کراچی میں ہڑتال اسپتالوں میں نصف عملہ غیر حاضر رہا
بیشتر آپریشن ملتوی کردیے گئے،ایمرجنسی اوراو پی ڈیزمیں مریضوں کی تعدادکم رہی.
بیشتر آپریشن ملتوی کردیے گئے،ایمرجنسی اوراو پی ڈیزمیں مریضوں کی تعدادکم رہی. فوٹو: ایکسپریس
کراچی میں علماء کے قتل کے خلاف ہڑتال کے باعث سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں ، طبی و نیم طبی عملے کی حاضری شدید متاثر رہی ہے جس کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں بیشتر آپریشن ملتوی کیے گئے جبکہ ایمرجنسی اوراو پی ڈیزمیں مریضوںکی تعدادکم رہی۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کوہونے والی ہڑتال کے باعث ہڑتال کے باعث سرکاری اسپتالوںکے انتظامی دفاتر میں موجود عملہ جلدی گھروں کو لوٹ گیاجبکہ شہر بھرکے سرکاری اور نجی اسپتال بری طرح متاثر ہوئے ہیں،اسپتالوں میں پیرامیڈیکل اسٹاف اورڈاکٹروںکی اکثریت ٹرانسپورٹ اور پٹرول پمپس کی بندش کی وجہ سے اسپتال پہنچنے سے قاصر رہی،ہڑتال کے باعث اسپتالوں میں نصف عملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔
بیشتر سرکاری اسپتالوں میں آپریشن ملتوی کرنے پڑے ، او پی ڈی اور ایمرجنسی میں مریضوںکی تعداد روزمرہ کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہی اور بیشتر چھوٹے نجی اسپتالوں کی اوپی ڈیز مریضوںکی نہ ہونے کے باعث بند پڑی رہیں،جناح اسپتال کے شعبہ حادثات میں صرف شام 6بجے تک آنے والے مریضوں کی تعداد400 بتائی گئی ہے، اسپتال کے عملے کے مطابق روز مرہ حالات ایمرجنسی میں آنے والے مریضوںکی تعدادایک ہزار سے زائد ہوتی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کوہونے والی ہڑتال کے باعث ہڑتال کے باعث سرکاری اسپتالوںکے انتظامی دفاتر میں موجود عملہ جلدی گھروں کو لوٹ گیاجبکہ شہر بھرکے سرکاری اور نجی اسپتال بری طرح متاثر ہوئے ہیں،اسپتالوں میں پیرامیڈیکل اسٹاف اورڈاکٹروںکی اکثریت ٹرانسپورٹ اور پٹرول پمپس کی بندش کی وجہ سے اسپتال پہنچنے سے قاصر رہی،ہڑتال کے باعث اسپتالوں میں نصف عملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔
بیشتر سرکاری اسپتالوں میں آپریشن ملتوی کرنے پڑے ، او پی ڈی اور ایمرجنسی میں مریضوںکی تعداد روزمرہ کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہی اور بیشتر چھوٹے نجی اسپتالوں کی اوپی ڈیز مریضوںکی نہ ہونے کے باعث بند پڑی رہیں،جناح اسپتال کے شعبہ حادثات میں صرف شام 6بجے تک آنے والے مریضوں کی تعداد400 بتائی گئی ہے، اسپتال کے عملے کے مطابق روز مرہ حالات ایمرجنسی میں آنے والے مریضوںکی تعدادایک ہزار سے زائد ہوتی ہے ۔