انڈین روک پائی تھن اژدھوں کی خطرناک اور نایاب نسل ہے

سانپوں کی یہ قسم جنوبی ایشیا میں تیزی سے ختم ہو رہی ہے،رب نواز کی گفتگو

پی ای سی ایچ ،نوجوان حسن اپنے گھر کی چھت پر پالتو اژدھوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر رب نواز کا کہنا ہے کہ پائی تھن بنیادی طور پر سانپ کی وہ قسم ہے جنوبی ایشیا میں تیزی سے ختم ہورہی ہے جس کی بنیادی وجہ اس کی کھال ہے جس کی فیشن انڈسٹری میں بہت طلب ہے۔

پائی تھن انتہائی خطرناک سانپ سمجھے جاتے ہیں، بڑے پائی تھن بھینس اور مگر مچھ تک کو نگل سکتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ سانپ کی کوئی بھی قسم پالتو نہیں ہے تاہم پوری دنیا میں لوگ انھیں پالتے ہیں تاہم انھیں رکھنے کیلیے خصوصی انتظام کیا جاتا ہے 20 فٹ سے بڑے پائی تھن انسانوں کیلیے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ اس سے آدھی لمبائی کے اژدھوں میں بھی اتنی طاقت ہوتی ہے، انسان کے گرد لپٹ کر اس کا دم گھونٹ سکتے ہیں۔




انڈین روک پائی تھن اژدھوں کی ایک نایاب قسم ہیں اور انھیں پالنے کا شوق پوری دنیا میں پایا جاتا ہے، پائی تھن اس وقت تک خطرناک نہیں ہوتے جب تک انھیں رکھنے کا مناسب انتظام کیا جائے اور ان کی خوراک بہت زیادہ خیال رکھا جائے، رب نواز نے بتایا کہ پائی تھن بھوک کے وقت انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے اور اپنے سامنے نظر آنے والے کسی بھی جاندار کو اپنی خوراک سمجھ کر نگلنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
Load Next Story