حال نوشہرہ کا

لگتا ہے اصل نوشہرہ بھی بیمار بیمار بہت رہتا ہے اس لیے اتنے سالوں میں بھی اسم با مسمیٰ یعنی ’’شہر ‘‘ نہیں بن پایا۔

barq@email.com

ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ایسا تو نہیں کہ وہاں سے خود ہم کو بھی ہماری خبر نہ آتی ہو لیکن اس ضلع کو ہماری خبر کبھی نہیں آئی ۔معاف کیجیے ''رہنے'' کے بجائے ہم یہ بھی لکھ سکتے تھے کہ ہم جہاں رہائش پذیر ہیں لیکن نہ تو ہم کچھ زیادہ پذیر ہیں اور نہ ہماری جگہ کو رہائش کا درجہ ملا ہے۔البتہ یہ لکھنے میں خطرہ نہیں کہ جہاں ہم ''اُگے'' ہوئے ہیں یا جہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں اس ضلع کو '' نوشہرہ'' کہتے ہیں جس کی وجہ آج تک ہماری سمجھ میں آئی بلکہ یہ تک ہمیں پتہ نہیں کہ یہ ''نو'' فارسی کا ہے یا انگریزی کا۔

قرائن سے تو پتہ چلتا ہے کہ لفظ ضرور انگریزی کا ہوگا یعنی (No) کیونکہ انگریزی دور سے پہلے تو یہاں دور دور تک کوئی شہر نہیں صرف Noہی Noتھا کیونکہ جس گاؤں کو نوشہرہ کہا جاتا ہے وہ تو اب بھی تقریباً نو Noکے برابر ہے، ویسے وہاں کے لوگ محض دل کو خوش رکھنے کے لیے اسے نوشہرہ کلاں کہتے ہیں حالانکہ قد وقامت کے لحاظ سے وہ نوشہرہ خورد بعنی چھاؤنی کا چھوٹا بھائی بھی نہیں بلکہ بیٹا یا پوتا لگتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے ایک مشہور سلسلہ لطائف کے ایک لطیفے کی اصل بنیاد یہیں سے پڑی ہو۔

لطیفہ یہ ہے کہ کسی جگہ ایک چوہے اور نوجوان ہاتھی کی ملاقات ہوئی۔ چوہے نے ہاتھی سے پوچھا، تمہاری عمر کتنی ہوگی؟ ہاتھی بولا ، چھ مہینے کا ہوں۔ چوہے نے ہاتھی کو دیکھا، پھر خود دیکھا اور پھر ہاتھی کو نہ دیکھتے بلکہ کسی بھی طرف نہ دیکھتے ہوئے بولا ، عمر تو میری بھی یہی کچھ اوپر چھ مہینے کی ہوگی لیکن میں چونکہ زیاد''بیمارشیمار '' رہتا ہوں اس لیے بڑھوتری نہیں ہو رہی ہے۔ لگتا ہے اصل نوشہرہ بھی بیمار بیمار بہت رہتا ہے اس لیے اتنے سالوں میں بھی اسم با مسمیٰ یعنی ''شہر '' نہیں بن پایا۔ کچھ پہلے زمانوں میں جب یہ بیچارہ شہر صرف تحصیل ہوا کرتا تھا تو کچھ سرکاری دفاتر یہاں بھی ہوا کرتے تھے لیکن نئی سڑک کی تاب نہ لا کر وہ بھی یہاں سے شفٹ ہوگئے اور باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی ۔ کہ نام تو اس کا شہر ہے لیکن آمدنی گاؤں سے بھی کم ہے ۔

دہلی کے بارے میں تو بتایا جاتا ہے کہ سو بار اجڑی ہے لیکن پھر بھی ایک شہر ہے عالم میں انتخاب جب کہ نوشہرہ کبھی اجڑے بغیر بھی ویسے کا ویسا ہی ہے جیسا کہ اپنی پیدائش کے وقت کبھی رہا ہوگا ، اس اپنے ضلع میں بھی شاید دوچار ہی بزرگوں کو پتہ ہواصل ''نوشہرہ'' کہاں ہے۔ وہ تو خدا نے اس کی تھوڑی سی لاج رکھی کہ ضلع بن گیا اور لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ اس نام کا ایک شہر بھی ہے۔لیکن قسمت تو قسمت ہوتی ہے چاہے کوئی اپنا نام کچھ بھی رکھ لے چنانچہ ''ضلع نوشہرہ'' کا بھی ضلعوں میں وہی حال ہے جو شہر نوشہرہ کا شہروں میں ہوا کرتا تھا۔اور نوشہرہ ہی کو دیکھ کر ہمارا قسمت پر یقین اور پختہ ہوگیا کہ قسمت خراب ہو تو بہتے دریا سے بھی چاٹ چاٹ کر پانی پینا پڑتاہے۔ کہتے ہیں تین افراد کا ایک گھرانا تھا جو حد درجے غربت کا شکار تھا اور تینوں دن رات دعائیں مانگتے کہ ہماری حالت سدھر جائے۔

ایک دن ایک فرشتہ آیا اور کہا کہ تم میں سے ہر ایک کی ایک ایک خواہش پوری کی جائے گی، اپنی خواہش بتاؤ۔ بیٹی نوجوان اور جلد باز تھی۔ بولی، میری خواہش یہ ہے کہ میں دنیا کی حسین و جمیل عورت ہو جاؤں۔ خواہش پوری ہو گئی اورلڑکی چندے آفتاب اور چندے مہتاب ہو گئی۔ ہا ں یہ تو ہم بھول گئے کہ خواہشوں کا شیڈول ہفتے میں ایک خواہش کا تھا ۔لڑکی خوبصورت بن گئی، ایک دن ادھر سے شہزادے کا گذر ہوا تو دونوں کا ٹانکا بھڑگیا اور لڑکی ماں باپ کی طرف پلٹ کر دیکھے بغیر شہزادے کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ کر چلی گئی، ماں باپ نے بھی اس کے پیچھے جاکر کچھ حاصل کرنا چاہا تو بیٹی کی طرف سے ٹکا سا جواب مل گیا کہ پھر بھی ادھر کا رخ کرکے میرا امیج خراب کرنے کی کوشش مت کرنا ۔


اتنے میں دوسری خواہش کا وقت ہو چلا ، فرشتہ آیا تو دل جلے باپ نے خواہش کی کہ میری یہ نا ہنجار بیٹی پہلے سے بھی زیادہ بلکہ دنیا کی بد صورت ترین عورت بن جائے خواہش پوری ہو گئی، شہزادے نے جب ایک ماہ پارہ کے بجائے چڑیل کو دیکھا تو فوراً گھوڑے پر لاد کر وہیں پہنچا دیا جہا ں کا خمیر تھا، بیٹی کے زار و قطار رونے پر باپ کا دل تو نہیں دکھالیکن ماں تو ماں ہوتی ہیں چنانچہ جب اس خواہش کی باری آئی تو اس نے مانگا کہ میری بیٹی اپنی اصل صورت میں لوٹ آئے ۔ وہ تو لوٹ آئی لیکن غربت کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

نوشہرہ کو بھی خدا نے کئی وزرائے اعلیٰ دیے ،گور نر دیے، جرنیل دیے، خوشحال خان خٹک ،اجمل خٹک دیا۔ سمندر خان سمندر ، سید رسول رسا ، مولانا عبد اللہ، شمس العلماء رضوانی، راجولی شاہ خٹک اور کاکا خیل گھرانے کے بہت سارے بڑے بڑے عالم اسکالر ،شاعر ادیب دیے۔ قاضی حسین احمد ، موجودہ وفاقی مشیر خارجہ سرتاج عزیز دارلعلوم حقانیہ۔ تین چھاؤنیاں اور ہیڈ کوارٹر دیے، ایک ہی گھرانے کے دو وزرائے اعلی نصر اللہ خان خٹک ، پرویز خٹک دیے لیکن قسمت تو اس کی وہی ہے جو تھی جو ہے اور جوہمیشہ رہے گی

خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

ارے ہاں وہ اصل بات کہنا تو ہم بھول ہی گئے جس کے لیے یہ سارا قصہ شروع کیا تھا یعنی اپنے اور اپنے پرویز خٹک کی بات۔ خیر چلیے یہ کہانی پھر سہی ۔
Load Next Story