کیا وفاق کراچی کے کھنڈ بن جانے پر کردار ادا کرے گا سپریم کورٹ
شہریوں کاتحفظ نہیں کرسکتے توآئین سے آرٹیکل9کونکال دیں،3ہزار افرادکے قتل کے الزام میںگرفتارملزمان کی فہرست پیش کی جائے
وزیرداخلہ ٹی وی پرکہہ دیتے ہیں کراچی والوں ہوشیار ہوجائو لیکن عملی طورپرکیاکیا؟عدالتی فیصلے پرعمل نہ ہواتونتائج بھگتناہوں گے،لارجربینچ،آئی جی سندھ کے وکیل کوتنبیہ۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہاہے کہ کراچی میں لہوبہہ رہاہے لیکن قانون سازی نہیںکی جارہی،من پسندافسران کیلیے گھنٹوں میں قانون سازی کرلیتی ہے،کیاوفاق اس وقت اپناکردارادا کریگا جب کراچی کھنڈربن جائے گا؟
زبانی جمع خرچ سے کراچی میں امن وامان بحال نہیں ہوگا،شہریوں کی زندگیوں کاتحفظ نہیں کرسکتے تو آرٹیکل9آئین سے نکال دیں ، 3ہزارشہریوں کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیے گئے ملزمان کی فہرست ان کے گروہوں سے تعلق کی تفصیل کے ساتھ پیش کی جائے۔ جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں4رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کوکراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس میں چیف سیکریٹری ،سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ،توہین عدالت کی درخواست عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹرحاجی عدیل نے دائر کی،بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمدجلال عثمانی اور جسٹس امیر ہانی مسلم شامل ہیں۔
جمعرات کوسماعت کے موقع پر فاضل بینچ نے اپنے 20ستمبر 2012 کے فیصلے کے پیرا نمبر 131میں جاری کی گئی ہدایات اور آبزرویشنز پر عملدرآمد کاجائزہ لیا،فاضل بینچ نے آبزرویشن دی کہ طویل مدت گزر جانے کے باوجودوفاق پاکستان نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمدکے حوالے سے کوئی رپورٹ پیش نہیںکی،اس کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی حلقہ بندیوںکے حوالے سے کوئی جواب عدالت کے ریکارڈپرپیش نہیں کیا،امن وامان کومتاثر کرنے والی کسی تنظیم کیخلاف آرٹیکل17کے تحت ریفرنس بھی داخل نہیں کیا گیا، کراچی میں دوسرے علاقوں سے آنیوالے اسلحے کی روک تھام کیلیے کیااقدامات کیے گئے اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتایاگیا۔
اس کے علاوہ بھتے اورتاوان کیلیے اغواکیے گئے شہریوں پرتشددکی جو وڈیوفلم عدالت میں پیش کی گئی اس میں نظرآنیوالے ملزمان کوبھی تاحال گرفتارنہیںکیاگیا،فاضل بینچ نے مزیدکہاکہ امن وامان سے متعلق تفصیلی فیصلے میں ہدایت کی گئی تھی کہ سیاسی جماعتیں دہشتگردوںکی سرپرستی سے دستبردار ہوجائیں مگر اس ضمن میں انتظامیہ نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا،کیا کہ کراچی میں دہشت گردوں اوربھتہ خوروں کو سیاسی جماعتوں کی اخلاقی،مالی اورسیاسی حمایت حاصل ہے، ایسے حالات میں امن کیسے قائم ہوگا،یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جوعوام کی نمائندگی کادعویٰ کرتی ہیں۔
عدالت نے استفسارکیاکہ وہ آئی جی سچاہے جس نے کہاتھا کہ پولیس میں40فیصدبھرتیاں سیاسی بنیادوں پرکی گئی ہیں یا یہ آئی جی سچاہے جس نے دعویٰ کیاکہ سندھ پولیس کے ایک لاکھ اہلکاروں میں ایک بھی سیاسی بھرتی نہیں،عدالت عظمیٰ نے سرکاری اداروںکے رویے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم فیصلے پرعمل درآمدچاہتے ہیں بصورت دیگرنتائج بھگتناہوںگے۔عدالت نے پولیس کوحکم دیاکہ مجرموں کی شناخت ظاہرکی جائے کہ ان کا تعلق کن گروپوں سے ہے۔آئی جی سندھ کے وکیل نے بتایاکہ کراچی 2کروڑآبادی کاشہرہے اور یہاں بے روزگاری جیسے مسائل بھی جرائم کاسبب ہیں۔
پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپورکارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں پولیس پربھی خود کش حملے اورریموٹ کنٹرول بم حملے کیے گئے،اس جنگ میں پولیس اہلکاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔جسٹس جوادایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ کراچی کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں،ہمیں یہ نہ بتایاجائے کہ پولیس نے کیا کیاہے،یہ بتایا جائے کہ عدالت کے حکم پرکتنا عمل کیاگیا،کراچی کے حالات بدسے بدترہوگئے ہیںآپ عمل کریں یانہ کریں ہم آئین کے تحت حکم جاری کردیںگے ۔جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت اپنے وکیل کے مشورے پربھی عمل نہیں کرتی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاویدفاروقی سے استفسارکیاکہ وفاق نے سپریم کورٹ فیصلے پرعمل درآمدکیلیے کیا کردار ادا کیا؟ جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ وفاقی وزیر داخلہ صرف ٹی وی پرکہہ دیتے ہیں کہ کراچی والوں ہوشیارہوجائولیکن عملی طورپرکیاکیا؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے انہیں آئین کی کتاب دیتے ہوئے آرٹیکل 148(3)باآواز بلندپڑھنے کی ہدایت کی جس کے مطابق اندرونی خلفشارسے نمٹنے میںصوبائی حکومت کی ناکامی کے بعدشہریوں کے تحفظ کیلیے وفاق اپنا کرداراداکرتاہے۔
جاوید فاروقی نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی جس پربینچ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا16ماہ کی مدت کم تھی کہ آپ مزید مہلت مانگ رہے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ڈے اے جی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکلا،ججز اور پولیس افسران قابل احترام قوم کے تنخوادارہیں،وفاداری کاتقاضہ ہے کہ نمک حرامی نہ کی جائے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی آبزرویشن میں کہاکہ جواب داخل کرنے کیلیے مزید مہلت دی جاسکتی تھی۔عدالت نے استفسارکیاکہ پولیس اوردیگر اداروں کوغیرسیاسی کرنے سے متعلق عدالتی حکم پر کتنا عمل ہوا؟آئی جی سندھ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے انٹیلی جنس نیٹ ورک متحرک ہے اور تقرری کے موقع پراسپیشل برانچ کی رپورٹ کابھی جائزہ لیاجاتا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث بعض سیاسی کارکن بھی گرفتارہوئے ہین جن میں زون غربی کے11اور جنوبی کے 5مقدمات شامل ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ان سیاسی کارکنوں اوران کی وابستگی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،عدالت نے آئی جی سندھ سے20تھانوں کی حدبندی میں تبدیلی کے اصول اور معیارات کی تفصیل بھی طلب کی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ طویل عرصے سے سن رہے ہیں کہ قانون سازی کی جارہی ہے بتایاجائے کہ بل اسمبلی میں کب پیش کیا جائے گا،پھرمنتخب نمائندوں کی مرضی ہے کہ منظور کریں نہ کریں،من پسندملازمین کوتحفظ دینے کیلیے توگھنٹوںمیں قانون بن جاتاہے۔
عدالت کو بتایاگیاکہ کراچی میں14 لاکھ تارکین وطن ہیں تاہم9سو سے زائدکوان کے ملکوں میں واپس بھیج دیاگیاہے،فاضل بینچ کوالیکشن کمیشن کے وکیل رئیس پراچہ نے بتایاکہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جارہاہے کیونکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جوبیان دیا تھا الیکشن کمیشن اس سے مطمئن نہیں،فاضل بینچ نے کہاکہ الیکشن کمیشن جوچاہے وہ تشریح کرسکتا ہے لیکن عدالت کے ریکارڈپرکوئی اعتراض داخل نہیں کیاگیا،اس کے علاوہ مردم شماری سے حلقہ بندیوں کا تعلق نہیں کیونکہ مردم شماری انتظامیہ کی ذمے داری ہے جبکہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کااپنا دائرہ کار ہے ،اگر حکومت40سال مردم شماری نہ کرائے تو کیاانتخابات نہیں ہونگے۔
زبانی جمع خرچ سے کراچی میں امن وامان بحال نہیں ہوگا،شہریوں کی زندگیوں کاتحفظ نہیں کرسکتے تو آرٹیکل9آئین سے نکال دیں ، 3ہزارشہریوں کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیے گئے ملزمان کی فہرست ان کے گروہوں سے تعلق کی تفصیل کے ساتھ پیش کی جائے۔ جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں4رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کوکراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس میں چیف سیکریٹری ،سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ،توہین عدالت کی درخواست عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹرحاجی عدیل نے دائر کی،بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمدجلال عثمانی اور جسٹس امیر ہانی مسلم شامل ہیں۔
جمعرات کوسماعت کے موقع پر فاضل بینچ نے اپنے 20ستمبر 2012 کے فیصلے کے پیرا نمبر 131میں جاری کی گئی ہدایات اور آبزرویشنز پر عملدرآمد کاجائزہ لیا،فاضل بینچ نے آبزرویشن دی کہ طویل مدت گزر جانے کے باوجودوفاق پاکستان نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمدکے حوالے سے کوئی رپورٹ پیش نہیںکی،اس کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی حلقہ بندیوںکے حوالے سے کوئی جواب عدالت کے ریکارڈپرپیش نہیں کیا،امن وامان کومتاثر کرنے والی کسی تنظیم کیخلاف آرٹیکل17کے تحت ریفرنس بھی داخل نہیں کیا گیا، کراچی میں دوسرے علاقوں سے آنیوالے اسلحے کی روک تھام کیلیے کیااقدامات کیے گئے اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتایاگیا۔
اس کے علاوہ بھتے اورتاوان کیلیے اغواکیے گئے شہریوں پرتشددکی جو وڈیوفلم عدالت میں پیش کی گئی اس میں نظرآنیوالے ملزمان کوبھی تاحال گرفتارنہیںکیاگیا،فاضل بینچ نے مزیدکہاکہ امن وامان سے متعلق تفصیلی فیصلے میں ہدایت کی گئی تھی کہ سیاسی جماعتیں دہشتگردوںکی سرپرستی سے دستبردار ہوجائیں مگر اس ضمن میں انتظامیہ نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا،کیا کہ کراچی میں دہشت گردوں اوربھتہ خوروں کو سیاسی جماعتوں کی اخلاقی،مالی اورسیاسی حمایت حاصل ہے، ایسے حالات میں امن کیسے قائم ہوگا،یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جوعوام کی نمائندگی کادعویٰ کرتی ہیں۔
عدالت نے استفسارکیاکہ وہ آئی جی سچاہے جس نے کہاتھا کہ پولیس میں40فیصدبھرتیاں سیاسی بنیادوں پرکی گئی ہیں یا یہ آئی جی سچاہے جس نے دعویٰ کیاکہ سندھ پولیس کے ایک لاکھ اہلکاروں میں ایک بھی سیاسی بھرتی نہیں،عدالت عظمیٰ نے سرکاری اداروںکے رویے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم فیصلے پرعمل درآمدچاہتے ہیں بصورت دیگرنتائج بھگتناہوںگے۔عدالت نے پولیس کوحکم دیاکہ مجرموں کی شناخت ظاہرکی جائے کہ ان کا تعلق کن گروپوں سے ہے۔آئی جی سندھ کے وکیل نے بتایاکہ کراچی 2کروڑآبادی کاشہرہے اور یہاں بے روزگاری جیسے مسائل بھی جرائم کاسبب ہیں۔
پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپورکارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں پولیس پربھی خود کش حملے اورریموٹ کنٹرول بم حملے کیے گئے،اس جنگ میں پولیس اہلکاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔جسٹس جوادایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ کراچی کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں،ہمیں یہ نہ بتایاجائے کہ پولیس نے کیا کیاہے،یہ بتایا جائے کہ عدالت کے حکم پرکتنا عمل کیاگیا،کراچی کے حالات بدسے بدترہوگئے ہیںآپ عمل کریں یانہ کریں ہم آئین کے تحت حکم جاری کردیںگے ۔جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت اپنے وکیل کے مشورے پربھی عمل نہیں کرتی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاویدفاروقی سے استفسارکیاکہ وفاق نے سپریم کورٹ فیصلے پرعمل درآمدکیلیے کیا کردار ادا کیا؟ جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میںکہاکہ وفاقی وزیر داخلہ صرف ٹی وی پرکہہ دیتے ہیں کہ کراچی والوں ہوشیارہوجائولیکن عملی طورپرکیاکیا؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے انہیں آئین کی کتاب دیتے ہوئے آرٹیکل 148(3)باآواز بلندپڑھنے کی ہدایت کی جس کے مطابق اندرونی خلفشارسے نمٹنے میںصوبائی حکومت کی ناکامی کے بعدشہریوں کے تحفظ کیلیے وفاق اپنا کرداراداکرتاہے۔
جاوید فاروقی نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی جس پربینچ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا16ماہ کی مدت کم تھی کہ آپ مزید مہلت مانگ رہے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ڈے اے جی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکلا،ججز اور پولیس افسران قابل احترام قوم کے تنخوادارہیں،وفاداری کاتقاضہ ہے کہ نمک حرامی نہ کی جائے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی آبزرویشن میں کہاکہ جواب داخل کرنے کیلیے مزید مہلت دی جاسکتی تھی۔عدالت نے استفسارکیاکہ پولیس اوردیگر اداروں کوغیرسیاسی کرنے سے متعلق عدالتی حکم پر کتنا عمل ہوا؟آئی جی سندھ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے انٹیلی جنس نیٹ ورک متحرک ہے اور تقرری کے موقع پراسپیشل برانچ کی رپورٹ کابھی جائزہ لیاجاتا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث بعض سیاسی کارکن بھی گرفتارہوئے ہین جن میں زون غربی کے11اور جنوبی کے 5مقدمات شامل ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ان سیاسی کارکنوں اوران کی وابستگی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،عدالت نے آئی جی سندھ سے20تھانوں کی حدبندی میں تبدیلی کے اصول اور معیارات کی تفصیل بھی طلب کی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ طویل عرصے سے سن رہے ہیں کہ قانون سازی کی جارہی ہے بتایاجائے کہ بل اسمبلی میں کب پیش کیا جائے گا،پھرمنتخب نمائندوں کی مرضی ہے کہ منظور کریں نہ کریں،من پسندملازمین کوتحفظ دینے کیلیے توگھنٹوںمیں قانون بن جاتاہے۔
عدالت کو بتایاگیاکہ کراچی میں14 لاکھ تارکین وطن ہیں تاہم9سو سے زائدکوان کے ملکوں میں واپس بھیج دیاگیاہے،فاضل بینچ کوالیکشن کمیشن کے وکیل رئیس پراچہ نے بتایاکہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جارہاہے کیونکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جوبیان دیا تھا الیکشن کمیشن اس سے مطمئن نہیں،فاضل بینچ نے کہاکہ الیکشن کمیشن جوچاہے وہ تشریح کرسکتا ہے لیکن عدالت کے ریکارڈپرکوئی اعتراض داخل نہیں کیاگیا،اس کے علاوہ مردم شماری سے حلقہ بندیوں کا تعلق نہیں کیونکہ مردم شماری انتظامیہ کی ذمے داری ہے جبکہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کااپنا دائرہ کار ہے ،اگر حکومت40سال مردم شماری نہ کرائے تو کیاانتخابات نہیں ہونگے۔