موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹنے کی ضرورت
ماحولیاتی تبدیلی صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے
ماحولیاتی تبدیلی صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے ۔ فوٹو؛ فائل
ماحولیاتی تبدیلی صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے، پاکستان دنیا کا آٹھواں ملک ہے جو موسمی تغیرات اور اس کے اثرات سے متاثر ہے، ملکی میڈیا میں اس پر کم توجہ دی جا رہی ہے جب کہ موسمی تغیرات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس موضوع پر خاص توجہ دی جائے، یہ بات کراچی میں موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے منفی اثرات کے حوالے سے میڈیا کی آگاہی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں کیا گیا جس میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اور یو این ڈی پی کی جانب سے صحافیوں کی رہنمائی کے لیے تیار کردہ خصوصی کتابچے ''کلائمیٹ اسمارٹ رپورٹنگ گائیڈ بک'' کی رونمائی بھی کی گئی۔
سیمینار میں ماحولیاتی اور موسمی تغیرات پر میڈیا کی کم توجہ بلاشبہ ایک بنیادی مسئلہ ہے ، ہماری حکومتوں نے ماضی اور حال میں موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے جتنا صرف نظر کیا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض شہروں میں دو گھنٹے کی بارش شہروں میں سیلاب کا منظر پیش کرتی ہے اور ہفتوں نکاسی آب کی کوئی کوشش بار آور ثابت نہیں ہوتی جب کہ دنیا میں نہ صرف انسانی معاشرے کو درپیش موسمی صورتحال پر عالمی تشویش بڑھتی جارہی ہے بلکہ دنیا بھر میں سائنسدان سیلابوں،گلیشیئرز کے پگھلنے، برفانی تودوں کے ٹوٹنے اور سمندری طوفانوں کے خطرات میں اضافہ کرنے کے حوالہ سے گلوبل شعور بیدار کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں، ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث جنگلات اور اس میں آبی حیات اور جنگلی حیوانات کی نسلیں تیزی سے معدوم ہورہی ہیں جنہیں شکاریوں، تیزابی بارشوں، گیسز اور موسمی تغیرات سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات، ہجرتی پرندوں کے موسمی آبی ٹھکانے تباہی سے دوچار ہیں، نایاب درندوں کی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
سیلابی ریلوں سے گذشتہ کئی مون سون بارشوں نے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں زبردست تباہی مچائی، مگر ارباب اختیار نے ڈیموں کی عدم تعمیر کے باوجود سیلابی گزرگاہوں پر آبی ذخائر کی تعمیر سے غفلت برتی۔این ڈی پی کے اسپیشلسٹ برائے موسمی تغیرات گلین ہوڈز کا کہنا تھا کہ ممکن ہے پاکستان میں غربت کی شرح کم ہو رہی ہو اور ملک معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر رہا ہو لیکن بڑا چیلنج موسمی تغیر ہے جو طویل ترقیاتی پیش رفت کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس کے تسلسل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ سی پی این ای کے چیئرمین پروجیکٹس اینڈ پروگرامز کمیٹی ڈاکٹر جبار خٹک نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں میڈیا کا مرکزی کردار ہے اور خاص طور پر جب موسمی تغیرات کا معاشی پہلو زیر بحث آئے تو اس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
سیمینار میں ماحولیاتی اور موسمی تغیرات پر میڈیا کی کم توجہ بلاشبہ ایک بنیادی مسئلہ ہے ، ہماری حکومتوں نے ماضی اور حال میں موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے جتنا صرف نظر کیا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض شہروں میں دو گھنٹے کی بارش شہروں میں سیلاب کا منظر پیش کرتی ہے اور ہفتوں نکاسی آب کی کوئی کوشش بار آور ثابت نہیں ہوتی جب کہ دنیا میں نہ صرف انسانی معاشرے کو درپیش موسمی صورتحال پر عالمی تشویش بڑھتی جارہی ہے بلکہ دنیا بھر میں سائنسدان سیلابوں،گلیشیئرز کے پگھلنے، برفانی تودوں کے ٹوٹنے اور سمندری طوفانوں کے خطرات میں اضافہ کرنے کے حوالہ سے گلوبل شعور بیدار کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں، ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث جنگلات اور اس میں آبی حیات اور جنگلی حیوانات کی نسلیں تیزی سے معدوم ہورہی ہیں جنہیں شکاریوں، تیزابی بارشوں، گیسز اور موسمی تغیرات سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات، ہجرتی پرندوں کے موسمی آبی ٹھکانے تباہی سے دوچار ہیں، نایاب درندوں کی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
سیلابی ریلوں سے گذشتہ کئی مون سون بارشوں نے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں زبردست تباہی مچائی، مگر ارباب اختیار نے ڈیموں کی عدم تعمیر کے باوجود سیلابی گزرگاہوں پر آبی ذخائر کی تعمیر سے غفلت برتی۔این ڈی پی کے اسپیشلسٹ برائے موسمی تغیرات گلین ہوڈز کا کہنا تھا کہ ممکن ہے پاکستان میں غربت کی شرح کم ہو رہی ہو اور ملک معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر رہا ہو لیکن بڑا چیلنج موسمی تغیر ہے جو طویل ترقیاتی پیش رفت کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس کے تسلسل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ سی پی این ای کے چیئرمین پروجیکٹس اینڈ پروگرامز کمیٹی ڈاکٹر جبار خٹک نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں میڈیا کا مرکزی کردار ہے اور خاص طور پر جب موسمی تغیرات کا معاشی پہلو زیر بحث آئے تو اس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔