد شامل ہوا جس سے تحقیق میں سرقہ نویسی کے کیس بڑھ گئے۔ سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال تو اسلامیات کی فیکلٹی میں ہوئی۔ اسلامی علوم کی فیکلٹی فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہوگئی۔ ہر فرقے کے طالب علم کے مقالے جانچ پڑتال کے لیے اس فرقے کے اساتذہ کو بھیجے جانے لگے اور ایک ہی موضوع پر تحقیق کرنے والوں کی بھرمار ہوگئی۔

یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی گئی مگر مذہبی طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کو چھوٹ دی گئی۔ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والی ان طلبہ تنظیموں نے اپنے فرقے سے متعلق موضوعات پر جلسے کرانے شروع کیے۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس طرح کے جلسوں کی سرپرستی کرے۔ اس سال کے اوائل میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم مشال خان کی ہجوم کے ہاتھوں قتل اسی طرح کی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ مشال خان کو قتل کرنے والوں میں طلبہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان شامل تھے جو ایک مقدس فریضے کو انجام دینے جارہے تھے۔

مردان میں مذہبی جماعتوں کی ان افراد کی رہائی کے لیے مہم اس نیٹ ورک کو ظاہرکررہی ہے، جو مشال خان کے قتل کی وجہ بنا۔ یونیورسٹیوں میں مذہبی انتہاپسندی کی جڑیں مضبوط ہونا ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کررہا ہے۔ اس سیمینار میں ایک سرکاری یونیورسٹی کے عہدیدار نے یہ نکتہ اٹھایا کہ سرکاری ایجنسیاں یونیورسٹی کے مختلف معاملات میں مداخلت تو کرتی ہیں مگر کبھی مذہبی انتہاپسندی کے مسئلے پر معلومات حاصل نہیں کرتیں۔ یہی صورتحال پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ہے۔ اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹی، مقامی انتظامیہ، پولیس، رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں میں قریبی تعاون ضروری ہے۔

اب وقت ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے سیمینار اور جلسوں پر پابندی لگادی جائے۔ اساتذہ کے تقرر، نصاب اور تحقیق کے شعبوں سے مذہبی انتہاپسندی پر مبنی مواد کو خارج کیا جائے۔ اساتذہ کی تربیت اس طرح کی جائے کہ وہ طالب علموں کو مذہبی انتہاپسندی کے نقصان سے آگاہ کریں۔ نوجوانوں کو بتایا جائے کہ یہ مذہبی انتہاپسند معاشرے کوکئی ہزار سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں اور ان کا مقابلہ روشن خیال طلبہ اور اساتذہ کرسکتے ہیں۔ اس پورے عمل کی سرپرستی ریاستی سطح پر ہونی چاہیے، اسی طرح مذہبی انتہاپسندی کا ''جن ''قابو میں آئے گا۔
Load Next Story