کامران فیصل قتل کے شواہد نہیں ملےپنجاب فارنسک لیب کی رپورٹ تیار

رپورٹ آئندہ24گھنٹوں میں آئی جی اسلام آباد کودی جائیگی جواسے سپریم کورٹ پیش کرینگے

سیمپلزمیں زہریلا موادنہیں ہے،نہ کرائم سین سے کسی اورشخص کے فنگرپرنٹس ملے، رپورٹ. فوٹو رانا تنویر

پنجاب فارنسک لیبارٹری نے کامران فیصل کے کرائم سین اور قبرکشائی کے بعد لیے گئے اجزاکی رپورٹ تیارکرلی ہے جس کے مطابق تاحال کامران فیصل کوقتل کیے جانے کے کوئی شواہدنہیں ملے۔

پنجاب فارنسک لیبارٹری کی 4 رکنی ٹیم نے گزشتہ روزفیڈرل لاجزمیں کامران فیصل کے کمرے کا تفصیلی معائنہ کیاتھا، رپورٹ آئندہ24 گھنٹوں میں ایس پی سٹی اسلام آباد کے حوالے کردی جائے گی،ایس پی سٹی رپورٹ آئی جی کودیں گے جواسے سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔




رپورٹ میں قبرکشائی کے بعد لیے گئے اجزاکوکلیئر قراردیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ سیمپلز میں زہریلے موادکاکوئی عنصرنہیں پایا گیا،کرائم سین سے کسی اورشخص کے فنگر پرنٹس بھی نہیں ملے بلکہ کپڑے، بیڈ، گلاس اورکمرے میں دیگر اشیا پرصرف کامران فیصل کے فنگرپرنٹس ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرائم سین پرکامران فیصل کے روم میٹ ساجدکے علاوہ کسی کاکوئی کاغذ موجود نہیں تاہم کامران فیصل کے گلے میں موجودرسی پرفنگرپرنٹس کی تحقیقات جاری ہیں،اگریہ فنگر پرنٹس بھی کامران ہی کے ہوئے توثابت ہوجائے گاکہ ان کاقتل نہیں ہوا۔

Recommended Stories

Load Next Story