پاکستان اسٹیل کا مجموعی خسارہ 136 ارب سے تجاوز کرگیابہتری کیلئے مزید 22 ارب طلب

4 سال میں اسٹیل ملز 36 ارب کے 4 بیل آئو ٹ پیکیجز ڈکار گئی، پیداواری استعداد 40 فیصد تک نہ پہنچ سکی۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے، خام مال و پیداوار پر دوہرا سیلز ٹیکس ختم، منافع کمانے کے قابل ہونے تک بھرتیاں نہ کی جائیں،قائمہ کمیٹی کی سفارشات فوٹو: فائل

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پاکستان اسٹیل ملز کامجموعی خسارہ 136 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے، جبکہ گزشتہ 4 سال کے دوران اسٹیل ملز نے 36 ارب روپے کے 4 بیل آئوٹ پیکیجز بھی ڈکار لیے۔

اس کے باوجود پیداواری استعداد 40 فیصد تک نہ پہنچ سکی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کو 51 فیصد سے 49 فیصد شیئرز کے تناسب پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے اور اسٹیل ملز کے خام مال و پیداوار پر دوہرا سیلز ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کردی۔ اگر خام مال پر 16 فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے تو آئرن اور باہر سے نہیں منگوانا پڑے گا۔ اسٹیل ملز جب تک منافع کمانے کے قابل نہیں ہوتی، نئی بھرتیاں نہ کی جائیں جبکہ چیئرمین اسٹیل ملز نے مزید 22 ارب روپے کا بیل آئوٹ پیکیج مانگ لیا۔

پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ نے گزشتہ 4 سال کے دوران ملازمین کے کنٹری بیوٹری پراویڈنٹ فنڈ کے 8.5 ارب روپے بھی جھونک دیے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین راجہ ظفر الحق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین/ سی ای او میجر جنرل (ر) جاوید نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 4 سال کے دوران 36 ارب 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کے 4 بیل آئوٹ پیکیج دیے، جس پر اسٹیل ملز کو سالانہ 4ارب روپے سود ادا کرنا ہوگا، جبکہ پیداوار میں اضافے اور خسارے پر قابو پانے کیلیے حکومت سے مزید 22 ارب روپے کا بیل آئوٹ پیکیج مانگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ 36 ارب روپے میں اسٹیل ملز کے ملازمین کے کنٹری بیوٹری پراویڈنٹ فنڈ کے 8.5 ارب روپے میں اسٹیل ملز کے ملازمین کے کنٹری بیوٹری پراویڈنٹ فنڈ کے موجودہ حکومت نے پہلا بیل آئوٹ پیکیج 2009 میں 10 ارب روپے کا دیا، جس میں 6.5 ارب روپے ایل سی ایڈجسٹمنٹ،3.5 روپے خام مال کی ادائیگیوں اور ایک ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ کیے جبکہ 2010 میں موجودہ حکومت نے دوسرا بیل آئوٹ پیکیج 10.608 ارب روپے، 2011 میں تیسرا بیل آئوٹ پیکیج 6 ارب روپے جبکہ 2012 میں چوتھا بیل آئوٹ پیکیج 14.6 ارب روپے کا دیا مگر اس کے باوجود اسٹیل ملز کے خسارے پر قابو نہیں پایا جاسکا۔




انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کی پیداواری استعداد 1.1 ایم پی ٹی وائی سے 1.5 ایم پی ٹی وائی کرنے کیلیے حکومت سے 22 ارب روپے کا بیل آئوٹ پیکیج مانگا ہے۔ میجر جنرل (ر) جاوید نے کہا کہ اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 63 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے جبکہ اسٹیل ملز پر 72 ارب 93 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ادائیگیاں بھی واجب الادا ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز میں مستقل ملازمین کی تعداد 15644 ہے جس میں 3466 افسران ہیں جبکہ ہزار کے لگ بھگ ڈیلی ویجز ملازمین کام کررہے ہیں، چیئرمین اسٹیل ملز نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ روس کی حکومت کے ساتھ ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت پیداواری استعداد بڑھانے کیلیے 50 لاکھ ڈالر قرضہ ملے گا۔

قائمہ کمیٹی کے فاضل رکن سردار فتح محمد حسنی نے کہا کہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں چکن رکا اور پاچنکو کے مقامات سے آئرن کی اتنی پیداوار ممکن ہے کہ اسٹیل ملز کو خام مال باہر سے نہیں منگوانا پڑے گا، بدقسمتی سے 20 سال قبل مذکورہ دونوں مقامات پر کام روک دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسٹیل ملز پر دوہرا سیلز ٹیکس عائد ہے، اگر خام مال پر سیلز ٹیکس ہٹادیا جائے تو اسٹیل ملز کو باہر سے آئرن اور درآمد نہیں کرنے پڑے گا، جبکہ قائمہ کمیٹی کے دیگر فاضل ارکان حاجی غلام علی اور مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اسٹیل ملز کو پرائیویٹائز کرنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔

حکومت کا کام اسٹیل مل چلانا نہیں، اس سفید ہاتھی سے جان چھڑائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 51 فیصد اور 49 فیصد شیئرز کے تناسب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے، اسٹیل ملز کے خام مال پر 16 فیصد سیلز ٹیکس ہٹایا جائے ، جبکہ اسٹیل ملز جب تک منافع نہیں کماتی نئی بھرتیاں نہ کی جائیں۔
Load Next Story