ووٹ کاصحیح استعمال کرکے گند صاف کیاجاسکتا ہے پشاور ہائیکورٹ

بعض قوتیںووٹ کاحق نہ رکھنے کے باوجود نظام کی تبدیلی کی بات کرتی ہیں،جسٹس دوست محمد

ماروی میمن کی اٹھارویں ترمیم کی شق کیخلاف پٹیشن کی سماعت کے دوران ریمارکس۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمدخان نے کہا ہے کہ بعض قوتیں ووٹ کاحق نہ رکھنے کے باوجود بھی نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں جسکا مقصد ملک میں عدم استحکام لانا ہے جبکہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلیے جمہورریت اوراسکا استحکام ہی واحد راستہ ہے۔

اگر عوام صحیح طریقے سے استعمال کریں تو خود ہی تمام گند کو صاف کرسکتے ہیں۔ جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور مسزجسٹس ارشاد قیصر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کی جانب سے اٹھارویں ترمیم کی شق63(اے) کے خلاف دائررٹ پٹیشن پر سماعت شروع کی تو اس موقع پر ماروی میمن کے وکیل بیرسٹرعمرفاروق آدم نے عدالت کو بتایا کہ 18ویں ترمیم میں 63(اے) کے ذریعے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے لازم قرار دیاگیاہے کہ وہ پارٹی پالیسی کی بجائے پارٹی ہیڈ کے احکام کے خلاف نہیں جائیں گے جو جمہوریت کے عمل میں آمریت ہے۔




اس شق میں اراکین اسمبلی کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں لہٰذا اس شق کو آئین سے متصادم قرار دے کرکالعدم قرار دیا جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اقبال مہمند نے عدالت کو بتایاکہ آئین کے تحت درخواست گزارہ ماروی میمن متاثرہ فریق نہیںجبکہ رٹ میں وزارت قانون اپنا جواب داخل کرچکی ہے ۔ عدالت نے وفاق سے جواب مانگتے ہوئے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی۔
Load Next Story