پاک ایران سرحدی مسائل کے حل پر اتفاق خوش آئند پیش رفت
ایران کے ساتھ سرحدی مسائل حل ہو جائیں تو اس کے بلوچستان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران کے ساتھ سرحدی مسائل حل ہو جائیں تو اس کے بلوچستان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
پاکستان اورایران نے سرحدی خلاف ورزیوں کی روک تھام، اسمگلروں اور شرپسندوں کی جانب سے در پیش چیلنجوں پرقابوپانے کے لیے تعاون مستحکم کرنے پراتفاق کیاہے۔ دفترخارجہ کے بیان کے مطابق یہ اتفاق رائے گزشتہ روز تہران میں پاکستان ایران ہائیربارڈرکمیشن کے پہلے اجلاس کے دوران کیاگیا۔پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں بارڈر کو محفوظ بنانے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔قیام پاکستان سے لے کر حالیہ برسوں تک پاکستان میں افغانستان اور ایران سے ملنے والی سرحدوں پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینی چاہیے تھی۔
ماضی میں چونکہ حالات مختلف تھے اس لیے پاکستان کو اس قسم کے مسائل کا سامنا نہیں تھا جیسا کہ آج ہے۔ ایسی ہی صورت حال کا سامنا افغانستان اور ایران کو بھی ہے۔ لہٰذا وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہے کہ تینوں ممالک باہمی اتفاق رائے کے ساتھ سرحدوں کے میکنزم کو زیادہ فعال اور موثر بنانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔
اصولی طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ملنے والی سرحد پر وہ پوائنٹس بند کر دیے جانے چاہئیں جہاں سے پیدل آمدورفت ہوتی ہے۔ ممکنہ ہو تو کچھ عرصہ تک کے لیے بذریعہ سڑک کراسنگ بھی بند کر دی جائے اور صرف ہوائی سفر کی اجازت دی جائے۔ البتہ تجارتی قافلے آتے جاتے رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر فینسنگ بہت ضروری ہے۔ باؤنڈری لائن پر اتفاق رائے کر کے بہت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
افغانستان اور ایران کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تینوں ملکوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس طریقے سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ سرحد بند ہو گی تو دہشت گردوں کے لیے ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔ پاکستان اور ایران سرحدی مسائل پر تعاون بڑھانے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں تو یہ ایک خوش آیند پیش رفت ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی مسائل حل ہو جائیں تو اس کے بلوچستان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں تو فاٹا اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کے حالات بہت زیادہ بہتر ہوجائیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے اور ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے حوالے سے جو بھی مسائل ہیں انھیں خوش اسلوبی سے حل کر کے ان سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے۔یہ اس خطے کی تعمیر و ترقی اور امن کے لیے لازمی شرط ہے۔
پاکستان اورایران نے سرحدی خلاف ورزیوں کی روک تھام، اسمگلروں اور شرپسندوں کی جانب سے در پیش چیلنجوں پرقابوپانے کے لیے تعاون مستحکم کرنے پراتفاق کیاہے۔ دفترخارجہ کے بیان کے مطابق یہ اتفاق رائے گزشتہ روز تہران میں پاکستان ایران ہائیربارڈرکمیشن کے پہلے اجلاس کے دوران کیاگیا۔پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں بارڈر کو محفوظ بنانے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔قیام پاکستان سے لے کر حالیہ برسوں تک پاکستان میں افغانستان اور ایران سے ملنے والی سرحدوں پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینی چاہیے تھی۔
ماضی میں چونکہ حالات مختلف تھے اس لیے پاکستان کو اس قسم کے مسائل کا سامنا نہیں تھا جیسا کہ آج ہے۔ ایسی ہی صورت حال کا سامنا افغانستان اور ایران کو بھی ہے۔ لہٰذا وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہے کہ تینوں ممالک باہمی اتفاق رائے کے ساتھ سرحدوں کے میکنزم کو زیادہ فعال اور موثر بنانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔
اصولی طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ملنے والی سرحد پر وہ پوائنٹس بند کر دیے جانے چاہئیں جہاں سے پیدل آمدورفت ہوتی ہے۔ ممکنہ ہو تو کچھ عرصہ تک کے لیے بذریعہ سڑک کراسنگ بھی بند کر دی جائے اور صرف ہوائی سفر کی اجازت دی جائے۔ البتہ تجارتی قافلے آتے جاتے رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر فینسنگ بہت ضروری ہے۔ باؤنڈری لائن پر اتفاق رائے کر کے بہت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
افغانستان اور ایران کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تینوں ملکوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس طریقے سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ سرحد بند ہو گی تو دہشت گردوں کے لیے ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔ پاکستان اور ایران سرحدی مسائل پر تعاون بڑھانے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں تو یہ ایک خوش آیند پیش رفت ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی مسائل حل ہو جائیں تو اس کے بلوچستان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں تو فاٹا اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کے حالات بہت زیادہ بہتر ہوجائیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے اور ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے حوالے سے جو بھی مسائل ہیں انھیں خوش اسلوبی سے حل کر کے ان سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے۔یہ اس خطے کی تعمیر و ترقی اور امن کے لیے لازمی شرط ہے۔