امریکا میں جرائم کی شرح
چھ ماہ کے مختصر عرصے میں امریکا کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے 30 ہزار 44 واقعات کا اندراج ہوا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
LOS ANGELES:
امریکا دنیا کے مہذب اور متمدن معاشروں میں سے ایک معاشرہ ایک ملک ہے، اس میں شک نہیں کہ متمدن اور مہذب معاشروں میں بھی تشدد اور جرائم کے واقعات ہوتے ہیں لیکن مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ امریکا جیسے مہذب ملک میں تشدد اور جرائم کی صورتحال ناقابل یقین حد تک سنگین ہے۔
آج اخبار میں اس حوالے سے شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2017 کے آغاز سے اب تک یعنی چھ ماہ کے مختصر عرصے میں امریکا کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے 30 ہزار 44 واقعات کا اندراج ہوا ہے جن میں 7446 افراد ہلاک ، 14710 افراد زخمی ہوئے ہیں جن ریاستوں میں جرائم کے یہ ناقابل یقین واقعات ہوئے ہیں ان میں ورجینیا، کیلی فورنیا، وسکانسن، کنیکٹیکٹ، مسوری، مشی گن، واشنگٹن، شمالی کیرولینا اور ٹیکساس شامل ہیں۔
امریکا دنیا کی سپر پاور طاقت ہی نہیں بلکہ اس کا شمار دنیا کے تعلیم یافتہ اور مہذب ملکوں میں ہوتا ہے۔ فائرنگ کے ان واقعات میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی شامل نہیں بلکہ ان واقعات کا تعلق سماجی جرائم سے ہے، جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ امریکی معاشرہ سماجی جرائم میں کس قدر لتھڑا ہوا ہے۔ عاقلوں کا کہنا ہے کہ ہر خون خرابے کے پیچھے زر، زن اور زمین کا ہاتھ ہوتا ہے اور اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کے یہ تینوں عوامل سرمایہ دارانہ نظام کی گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں۔
مسئلہ صرف امریکا کا نہیں ہے بلکہ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ جرائم کی صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ کیا کوئی ملک کوئی معاشرہ ایسا ہے جو جرائم سے پاک ہو؟ آج کل تو دنیا بھر میں کوئی ملک کوئی معاشرہ ایسا نظر نہیں آتا جو جرائم سے پاک ہو، لیکن ماضی قریب میں سوشلسٹ ملک ایسے تھے جہاں جرائم کا نام و نشان نہ تھا جیسے ہی سوشلسٹ ملکوں نے سرمایہ دارانہ معیشت کو اپنالیا یہ ملک بھی بڑے بڑے جرائم کے اڈوں میں بدل گئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشلسٹ سماج میں جرائم کیوں ختم ہوگئے تھے؟ جرائم کے محرکات میں سرفہرست زر ہے یعنی دولت کا حصول۔ طبقاتی سماج میں غریب طبقات کو دولت سے اس حد تک محروم کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے جس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جرائم کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں اسٹریٹ کرائم دراصل کمزور طبقات کی مجبوری ہوتے ہیں۔ جب زندہ رہنے کے لیے انسانوں پر ہر جائز راستہ بند کردیا جاتا ہے تو وہ ناجائز راستوں پر چلنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں۔
جرائم کی ایک سنگین قسم ڈکیتی ہوتی ہے اس جرم کے مجرم جان ہتھیلی پر رکھ کر جرم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلا محرک بے روزگاری ہوتا ہے دوسرا محرک ترغیب ہوتی ہے جب نوجوان اپنے ارد گرد قیمتی کاریں، عیش و عشرت کی زندگی دیکھتے ہیں تو ان کا دل بھی چاہتا ہے کہ ان کے پاس بھی کار ہو، بنگلہ ہو، پرتکلف زندگی ہو، لیکن جائز طریقے سے یہ سہولیات حاصل نہیں ہوسکتیں تو نوجوان ناجائز طریقوں اور جرائم کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
پسماندہ ملکوں میں جرائم کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والی طاقتوں کی کرپشن ہے پسماندہ ملکوں میں پولیس کا محکمہ کرپٹ ترین محکموں میں سرفہرست شمار ہوتا ہے اور مجرموں کو جب پولیس کی سرپرستی حاصل ہو تو وہ بے خوف ہوکر جرائم کرنے لگ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس مجرموں کی سرپرستی کیوں کرتی ہے؟ سو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ جب وہ اپنے ارد گرد قیمتی کاروں اور پرتعیش زندگی کو دیکھتے ہیں اور ایسی زندگی گزارنے کا انھیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو وہ مجرموں کی سرپرستی کرکے دولت حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں بلکہ خود بھی جرائم پر اتر آتے ہیں۔
پسماندہ ملکوں کی تو یہ مجبوری ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں جرائم کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ جب کہ ان ملکوں میں نسبتاً روزگار کے مواقعے زیادہ ہوتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن بھی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے؟
ایک خیال یہ ہے کہ ان ملکوں میں فلمیں (جرائم پر مبنی فلمیں) نوجوانوں میں جرائم کی ترغیب کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں جرائم کی سرپرستی کے لیے بڑے بڑے ڈان موجود ہوتے ہیں ان ڈانوں کی سرپرستی سرمایہ دارانہ نظام کرتا ہے ان ملکوں میں جرائم بہت منظم طریقے سے کیے جاتے ہیں ہر مرحلے پر مجرموں کی مدد اور تحفظ کا اہتمام ہوتا ہے سرمایہ دار طبقہ دولت کی اندھی ہوس میں ڈانوں کا سرپرست بن جاتا ہے۔ اس پس منظر میں جب ہم امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں جرائم کی شرح پر نظر ڈالتے ہیں تو نظروں کے سامنے سرمایہ دارانہ کلچر آجاتا ہے جو بذات خود جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جن ملکوں میں سوشلسٹ نظام رائج تھا ان ملکوں میں جرائم کا نام و نشان نہیں تھا اس کی بڑی وجہ ان ملکوں میں ایلیٹ کا طبقہ نہیں تھا جو ناجائز ذرایع سے دولت کے انبار جمع کرکے پرتکلف زندگی گزارتا ہو اور بے وسیلہ نوجوانوں کے لیے ترغیب بن جاتا ہو۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ ان ملکوں میں بے روزگاری نہیں تھی سوشلسٹ سماج کے اس پیٹرن کی وجہ ان ملکوں میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے جب سوشلسٹ ملکوں نے بوجوہ سرمایہ دارانہ نظام اپنالیا تو یہ ملک بھی جرائم کے اڈوں میں بدل گئے۔ بنیادی مسئلہ نجی ملکیت کی لامحدود آزادی ہے جب تک نجی ملکیت کی لامحدود آزادی کو ختم نہیں کیا جاتا جرائم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتے رہیں گے اور پسماندہ ملکوں میں بھی۔
امریکا دنیا کے مہذب اور متمدن معاشروں میں سے ایک معاشرہ ایک ملک ہے، اس میں شک نہیں کہ متمدن اور مہذب معاشروں میں بھی تشدد اور جرائم کے واقعات ہوتے ہیں لیکن مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ امریکا جیسے مہذب ملک میں تشدد اور جرائم کی صورتحال ناقابل یقین حد تک سنگین ہے۔
آج اخبار میں اس حوالے سے شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2017 کے آغاز سے اب تک یعنی چھ ماہ کے مختصر عرصے میں امریکا کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے 30 ہزار 44 واقعات کا اندراج ہوا ہے جن میں 7446 افراد ہلاک ، 14710 افراد زخمی ہوئے ہیں جن ریاستوں میں جرائم کے یہ ناقابل یقین واقعات ہوئے ہیں ان میں ورجینیا، کیلی فورنیا، وسکانسن، کنیکٹیکٹ، مسوری، مشی گن، واشنگٹن، شمالی کیرولینا اور ٹیکساس شامل ہیں۔
امریکا دنیا کی سپر پاور طاقت ہی نہیں بلکہ اس کا شمار دنیا کے تعلیم یافتہ اور مہذب ملکوں میں ہوتا ہے۔ فائرنگ کے ان واقعات میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی شامل نہیں بلکہ ان واقعات کا تعلق سماجی جرائم سے ہے، جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ امریکی معاشرہ سماجی جرائم میں کس قدر لتھڑا ہوا ہے۔ عاقلوں کا کہنا ہے کہ ہر خون خرابے کے پیچھے زر، زن اور زمین کا ہاتھ ہوتا ہے اور اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کے یہ تینوں عوامل سرمایہ دارانہ نظام کی گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں۔
مسئلہ صرف امریکا کا نہیں ہے بلکہ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ جرائم کی صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ کیا کوئی ملک کوئی معاشرہ ایسا ہے جو جرائم سے پاک ہو؟ آج کل تو دنیا بھر میں کوئی ملک کوئی معاشرہ ایسا نظر نہیں آتا جو جرائم سے پاک ہو، لیکن ماضی قریب میں سوشلسٹ ملک ایسے تھے جہاں جرائم کا نام و نشان نہ تھا جیسے ہی سوشلسٹ ملکوں نے سرمایہ دارانہ معیشت کو اپنالیا یہ ملک بھی بڑے بڑے جرائم کے اڈوں میں بدل گئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشلسٹ سماج میں جرائم کیوں ختم ہوگئے تھے؟ جرائم کے محرکات میں سرفہرست زر ہے یعنی دولت کا حصول۔ طبقاتی سماج میں غریب طبقات کو دولت سے اس حد تک محروم کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے جس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جرائم کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں اسٹریٹ کرائم دراصل کمزور طبقات کی مجبوری ہوتے ہیں۔ جب زندہ رہنے کے لیے انسانوں پر ہر جائز راستہ بند کردیا جاتا ہے تو وہ ناجائز راستوں پر چلنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں۔
جرائم کی ایک سنگین قسم ڈکیتی ہوتی ہے اس جرم کے مجرم جان ہتھیلی پر رکھ کر جرم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلا محرک بے روزگاری ہوتا ہے دوسرا محرک ترغیب ہوتی ہے جب نوجوان اپنے ارد گرد قیمتی کاریں، عیش و عشرت کی زندگی دیکھتے ہیں تو ان کا دل بھی چاہتا ہے کہ ان کے پاس بھی کار ہو، بنگلہ ہو، پرتکلف زندگی ہو، لیکن جائز طریقے سے یہ سہولیات حاصل نہیں ہوسکتیں تو نوجوان ناجائز طریقوں اور جرائم کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
پسماندہ ملکوں میں جرائم کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والی طاقتوں کی کرپشن ہے پسماندہ ملکوں میں پولیس کا محکمہ کرپٹ ترین محکموں میں سرفہرست شمار ہوتا ہے اور مجرموں کو جب پولیس کی سرپرستی حاصل ہو تو وہ بے خوف ہوکر جرائم کرنے لگ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس مجرموں کی سرپرستی کیوں کرتی ہے؟ سو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ جب وہ اپنے ارد گرد قیمتی کاروں اور پرتعیش زندگی کو دیکھتے ہیں اور ایسی زندگی گزارنے کا انھیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو وہ مجرموں کی سرپرستی کرکے دولت حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں بلکہ خود بھی جرائم پر اتر آتے ہیں۔
پسماندہ ملکوں کی تو یہ مجبوری ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں جرائم کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ جب کہ ان ملکوں میں نسبتاً روزگار کے مواقعے زیادہ ہوتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن بھی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے؟
ایک خیال یہ ہے کہ ان ملکوں میں فلمیں (جرائم پر مبنی فلمیں) نوجوانوں میں جرائم کی ترغیب کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں جرائم کی سرپرستی کے لیے بڑے بڑے ڈان موجود ہوتے ہیں ان ڈانوں کی سرپرستی سرمایہ دارانہ نظام کرتا ہے ان ملکوں میں جرائم بہت منظم طریقے سے کیے جاتے ہیں ہر مرحلے پر مجرموں کی مدد اور تحفظ کا اہتمام ہوتا ہے سرمایہ دار طبقہ دولت کی اندھی ہوس میں ڈانوں کا سرپرست بن جاتا ہے۔ اس پس منظر میں جب ہم امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں جرائم کی شرح پر نظر ڈالتے ہیں تو نظروں کے سامنے سرمایہ دارانہ کلچر آجاتا ہے جو بذات خود جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جن ملکوں میں سوشلسٹ نظام رائج تھا ان ملکوں میں جرائم کا نام و نشان نہیں تھا اس کی بڑی وجہ ان ملکوں میں ایلیٹ کا طبقہ نہیں تھا جو ناجائز ذرایع سے دولت کے انبار جمع کرکے پرتکلف زندگی گزارتا ہو اور بے وسیلہ نوجوانوں کے لیے ترغیب بن جاتا ہو۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ ان ملکوں میں بے روزگاری نہیں تھی سوشلسٹ سماج کے اس پیٹرن کی وجہ ان ملکوں میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے جب سوشلسٹ ملکوں نے بوجوہ سرمایہ دارانہ نظام اپنالیا تو یہ ملک بھی جرائم کے اڈوں میں بدل گئے۔ بنیادی مسئلہ نجی ملکیت کی لامحدود آزادی ہے جب تک نجی ملکیت کی لامحدود آزادی کو ختم نہیں کیا جاتا جرائم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتے رہیں گے اور پسماندہ ملکوں میں بھی۔