انور مقصود کا ڈرامہ ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ تھیٹر کی شکل میں پیش
ماضی کی یاد دلادی، ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کو دیکھ کر کسی تبدیلی کا احساس نہیں ہوا،شائقین.
آرٹس کونسل میں جاری ڈرامہ’’ آنگن ٹیڑھا‘‘ میں اداکار پرفارم کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
انور مقصود نے 30سال بعد اپنا ڈرامہ ''آنگن ٹیڑھا''تھیٹر کی شکل میں پیش کردیا۔
فنکاروں کی خوبصورت پرفارمنس پر عوام نے کھڑے ہوکر داددی جس سے انورمقصود کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، تفصیلات کے مطابق تھیٹر ڈرامہ آنگن ٹیڑھا میں فنکاروں کی پرفارمنس کو دیکھنے کے لیے آنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، لوگوں نے تھیٹر میں کھڑے ہوکر ڈرامہ دیکھا اور فنکاروں کی پرفارمنس پرداددیتے رہے۔
تھیٹر شائقین کا کہنا ہے کہ انور مقصود نے ہمیں ماضی کی یاد دلادی، آنگن ٹیڑھا کو دیکھ کر کسی قسم کی تبدیلی کا احساس نہیں ہوا، تھیٹر ڈرامہ آنگن ٹیڑھا تین ماہ تک آرٹس کونسل کراچی میں جاری رہے گا۔
ڈرامے کے ڈائریکٹر داور محمود کا کہنا ہے کہ آنگن ٹیڑھا کو تھیٹر کی شکل میں پیش کرنا میراپرانا خواب تھا، میں اکثر اپنے کلاس فیلوز کو کہا کرتا تھا ایک وقت ایسا بھی آئیگا کہ میں انور مقصود کے ڈرامے کو تھیٹر کی شکل میں پیش کرونگا اورآج میرایہ خواب پورا ہوگیا، مجھے اس ڈرامے کا ہر سین زبانی یاد ہے، میں انور مقصود کا مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا ، انور مقصود نے کہا کہ سلیم ناصر،اور معین اختر سمیت فنکاروں کا اصرار تھا کہ میں اس ڈرامے کو دوبارہ پیش کروں مگر میں اس ڈرامے کو چھونا نہیں چاہتا تھا، یہ ڈرامہ میری اولاد جیسا ہے۔
فنکاروں کی خوبصورت پرفارمنس پر عوام نے کھڑے ہوکر داددی جس سے انورمقصود کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، تفصیلات کے مطابق تھیٹر ڈرامہ آنگن ٹیڑھا میں فنکاروں کی پرفارمنس کو دیکھنے کے لیے آنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، لوگوں نے تھیٹر میں کھڑے ہوکر ڈرامہ دیکھا اور فنکاروں کی پرفارمنس پرداددیتے رہے۔
تھیٹر شائقین کا کہنا ہے کہ انور مقصود نے ہمیں ماضی کی یاد دلادی، آنگن ٹیڑھا کو دیکھ کر کسی قسم کی تبدیلی کا احساس نہیں ہوا، تھیٹر ڈرامہ آنگن ٹیڑھا تین ماہ تک آرٹس کونسل کراچی میں جاری رہے گا۔
ڈرامے کے ڈائریکٹر داور محمود کا کہنا ہے کہ آنگن ٹیڑھا کو تھیٹر کی شکل میں پیش کرنا میراپرانا خواب تھا، میں اکثر اپنے کلاس فیلوز کو کہا کرتا تھا ایک وقت ایسا بھی آئیگا کہ میں انور مقصود کے ڈرامے کو تھیٹر کی شکل میں پیش کرونگا اورآج میرایہ خواب پورا ہوگیا، مجھے اس ڈرامے کا ہر سین زبانی یاد ہے، میں انور مقصود کا مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا ، انور مقصود نے کہا کہ سلیم ناصر،اور معین اختر سمیت فنکاروں کا اصرار تھا کہ میں اس ڈرامے کو دوبارہ پیش کروں مگر میں اس ڈرامے کو چھونا نہیں چاہتا تھا، یہ ڈرامہ میری اولاد جیسا ہے۔