حکومت خدشات دور کرنے کیلیے فوری انتخابات کا اعلان کرے سی پی این ای کے سیمینار میں مطالبہ
بلدیاتی نظام بھی ضروری ہے،فاروق ستار،عدلیہ بھی اشتہاردے کہ ملزم کوسزانہیں دے سکتی،شرجیل،معراج الہدیٰ ودیگرکاخطاب
کراچی:سی پی این ای کے تحت انتخابات اوراقتدار کی جمہوری عمل سے منتقلی کے حوالے سے سیمینار ہورہا ہے۔ فوٹو: آن لائن
سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ،ملک بھرکے معروف صحافیوں،مدیران نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے خدشات اورافواہوںکے خاتمے کیلیے بلاتاخیرعام انتخابات کا اعلان کردے ۔
شفاف اورغیرجانبدارانتخابات کے انعقادکیلیے امن وامان کی صورتحال کوبہتربنایاجائے اور انتخابات کیلیے کوریج کرنے والے صحافیوںکوتحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔یہ مطالبات انھوں نے کونسل آف نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے تحت سیمینار''صاف وشفاف انتخابات اوراقتدارکی جمہوری عمل سے منتقلی'' سے خطاب کے دوران اورمنظورکردہ قراردادوں کے ذریعے کیے۔
مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے متحدہ کے رہنماڈاکٹر فاروق ستار،صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن،جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد، جماعت اسلامی کے ڈاکٹرمعراج الہدیٰ، تحریک انصاف کے سردارنادراکمل لغاری، اے این پی کے امیرنواب، مسلم لیگ ق کے علیم عادل شیخ،سینئرصحافیوں امتیاز عالم،ایم ضیاالدین احمد، الطاف قریشی،خوشنودعلی خان ،سی پی این ای کے جمیل اطہر،عامر محمود سمیت دیگرنے خطاب کیا۔
سیمینار کے اختتام پرمنظور کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیاکہ کراچی میں دہشت گردی اورفرقہ وارانہ کارروائیوں کے خلاف ایکشن لیاجائے،ایک اور قرارداد میں اس عزم کااعادہ کیاگیاکہ ملک میں جمہوری عمل کے علاوہ کسی بھی غیرآئینی اقدام کوہرگزبرداشت نہیںکیا جائے گا اوراگر نگراں سیٹ اپ کی کسی بھی صورت میں میعاد میں اضافہ ہوا تو ہم سب سیاسی جماعتوں اورسول سوسائٹی کے ہمراہ اس صورت حال کی نہ صرف مخالفت بلکہ مزاحمت کریںگے،ایک قراردادمیں یہ بھی مطالبہ کیاگیاکہ حکومت غیرمتنازع الیکشن کمشنر کی طرح غیر متنازع نگراں سیٹ اپ لائے جو2ماہ کے عرصے میں انتخابات کاانعقاد کرے۔
اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیروڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ جمہوری عمل بلدیاتی نظام کے بغیر ادھورا ہے اس لیے سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنانے کاعزم کریں اور جوسیاسی جماعت آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے وہ اپنے پہلے سو دن میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے ، تمام سیاسی جماعتیں نیشنل ٹیررازم پالیسی بنائیں جس میں مقامی حکومت کوکردار دیں کہ وہ گلی محلوں کی حفاظت کیلیے کمیونٹی پولیسنگ قائم کریں،کراچی کے حالات نومبر 2008 سے اس وقت زیادہ خراب ہوناشروع ہوئے جب ہم سے وزارت داخلہ لی گئی اورہمارے پاس بلدیاتی ادارے نہیں رہے ۔
سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ماضی میں جان بوجھ کر کسی ایک جماعت کوزیادہ مینڈیٹ نہیں دیاگیا تاکہ کوئی جماعت اپنے سیاسی ایجنڈے پرعمل درآمدنہیں کرسکے لیکن افسوس کہ اب بھی یہ محسوس ہوتاہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی کوئی جماعت تنہاحکومت نہیں بنا سکتی ،اب بھی مخلوط حکومت ہی قائم ہوگی،کتنی بھی کوشش کریں مکمل صاف و شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے ،مکمل صاف و شفاف الیکشن کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہوگا، ایک جج نے ریمارکس دیے کہ حکومت اشتہاردے کہ ہر شہری اپنی حفاظت خودکرے لیکن میں کہتاہوں کہ عدلیہ بھی اشتہار دے کہ وہ کسی ملزم کوسزانہیں دے سکتی کیونکہ ہم نے جتنے بھی ملزم رنگے ہاتھوںگرفتارکیے عدلیہ نے ان سب کورہاکردیا۔
سپریم کورٹ کایہ کہنا کہ 20 سے 25 دنوں میں ووٹر لسٹیں ٹھیک کردیں یہ ممکن ہی نہیں۔جے یو آئی کے حافظ حسین احمدنے کہاکہ بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں اگرصورت حال یہی رہی تو پہاڑوں پر بیٹھے لوگ امیدواروں کو قتل کریں گے۔تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر اکمل لغاری نے کہاکہ الیکشن ملتوی کرانے کاخواب دیکھنے والے ادارے یاشخصیات اپنے خواب سے بیدار ہوجائیں ، انتخابات ملتوی نہیں ہوسکتے۔جماعت اسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہاکہ ملک سے جمہوری عمل کوکسی بھی صورت میں روکا گیاتوسیاسی جماعتیں،صحافی ودانشور مل کر جدوجہد کریں گے۔
اے این پی کے رہنماوسابق صوبائی وزیرامیرنواب نے کہاکہ نادراجس شخص کوشناختی کارڈ جاری کرے اس کا نام از خود ووٹر لسٹ میں درج ہوناچاہیے۔مسلم لیگ (ق) کے علیم عادل شیخ نے کہاکہ الیکشن کمشنر پر اعتمادہے لیکن الیکشن کمیشن پرہمیں تحفظات ہیں۔سینئرصحافی امتیاز عالم نے کہا کہ اے این پی ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو بھی ایک ساتھ بیٹھناچاہیے تاکہ کراچی کا مسئلہ حل ہو اور شہر کو اسلحے سے پاک کیا جاسکے۔سینئر صحافی ضیاالدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار کافیصلہ امریکایا جی ایچ کیو میں ہوتا تھا لیکن اب لگتاہے کہ دونوں تھک چکے ہیں اب انتخابات ہوکررہیںگے، جمہوری انداز میں اقتدار کی منتقلی پاکستان کے لیے خوش آئندہوگا۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیاجبکہ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل عامر محمودنے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
شفاف اورغیرجانبدارانتخابات کے انعقادکیلیے امن وامان کی صورتحال کوبہتربنایاجائے اور انتخابات کیلیے کوریج کرنے والے صحافیوںکوتحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔یہ مطالبات انھوں نے کونسل آف نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے تحت سیمینار''صاف وشفاف انتخابات اوراقتدارکی جمہوری عمل سے منتقلی'' سے خطاب کے دوران اورمنظورکردہ قراردادوں کے ذریعے کیے۔
مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے متحدہ کے رہنماڈاکٹر فاروق ستار،صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن،جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد، جماعت اسلامی کے ڈاکٹرمعراج الہدیٰ، تحریک انصاف کے سردارنادراکمل لغاری، اے این پی کے امیرنواب، مسلم لیگ ق کے علیم عادل شیخ،سینئرصحافیوں امتیاز عالم،ایم ضیاالدین احمد، الطاف قریشی،خوشنودعلی خان ،سی پی این ای کے جمیل اطہر،عامر محمود سمیت دیگرنے خطاب کیا۔
سیمینار کے اختتام پرمنظور کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیاکہ کراچی میں دہشت گردی اورفرقہ وارانہ کارروائیوں کے خلاف ایکشن لیاجائے،ایک اور قرارداد میں اس عزم کااعادہ کیاگیاکہ ملک میں جمہوری عمل کے علاوہ کسی بھی غیرآئینی اقدام کوہرگزبرداشت نہیںکیا جائے گا اوراگر نگراں سیٹ اپ کی کسی بھی صورت میں میعاد میں اضافہ ہوا تو ہم سب سیاسی جماعتوں اورسول سوسائٹی کے ہمراہ اس صورت حال کی نہ صرف مخالفت بلکہ مزاحمت کریںگے،ایک قراردادمیں یہ بھی مطالبہ کیاگیاکہ حکومت غیرمتنازع الیکشن کمشنر کی طرح غیر متنازع نگراں سیٹ اپ لائے جو2ماہ کے عرصے میں انتخابات کاانعقاد کرے۔
اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیروڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ جمہوری عمل بلدیاتی نظام کے بغیر ادھورا ہے اس لیے سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنانے کاعزم کریں اور جوسیاسی جماعت آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے وہ اپنے پہلے سو دن میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے ، تمام سیاسی جماعتیں نیشنل ٹیررازم پالیسی بنائیں جس میں مقامی حکومت کوکردار دیں کہ وہ گلی محلوں کی حفاظت کیلیے کمیونٹی پولیسنگ قائم کریں،کراچی کے حالات نومبر 2008 سے اس وقت زیادہ خراب ہوناشروع ہوئے جب ہم سے وزارت داخلہ لی گئی اورہمارے پاس بلدیاتی ادارے نہیں رہے ۔
سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ماضی میں جان بوجھ کر کسی ایک جماعت کوزیادہ مینڈیٹ نہیں دیاگیا تاکہ کوئی جماعت اپنے سیاسی ایجنڈے پرعمل درآمدنہیں کرسکے لیکن افسوس کہ اب بھی یہ محسوس ہوتاہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی کوئی جماعت تنہاحکومت نہیں بنا سکتی ،اب بھی مخلوط حکومت ہی قائم ہوگی،کتنی بھی کوشش کریں مکمل صاف و شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے ،مکمل صاف و شفاف الیکشن کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہوگا، ایک جج نے ریمارکس دیے کہ حکومت اشتہاردے کہ ہر شہری اپنی حفاظت خودکرے لیکن میں کہتاہوں کہ عدلیہ بھی اشتہار دے کہ وہ کسی ملزم کوسزانہیں دے سکتی کیونکہ ہم نے جتنے بھی ملزم رنگے ہاتھوںگرفتارکیے عدلیہ نے ان سب کورہاکردیا۔
سپریم کورٹ کایہ کہنا کہ 20 سے 25 دنوں میں ووٹر لسٹیں ٹھیک کردیں یہ ممکن ہی نہیں۔جے یو آئی کے حافظ حسین احمدنے کہاکہ بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں اگرصورت حال یہی رہی تو پہاڑوں پر بیٹھے لوگ امیدواروں کو قتل کریں گے۔تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر اکمل لغاری نے کہاکہ الیکشن ملتوی کرانے کاخواب دیکھنے والے ادارے یاشخصیات اپنے خواب سے بیدار ہوجائیں ، انتخابات ملتوی نہیں ہوسکتے۔جماعت اسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہاکہ ملک سے جمہوری عمل کوکسی بھی صورت میں روکا گیاتوسیاسی جماعتیں،صحافی ودانشور مل کر جدوجہد کریں گے۔
اے این پی کے رہنماوسابق صوبائی وزیرامیرنواب نے کہاکہ نادراجس شخص کوشناختی کارڈ جاری کرے اس کا نام از خود ووٹر لسٹ میں درج ہوناچاہیے۔مسلم لیگ (ق) کے علیم عادل شیخ نے کہاکہ الیکشن کمشنر پر اعتمادہے لیکن الیکشن کمیشن پرہمیں تحفظات ہیں۔سینئرصحافی امتیاز عالم نے کہا کہ اے این پی ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو بھی ایک ساتھ بیٹھناچاہیے تاکہ کراچی کا مسئلہ حل ہو اور شہر کو اسلحے سے پاک کیا جاسکے۔سینئر صحافی ضیاالدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار کافیصلہ امریکایا جی ایچ کیو میں ہوتا تھا لیکن اب لگتاہے کہ دونوں تھک چکے ہیں اب انتخابات ہوکررہیںگے، جمہوری انداز میں اقتدار کی منتقلی پاکستان کے لیے خوش آئندہوگا۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیاجبکہ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل عامر محمودنے نظامت کے فرائض انجام دیے۔