بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے کا بل سینیٹ میں پیش ن لیگ اور جے یو آئی کا واک آؤٹ
چیئرمین نے24واں ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کوبھیج دیا،10دن میں رپورٹ طلب کرلی،ارکان کوکاپی نہیں دی گئی
چیئرمین نے24واں ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کوبھیج دیا،10دن میں رپورٹ طلب کرلی،ارکان کوکاپی نہیں دی گئی ،غیرآئینی ہے،اسحاق ڈار،اب اعتراض کی گنجائش نہیں،وفاقی وزیرقانون فوٹو: فائل
سینیٹ میں 24واں آئینی ترمیمی بل پیش کردیاگیاجس میں صوبہ پنجاب میں بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ تشکیل دینے کے بارے میں سفارشات کی گئی ہیں۔
چیئرمین نے بل کومتعلقہ کمیٹی کی جانب بھیج دیااورہدایت کی کہ بل پر10روز میں کمیٹی رپورٹ پیش کرے تاہم بل پراپوزیشن کی جانب سے شدید اعتراضات کیے گئے،مسلم لیگ ن کے سینیٹرزنے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔تفصیلات کے مطابق جمعے کووزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے ایوان بالامیں24واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا،بل میں صوبہ پنجاب میں ایک نیاصوبہ تشکیل دینے کیلیے آئین کی مختلف دفعات میں ترامیم تجویزکی گئی ہیں چیئرمین سینیٹ نے یہ بل کمیٹی کوریفرکردیاجس پرفاروق ایچ نائیک نے مطالبہ کیاکہ کمیٹی کوہدایت کی جائے کہ وہ ایک ہفتے میں بل پرغورمکمل کرلے۔
تاہم قائدحزب اختلاف اسحاق ڈارنے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے کی تشکیل بہت اہم معاملہ ہے اس لیے کمیٹی کوپابندنہ کیاجائے کہ وہ جلدرپورٹ مکمل کرے نئے صوبوں کے بارے میں پارلیمانی کمیشن کی سفارشات پرمبنی رپورٹ ایوان میں پیش کی جانی چاہیے تھی اوراس کے بعدیہ آئینی ترمیمی بل لایاجاناچاہیے تھالیکن سینیٹ کے کسی رکن کویہ رپورٹ فراہم نہیں کی گئی،ارکان کمیٹی کواس معاملے پربحث کرنے کی اجازت دی جائے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹرظفرعلی شاہ نے کہاکہ24واں آئینی ترمیمی بل قواعدوضوابط سے ہٹ کرپیش کیاگیا،آئین کے آرٹیکل96کے تحت کوئی بھی ترمیمی بل ایوان میں لانے سے قبل ارکان کوفراہم کیاجاناضروری ہے۔
اس کے علاوہ اس بل کاایوان کے آرڈرآف ڈے پرہونابھی ضروری ہے لیکن یہ بل حکومت نے ایجنڈے پرنہ ہونے کے باوجودپیش کیاہے اس طرح حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے،حکومت کے اس رویے کیخلاف وہ ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں یہ کہہ کرانھوں نے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔چیئرمین نیئرحسین بخاری نے وزیرقانون سے اس حوالے سے استفسارکیاتوان کا کہناتھاکہ اب بل کمیٹی کوبھیجا جاچکاہے اس لیے اب اس پرکیاہوسکتاہے؟اس پراب اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ آئندہ اس طرح کے طریقہ کارمیں غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹررضاربانی نے نکتہ اعتراض پرکہاکہ لاپتہ افرادکے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طورپرسفارشات منظورکیں،کمیٹی کی رپورٹ ایجنڈے پرنہیں لائی گئی،آج اجلاس ملتوی ہوجائے گا،سینیٹ سیکریٹریٹ کی طرف سے اس معاملے کوایجنڈے پر نہ لانے کے خلاف احتجاجاً واک آئوٹ کرتاہوں اس کے ساتھ ہی وہ ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔سینیٹرمشاہدحسین سید نے کہاکہ میں رضا ربانی سے یکجہتی کا اظہار کرتاہوں اور وہ بھی ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔سینیٹر اسحق ڈار،حاصل بزنجو نے بھی رضاربانی کی تائیدکی جبکہ جمعیت علمائے اسلام(ف) سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بلوچستان میںگورنرراج کے نفاذکے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا۔
حافظ حمداللہ نے کہا کہ بلوچستان میں گورنرراج کانفاذ بلوچستان کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ کے مترادف ہے، غیر جمہوری قوتوں کاراستہ روکناہے توگورنرراج کاخاتمہ کرناہوگا۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی اورق لیگ کے ارکان کے مابین تلخ اوردلچسپ جملوںکاتبادلہ ہوا۔مسلم لیگ ق کے سینیٹرکامل علی آغانے کہاکہ کمیٹی صوبہ ہزارہ کے قیام کے بارے معاملے کوبھی دیکھے ان کاکہنا تھاکہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے معاملے پران کی جماعت کاواضح نوٹ رپورٹ میں شامل ہے۔اس پرعوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹرحاجی عدیل نے کھڑے ہوکرکہاکہ کمیٹی یہ بھی دیکھے کہ کامل علی آغاکیاہے۔چیئرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
چیئرمین نے بل کومتعلقہ کمیٹی کی جانب بھیج دیااورہدایت کی کہ بل پر10روز میں کمیٹی رپورٹ پیش کرے تاہم بل پراپوزیشن کی جانب سے شدید اعتراضات کیے گئے،مسلم لیگ ن کے سینیٹرزنے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔تفصیلات کے مطابق جمعے کووزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے ایوان بالامیں24واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا،بل میں صوبہ پنجاب میں ایک نیاصوبہ تشکیل دینے کیلیے آئین کی مختلف دفعات میں ترامیم تجویزکی گئی ہیں چیئرمین سینیٹ نے یہ بل کمیٹی کوریفرکردیاجس پرفاروق ایچ نائیک نے مطالبہ کیاکہ کمیٹی کوہدایت کی جائے کہ وہ ایک ہفتے میں بل پرغورمکمل کرلے۔
تاہم قائدحزب اختلاف اسحاق ڈارنے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے کی تشکیل بہت اہم معاملہ ہے اس لیے کمیٹی کوپابندنہ کیاجائے کہ وہ جلدرپورٹ مکمل کرے نئے صوبوں کے بارے میں پارلیمانی کمیشن کی سفارشات پرمبنی رپورٹ ایوان میں پیش کی جانی چاہیے تھی اوراس کے بعدیہ آئینی ترمیمی بل لایاجاناچاہیے تھالیکن سینیٹ کے کسی رکن کویہ رپورٹ فراہم نہیں کی گئی،ارکان کمیٹی کواس معاملے پربحث کرنے کی اجازت دی جائے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹرظفرعلی شاہ نے کہاکہ24واں آئینی ترمیمی بل قواعدوضوابط سے ہٹ کرپیش کیاگیا،آئین کے آرٹیکل96کے تحت کوئی بھی ترمیمی بل ایوان میں لانے سے قبل ارکان کوفراہم کیاجاناضروری ہے۔
اس کے علاوہ اس بل کاایوان کے آرڈرآف ڈے پرہونابھی ضروری ہے لیکن یہ بل حکومت نے ایجنڈے پرنہ ہونے کے باوجودپیش کیاہے اس طرح حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے،حکومت کے اس رویے کیخلاف وہ ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں یہ کہہ کرانھوں نے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔چیئرمین نیئرحسین بخاری نے وزیرقانون سے اس حوالے سے استفسارکیاتوان کا کہناتھاکہ اب بل کمیٹی کوبھیجا جاچکاہے اس لیے اب اس پرکیاہوسکتاہے؟اس پراب اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ آئندہ اس طرح کے طریقہ کارمیں غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹررضاربانی نے نکتہ اعتراض پرکہاکہ لاپتہ افرادکے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طورپرسفارشات منظورکیں،کمیٹی کی رپورٹ ایجنڈے پرنہیں لائی گئی،آج اجلاس ملتوی ہوجائے گا،سینیٹ سیکریٹریٹ کی طرف سے اس معاملے کوایجنڈے پر نہ لانے کے خلاف احتجاجاً واک آئوٹ کرتاہوں اس کے ساتھ ہی وہ ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔سینیٹرمشاہدحسین سید نے کہاکہ میں رضا ربانی سے یکجہتی کا اظہار کرتاہوں اور وہ بھی ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔سینیٹر اسحق ڈار،حاصل بزنجو نے بھی رضاربانی کی تائیدکی جبکہ جمعیت علمائے اسلام(ف) سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بلوچستان میںگورنرراج کے نفاذکے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا۔
حافظ حمداللہ نے کہا کہ بلوچستان میں گورنرراج کانفاذ بلوچستان کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ کے مترادف ہے، غیر جمہوری قوتوں کاراستہ روکناہے توگورنرراج کاخاتمہ کرناہوگا۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی اورق لیگ کے ارکان کے مابین تلخ اوردلچسپ جملوںکاتبادلہ ہوا۔مسلم لیگ ق کے سینیٹرکامل علی آغانے کہاکہ کمیٹی صوبہ ہزارہ کے قیام کے بارے معاملے کوبھی دیکھے ان کاکہنا تھاکہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے معاملے پران کی جماعت کاواضح نوٹ رپورٹ میں شامل ہے۔اس پرعوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹرحاجی عدیل نے کھڑے ہوکرکہاکہ کمیٹی یہ بھی دیکھے کہ کامل علی آغاکیاہے۔چیئرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا۔