انتخابی اصلاحات…وقت کی ضرورت

شفاف اور غیر جانبدار انتخابی سسٹم جمہوریت کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

شفاف اور غیر جانبدار انتخابی سسٹم جمہوریت کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی نے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری دے دی جس پر آج جمعہ دستخط ہوں گے جس کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ تحریک انصاف نے اپنی تجاویز شامل نہ کرنے پر کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ بدھ کو ہونے والے ان کیمرہ اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ انتخابی قانون 2017ء کو حتمی شکل دی جا چکی ہے' 9مختلف قوانین کو ضم کر کے یہ قانون بنایا گیا' الیکشن کمیشن کے تعاون سے اس بل کو حتمی شکل دی گئی۔ انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی میں 34ممبران شامل تھے جس میں ہر جماعت کو نمایندگی دی گئی تھی۔

انتخابات کے بعد ہارنے والی ہر سیاسی جماعت جیتنے والی جماعت پر دھاندلی کا الزام عائد کر کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی چلی آ رہی ہے۔ ہارنے والی جماعت یہ الزام عائد کر کے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی اگر انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوتے تو اسے شکست نہ ہوتی۔ حالیہ برسوں میں بھی اس مسئلے کو ایشو بنا کر اپوزیشن ہمیشہ حکومت کی راہ میں رکاوٹیں اور محاذ آرائی کو جنم دیتی رہی ہے یہاں تک کہ اس مسئلے پر اتنی لے دے ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ مچھلی بازاربن جاتا ہے اور عوام کے منتخب نمایندے ایک دوسرے سے گتھم گتھا تک ہو جاتے ہیں۔

اس لیے انتخابی اصلاحات ہر سیاسی جماعت کا اور ملک کے فہمیدہ حلقوں مطالبہ رہا ہے، تحریک انصاف بھی ایک عرصے سے یہ مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے کہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کی جائیں۔ اب حکومت نے 9مختلف قوانین کو یکجا کر کے انتخابی اصلاحات کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت سینٹ' قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک جیسے انتخابات ہوں۔

پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود نے میڈیا نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں اپنی تجاویز شامل نہ کرنے پر انھوں نے اس کا بائیکاٹ کیا' انھوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جا رہا' ووٹرز کی بائیو میٹرک تصدیق نہیں کی جا رہی' نگران حکومت پر وزیراعظم اور اپوزیشن کے بجائے پوری پارلیمنٹ سے مشورہ کیا جائے، کمیٹی نے ان کی یہ تجویز بھی مسترد کر دی، الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات نہیں کرا پا رہا اس کی تشکیل نو کا مطالبہ بھی نہیں مانا گیا۔


ووٹ ڈالنے کا جو روایتی طریقہ چلا آ رہا ہے بعض وجوہات کی بنا پر اس میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں اس لیے اس طریقے کو بدلنے اور دھاندلی کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کی حمایت کی جاتی رہی ہے' لیکن ابھی تک پاکستان میں یہ سسٹم رائج نہیں کیا جا سکا۔ وزیر مملکت انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ تجربے کے بغیر الیکٹرانک اور بائیو میٹرک مشینوں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں متعدد ضمنی انتخابات ہو چکے ہیں ان انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم کو استعمال کر کے تجربہ کیا جا سکتا تھا، اگر بائیو میٹرک سسٹم میں کوئی خرابی سامنے آتی تو اسے باآسانی دور کیا جا سکتا تھا۔

بائیو میٹرک سسٹم ترقی یافتہ ممالک اور بھارت میں بڑی کامیابی سے چل رہا ہے' اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگائے بغیر اپنی شکست کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا اور اس طرح جمہوری نظام کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی اور وہ تسلسل سے چلتا رہتا ہے۔

اگر پی ٹی آئی کے انتخابی اصلاحات کو موثر بنانے اور انتخابات کو شفاف بنانے کے حوالے سے کچھ تحفظات تھے تو حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے تھا، ورنہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور آیندہ آنے والے انتخابات میں بھی ہارنے والی جماعت دھاندلی کا الزام لگا کر حکومت کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کو بھی اپنے جارحانہ رویے میں تبدیلی لانا چاہیے اور ہر اجلاس کا بائیکاٹ کرنے اور حکومت کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

جمہوریت کی بقا اور اس کا تسلسل منصفانہ اور صاف شفاف انتخابات کے انعقاد ہی میں مضمر ہے' جمہوری عمل جتنا مضبوط ہو گا ملک اتنا ہی خوشحال ہو گا اور کرپشن جس کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے وہ بھی احتساب کا عمل مضبوط ہونے کے باعث دم توڑتی چلی جائے گی۔

انتخابی اصلاحات کا مقصد منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے نہ کہ ایسے قوانین تشکیل دیے جائیں جس سے برسراقتدار جماعت اور اس کی ہمنوا سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچے۔ شفاف اور غیر جانبدار انتخابی سسٹم جمہوریت کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انتخابی سسٹم پر عوام کو یقین ہو گا تو کوئی سیاسی جماعت یا امید وار دھاندلی کے الزام عائد نہیں کر سکے گا کیونکہ عوام میں اس کے اس الزام کی پذیرائی نہیں ہو گی۔
Load Next Story