غریب الوطنی کے عذاب

نیٹ ہماری ترقی کا ایک شاندار ثبوت ہے لیکن انٹرنیٹ پر اپنے بچوں کے آنسو اس ترقی کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

سرمایہ دارانہ نظام کی بے شمار بیماریوں میں سے ایک انتہائی کربناک بیماری بیروزگاری ہے، یہ بیماری صرف پسماندہ ملکوں کے عوام ہی کا مقدر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہ بیماری موجود ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر ملک کے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کی طرف پسماندہ علاقوں کے بے روزگاروں کے قافلے اتنی بڑی تعداد میں پہنچتے ہیں کہ ترقی یافتہ شہر بہت سارے سنگین مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر صرف کراچی پر نظر ڈالی جائے تو ترک سکونت سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل کی بھیانک شکل ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔

حصول روزگار کے لیے ترک وطن کرنے والوں میں تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں، ناخواندہ بھی، ماہر بھی، غیر ماہر بھی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ایسے لوگ بھی جو اپنے ملکوں کا اثاثہ ہوتے ہیں، کوئی اپنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے غریب الوطن بن رہا ہے، کوئی بہتر اور آسودہ زندگی کی خواہش کے ساتھ اپنا گھر، اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں، بیوی بچوں سے جدا ہو رہا ہے اور اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے لوگ اپنے ملک میں اپنی تعلیم، اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے غریب الوطنی کا شکار ہو رہے ہیں اور ان لاکھوں غریب الوطن لوگوں کے بھیجے ہوئے زر مبادلہ سے بیشتر ملکوں کی معیشت ڈوبنے سے بچی ہوئی ہے، پاکستان کی معیشت کو بھی غریب الوطن لوگوں کے زرمبادلہ نے سہارا دیا ہوا ہے۔

آج میں اس اہم ترین اور بدترین مسئلے پر اس لیے بھی لکھ رہا ہوں کہ میں حصول روزگار کے لیے غریب الوطنی کے عذاب میں مبتلا ''ایک نوجوان'' کو درپیش مصائب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، دوسرے ہزاروں نوجوانوں کی طرح یہ نوجوان اور باہنر انسان بھی اپنی آنکھوں میں خوبصورت مستقبل کے خواب سجائے کراچی کی سڑکوں پر برسوں دھکے کھاتا رہا، لیکن اس لیے اپنے خوابوں کی تعبیر سے محروم رہا ۔ ہمارے کرپٹ ترین معاشرے میں کوئی باپ اس وقت تک اپنے بیٹوں کے خوابوں کو تعبیر نہیں دے سکتا جب تک وہ خود اس کرپٹ معاشرے کا حصہ نہیں بن جاتا۔ ایسے باپ جو اس کرپٹ ترین معاشرے کا حصہ بننے کے بجائے اس کرپٹ ترین معاشرے کو بدلنے کی جنگ لڑتے ہیں وہ اپنے بیٹوں کے حسین سپنوں کو سہکار نہیں کر سکتے۔

ہمارے ملک میں معمولی گریڈ 7 کی نوکریاں 5-5 لاکھ میں فروخت ہو رہی ہیں اسی تناسب سے اوپر کے گریڈ تک کے ریٹ مقرر ہیں، حکمران طبقات کا ہر حصہ اپنے اپنے کوٹوں کی نوکریاں دھڑلے سے بیچ رہا ہے اور کروڑوں اربوں روپے کما رہا ہے۔ جس کے پاس ملازمت خریدنے کے لیے سرمایہ نہیں وہ ملک کے اندر ملک کے باہر دھکے کھا رہا ہے۔ یہ نوجوان بھی ہزاروں بے زر نوجوانوں اور ''نااہل باپوں'' کی وجہ سے ملک کے اندر کے دھکوں سے تنگ آ کر کسی نہ کسی طرح دبئی پہنچ گیا۔ دبئی روزگار اور کاروبار کے حوالے سے بے روزگاروں کی جنت سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں دبئی چلو ایک ایسا پرکشش نعرہ بن گیا تھا کہ جنوبی ایشیاء کے بے روزگاروں کے قافلے دبئی کی طرف رواں دواں تھے۔ ''اعلیٰ حلقوں'' میں اس کی کشش کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ دبئی کو پیرس بنا دیا گیا ہے جہاں وہ ''ساری سہولتیں'' مہیا کر دی گئی ہیں جو پیرس میں دستیاب تھیں، دوسری وجہ یہ تھی اور ہے کہ دبئی ناکام سیاستدانوں اور کامیاب سیاستدانوں دونوں کے لیے ایک محفوظ مرکز بنا ہوا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دبئی امراء کے لیے زیادہ پرکشش بنتا جا رہا ہے، بے روزگاروں کے لیے مایوسی اور ناکامی کے مرکز میں بدل رہا ہے، اس کی آمدنی کا ذریعہ سیاحت رہ گیا ہے۔


دنیا بھر سے کروڑں انسان حصول روزگار کے لیے قومی سطح پر ترقی یافتہ شہروں کی طرف دوڑ رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر صنعتی اور ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر رہے ہیں، ترک وطن کا یہ سلسلہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ایک قانونی ایک غیر قانونی۔ قانونی حصہ بھی کرپشن میں دھنسا ہوا ہے، غیر قانونی حصہ بھی کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ قانونی طریقے سے نقل وطن کرنے والے بھی عذابوں میں مبتلا ہیں اور غیر قانونی طریقوں سے ترک وطن کرنے والے بھی شدید عذابوں سے دوچار ہیں، ان میں سب سے بڑا عذاب انسانی اسمگلروں کی مافیا ہے جو ضرورتمندوں کو کنٹینروں میں بھر کر لے جاتی ہے اور کشتیوں میں ڈال کر دوسرے ملکوں کو اسمگل کرتی ہے اور اب تک حصول روزگار کے متلاشی ہزاروں بے روزگار اچھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے کنٹینروں کی دم گھٹنے والی کھولیوں میں دم گھٹ کر موت سے جا ملے اور ہزاروں کشتیاں ڈوبنے کی وجہ سے سمندر کا رزق بن گئے، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے صنعتی شہر اور امیر ملک کوہِ ندا بنے آج بھی بے روزگاروں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ان تارکین وطن کو جہاں بے شمار جسمانی آزار کا سامنا رہتا ہے وہیں انھیں اپنے عزیز و اقارب اپنے ماں باپ، اپنے بھائی بہنوں، اپنے بیوی بچوں سے طویل جدائی کے ذہنی عذاب کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماں باپ، بھائی بہنوں، بیوی بچوں کے ساتھ ذہنی سکون سے زندگی گزارنے والے لوگوں کو جب ہزاروں روپے ماہانہ کرائے کے ساتھ ٹرینوں کی برتھوں کی طرح کرائے کے کمروں کی چار چار پانچ پانچ منزلہ برتھوں پر مختلف مزاج مختلف کلچر کے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں، آج جب ان آنسوؤں کو اپنی آنکھوں سے نیٹ پر دیکھ رہا ہوں تو مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ بے روزگاری کے جبر کی مسلط کردہ غریب الوطنی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے اور وطن چھوڑ کر غریب الوطن ہونے والے جب غریب الوطنی میں بھی روزگار کے لیے رات دن بھاگتے اور ناکام ہوتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو ان کے ماں باپ، بھائی بہنوں، بیوی بچوں کے لیے کیسی کیسی ذہنی اذیتوں کا باعث بن جاتے ہیں اور ماں باپ ان کی مدد کرنے سے کس طرح معذور ہو کر کلیجہ تھام لیتے ہیں۔

آج دنیا کے کئی ملکوں میں حصول روزگار کے لیے جانے والے کروڑوں انسان غریب الوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، ان میں اچھی ملازمتیں، اچھا کاروبار کرنے والے لوگ بھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے اچھی رہائش، اچھی تعلیم اور آسودہ زندگی بھی فراہم کر رہے ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو غیر ملکوں میں سخت محنت کر کے بھی صرف اپنے بچوں کی بھوک کا ازالہ کر پا رہے ہیں، اور ایسے نوجوان بھی جو ملک ملک کی خاک چھانتے اور قدم قدم پر تکالیف اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنے کے باوجود حصول روزگار سے محروم ہو کر ناکامیوں کے آنسو آنکھوں میں سجائے اپنے ماں باپ، اپنے بھائی بہنوں، اپنے بیوی بچوں کی آنکھوں کو نم اور روح کو زخمی کر رہے ہیں۔

میں حیران ہوں کہ ہر ملک اپنے شہریوں کو روزگار فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے، کیوں دیہی علاقوں کے لوگ بڑے شہروں اور پسماندہ ملکوں کے لوگ ترقی یافتہ ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں؟ سرمایہ دارانہ ملکوں کے جمہوری ملکوں میں روزگار جان و مال کا تحفظ آئین میں موجود ہے، ہمارے ملک میں جہاں آج آزاد عدلیہ موجود ہے، آئین روزگار ، جان و مال کی ضمانت دیتا ہے، کیوں لاکھوں نوجوان روزگار اور جان و مال کی سلامتی کے لیے دوسرے ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں، کیا قانون آئین اندھا، گونگا اور بہرہ ہے؟ کیا وہ 7 گریڈ کی نوکریوں کو پانچ پانچ، چھ چھ لاکھ میں فروخت ہوتا اور یہ قیمت ادا نہ کر سکنے والوں کو غریب الوطنی کے عذاب بھگتتے نہیں دیکھ رہا ہے؟ ہمارے حکمران زرمبادلہ کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر اپنے لاکھوں شہریوں کی غریب الوطنی اور دوسرے ملکوں میں حصول روزگار میں خاک چھاننے والوں کی بے بسی کب تک دیکھتے رہیں گے، جس کا مشاہدہ ہم نیٹ پر کر رہے ہیں جن کے آنسو ہم نیٹ پر دیکھ رہے ہیں، نیٹ ہماری ترقی کا ایک شاندار ثبوت ہے لیکن انٹرنیٹ پر اپنے بچوں کے آنسو اس ترقی کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، کیا اس طمانچے کی تکلیف ہمارا حصول اقتدار کی خواہش میں اندھا طبقہ محسوس کر سکتا ہے؟
Load Next Story