قانون نافذ کرنیوالے ادارے عوام کوتحفظ فراہم نہ کرسکےمحنتی
عوامی مارچ 10 فروری کومزار قائدسے تبت سینٹر تک ہوگا،پریس کانفرنس سے خطاب.
جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو عوام یہ سمجھیں گے کہ وہ بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔
انتخابی فہرستوں کی تیاری میں فوج کی عدم شمولیت کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کے تحت عوامی مارچ 10 فروری کوسہہ پہر ساڑھے تین بجے مزار قائدسے تبت سینٹر تک منعقد کیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا،محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی 25 سالوں سے یرغمال بنا ہوا ہے،یہاں قتل وغارت گری اوربھتہ خوری عروج پر ہے،اس کی واحد وجہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والی بدعنوانی ہے۔
ہم نے انتخابی فہرستوں کی درستی کے لیے بار بار آواز بلندکی مگر ہماری شنوائی نہیں ہوتی بالآخر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اورعدالت نے فوج کی نگرانی میں انتخابی فہرستوں کو درست کرنیکا حکم دیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود نہ ہی فہرستیں درست کی جارہی ہیںاورنہ ہی اس میں فوج کوشامل کیا گیا ہے، مارچ کا بنیادی مطالبہ کراچی میں امن کا قیام اور انتخابی فہرستوںکی درستی ہے،محمد حسین محنتی نے تمام جماعتوںکے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مارچ میں پاکستانی پرچم لے کر شریک ہوں،انھوںنے کہا کہ حکومت قیام امن میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے، حکومت عوام کو تحفظ دے رہی ہے نہ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کو، قانون نافذ کرنیوالے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔
انتخابی فہرستوں کی تیاری میں فوج کی عدم شمولیت کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کے تحت عوامی مارچ 10 فروری کوسہہ پہر ساڑھے تین بجے مزار قائدسے تبت سینٹر تک منعقد کیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا،محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی 25 سالوں سے یرغمال بنا ہوا ہے،یہاں قتل وغارت گری اوربھتہ خوری عروج پر ہے،اس کی واحد وجہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والی بدعنوانی ہے۔
ہم نے انتخابی فہرستوں کی درستی کے لیے بار بار آواز بلندکی مگر ہماری شنوائی نہیں ہوتی بالآخر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اورعدالت نے فوج کی نگرانی میں انتخابی فہرستوں کو درست کرنیکا حکم دیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود نہ ہی فہرستیں درست کی جارہی ہیںاورنہ ہی اس میں فوج کوشامل کیا گیا ہے، مارچ کا بنیادی مطالبہ کراچی میں امن کا قیام اور انتخابی فہرستوںکی درستی ہے،محمد حسین محنتی نے تمام جماعتوںکے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مارچ میں پاکستانی پرچم لے کر شریک ہوں،انھوںنے کہا کہ حکومت قیام امن میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے، حکومت عوام کو تحفظ دے رہی ہے نہ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کو، قانون نافذ کرنیوالے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔