فائرنگ سے زخمی انٹیلی جنس پولیس افسر دوران علاج دم توڑ گیا
کامران کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی، تدفین نیو کراچی کے قبرستان میں ہوگی
مقتول ڈیوٹی ختم کرکے بعد گھر جا رہا تھا، نامعلوم ملزمان نے گولیاں ماریں، پولیس۔ فوٹو: فائل
نیو کراچی بلال کالونی میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا سمن آباد تھانے کا انٹیلی جنس پولیس افسر دوران علاج دم توڑ گیا۔
مقتول کی نماز جنازہ آج(جمعہ کو) بعد نماز جمعہ خواجہ اجمیر نگری پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی جائے گی،تدفین نیو کراچی سندھ ہوٹل کے قریب واقع 6 نمبر قبرستان میں کی جائے گی، تفصیلات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب بلال کالونی کی حدود سیکٹر 5C4/2 مدیحہ اسٹاپ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے125 موٹر سائیکل سوار سمن آباد تھانے کا انٹیلی جنس افسر اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی ولد سید نجم احمد رحمانی زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا۔
جہاں زخمی پولیس افسر کا فوری آپریشن کر کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا اور زخمی اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی گزشتہ روز زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے عباسی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا تھا، ایس ایچ او تھا نہ بلال کالونی محسن علی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کو 9 ایم ایم پستول کی ایک گولی لگی تھی جس نے ریڑھ کی ہڈی کو چیرتی ہوئی پیٹ کی بڑی آنت کو نقصان پہنچایا تھا اور وہی موت کا سبب بنی، انھوں نے بتایا کہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب مقتول سمن آباد تھانے سے ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد اپنے گھر جا رہا تھا.
انھوں نے بتایا کہ مقتول سر جانی ٹائون سیکٹر5/D شاہ جی ہوٹل کے قریب رہائش پذیر تھا، انھوں نے بتایا کہ بلال کالونی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ 28/13 مقتول کے والد سید نجم احمد رحمانی کی مدعیت میں درج کر کے تفتیش شروع کردی، سمن آباد پولیس کے مطابق مقتول اے ایس آئی انٹیلی جنس ڈیوٹی پر معمور تھا اور سر کاری کام سے بلال کالونی گیا تھا جہاں اسے فائرنگ کر کے زخمی کردیا گیا تھا، انھوں نے بتایا مقتول نے15/10/1988کو سندھ پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی اور 25/2/2011 سے سمن آباد تھانے میں تعینات تھا.
انھوں نے بتایا کہ مقتول 2011 سے قبل ٹریفک پولیس اور انویسٹی گیشن پولیس میں بھی تعینات رہ چکا تھا، مقتول اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی کے بھائی سید ارسلان احمد رحمانی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ6بہن بھائی ہیں اور مقتول بہن بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول نے5بچے ہیں جن میں3بیٹیاں اور 2 بیٹے شامل ہیں،انھوں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ قبل 23 دسمبر 2012 کو ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوا تھا۔
مقتول کی نماز جنازہ آج(جمعہ کو) بعد نماز جمعہ خواجہ اجمیر نگری پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی جائے گی،تدفین نیو کراچی سندھ ہوٹل کے قریب واقع 6 نمبر قبرستان میں کی جائے گی، تفصیلات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب بلال کالونی کی حدود سیکٹر 5C4/2 مدیحہ اسٹاپ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے125 موٹر سائیکل سوار سمن آباد تھانے کا انٹیلی جنس افسر اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی ولد سید نجم احمد رحمانی زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا۔
جہاں زخمی پولیس افسر کا فوری آپریشن کر کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا اور زخمی اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی گزشتہ روز زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے عباسی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا تھا، ایس ایچ او تھا نہ بلال کالونی محسن علی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کو 9 ایم ایم پستول کی ایک گولی لگی تھی جس نے ریڑھ کی ہڈی کو چیرتی ہوئی پیٹ کی بڑی آنت کو نقصان پہنچایا تھا اور وہی موت کا سبب بنی، انھوں نے بتایا کہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب مقتول سمن آباد تھانے سے ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد اپنے گھر جا رہا تھا.
انھوں نے بتایا کہ مقتول سر جانی ٹائون سیکٹر5/D شاہ جی ہوٹل کے قریب رہائش پذیر تھا، انھوں نے بتایا کہ بلال کالونی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ 28/13 مقتول کے والد سید نجم احمد رحمانی کی مدعیت میں درج کر کے تفتیش شروع کردی، سمن آباد پولیس کے مطابق مقتول اے ایس آئی انٹیلی جنس ڈیوٹی پر معمور تھا اور سر کاری کام سے بلال کالونی گیا تھا جہاں اسے فائرنگ کر کے زخمی کردیا گیا تھا، انھوں نے بتایا مقتول نے15/10/1988کو سندھ پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی اور 25/2/2011 سے سمن آباد تھانے میں تعینات تھا.
انھوں نے بتایا کہ مقتول 2011 سے قبل ٹریفک پولیس اور انویسٹی گیشن پولیس میں بھی تعینات رہ چکا تھا، مقتول اے ایس آئی سید کامران احمد رحمانی کے بھائی سید ارسلان احمد رحمانی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ6بہن بھائی ہیں اور مقتول بہن بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول نے5بچے ہیں جن میں3بیٹیاں اور 2 بیٹے شامل ہیں،انھوں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ قبل 23 دسمبر 2012 کو ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوا تھا۔