دہشتگردوں کے حوصلوں کی پستی
دہشتگردی کے مسئلہ پر امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک پاکستان کی قربانیوں کا صدق دل سے اعتراف نہیں کرتے
دہشتگردی کے مسئلہ پر امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک پاکستان کی قربانیوں کا صدق دل سے اعتراف نہیں کرتے . فوٹو : فائل
LONDON:
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم بطور قوم دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، دہشتگردی کے ایسے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹر لاہور میں سیکیورٹی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف کو لاہور دھماکے اور آپریشن رد الفساد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ پاک فوج ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
آرمی چیف کا بیان لاہور بم دھماکے کے تناظر میں اس عزم کا اعادہ ہے کہ دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ملک کی داخلی صورتحال دہشتگردوں کے بار بار حملوں سے بڑی حد تک محفوظ ہوگئی ہے اور طالبان سمیت دہشتگردی اور فرقہ واریت و ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث مختلف دہشتگرد گروہوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے مگر اس عفریت کے عالمی نیٹ ورک اور گلوبل رابطوں کے باعث سیاسی وعسکری سطح پر مشترکہ اور ہم آہنگ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔
ایک خبر کے مطابق دہشتگردوں کی ایک نئی صف بندی کا انکشاف ہوا ہے جس میں انجینئرز ، ڈاکٹرز اور دیگر شعبوں کے فارغ التحصیل افراد کی بھرتی ہوگی ، یوں دہشتگردی کے ایک عالمی مسئلہ کے طور پر شناخت مزید مستحکم ہوجائیگی۔
لہٰذا انتہاپسندی کی ان ناگہانی بلاؤںکے خاتمہ کے لیے عالمی قوتوں کو اپنے جنگی اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے مفادات اور سیاسی و اقتصادی مصلحتوں سے بالاتر رہنا ہوگا۔ آرمی چیف کا استدلال قابل غور ہے کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ اس لعنت کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ عوام مشکوک نقل و حرکت سے سیکیورٹی اداروں کو فوری مطلع کریں گے تو اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے گا۔ یہ زمینی اور علاقائی سچ ہے کہ کابل اور لاہور میں ہونیوالے حالیہ دھماکے پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک یہ دہشتگرد عناصر بلا روک ٹوک افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے رہیں گے۔
اپنے حالیہ دورہ مالدیپ میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان، مالدیپ دہشتگردی کے خاتمے اور سارک کو مزید موثر بنانے پر متفق ہوگئے ، واضح رہے وزیراعظم نے اس نازک وقت میں مالدیپ کا دورہ کیا جب منگل کو سرکاری فوج نے مالدیپی اپوزیشن کے ساتھ جھڑپوں کے دوسرے روز پارلیمنٹ کی عمارت کا محاصرہ کرلیا جب کہ ملک میں سیاسی بحران طول پکڑ گیا ہے، عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے اپوزیشن کی بڑی جماعت مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کو سخت سیکیورٹی حصار میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پورے خطے میں امن اوراستحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم نوازشریف نے منگل کو مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے، بعدازاں صدر مالدیپ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا اسلام آباد میں منعقد ہونے والی گزشتہ سارک کانفرنس کے التواء کے موقف کے باعث بھارت نے پہلی دفعہ سارک کی تنظیم کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے گزشتہ چند سالوں میں چار مرتبہ اس طرح کے اقدامات کیے ہیں، بھارت نے سارک قوانین کی خلاف ورزی کی جس سے باہمی مسائل کے خاتمے کے موقف کو نقصان پہنچا۔
تاہم دہشتگردی کے مسئلہ پر امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک پاکستان کی قربانیوں کا صدق دل سے اعتراف نہیں کرتے، زبانی کلامی سب کہتے ہیں کہ پاکستان کا خطے کے امن اور دہشتگردی کے خاتمہ میں اہم کردار ہے مگر اسی پر الزامات کی بوچھاڑ بھی ہوتی ہے۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور امریکی قومی سلامتی کے مشیرلیفٹیننٹ جنرل ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے لاہور دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر نہ صرف افسوس کا اظہار کیا بلکہ یہ بھی کہا امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے۔
اگر تسلیم کرتا ہے تو امریکا افغانستان اور بھارت کو اس کے مخاصمانہ ، غیر حقیقی رویے اور جنگجویانہ طرز عمل کو ترک کرنے کا کیوں نہیں کہتا، امریکا کی مجبوری کیا ہے، عجیب بات کہ جو ملک دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست بنا ہوا ہے اسے ہی مطعون اور مورد الزام ٹھہرانے کی روش بھی جاری ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ سول وعسکری قیادت پاکستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونیکی اجازت نہیں دیگی جب کہ وزیر اعظم نوازشریف کی قیادت اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مسلح افواج کے تعاون سے پاکستان دہشتگردی کی لعنت کو شکست دینے کا عزم رکھتا ہے۔ پاکستان کے اس عزم اور پیغام کی منظم تشہیر دنیا کے مفاد میں ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم بطور قوم دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، دہشتگردی کے ایسے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹر لاہور میں سیکیورٹی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف کو لاہور دھماکے اور آپریشن رد الفساد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ پاک فوج ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
آرمی چیف کا بیان لاہور بم دھماکے کے تناظر میں اس عزم کا اعادہ ہے کہ دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ملک کی داخلی صورتحال دہشتگردوں کے بار بار حملوں سے بڑی حد تک محفوظ ہوگئی ہے اور طالبان سمیت دہشتگردی اور فرقہ واریت و ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث مختلف دہشتگرد گروہوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے مگر اس عفریت کے عالمی نیٹ ورک اور گلوبل رابطوں کے باعث سیاسی وعسکری سطح پر مشترکہ اور ہم آہنگ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔
ایک خبر کے مطابق دہشتگردوں کی ایک نئی صف بندی کا انکشاف ہوا ہے جس میں انجینئرز ، ڈاکٹرز اور دیگر شعبوں کے فارغ التحصیل افراد کی بھرتی ہوگی ، یوں دہشتگردی کے ایک عالمی مسئلہ کے طور پر شناخت مزید مستحکم ہوجائیگی۔
لہٰذا انتہاپسندی کی ان ناگہانی بلاؤںکے خاتمہ کے لیے عالمی قوتوں کو اپنے جنگی اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے مفادات اور سیاسی و اقتصادی مصلحتوں سے بالاتر رہنا ہوگا۔ آرمی چیف کا استدلال قابل غور ہے کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ اس لعنت کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ عوام مشکوک نقل و حرکت سے سیکیورٹی اداروں کو فوری مطلع کریں گے تو اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے گا۔ یہ زمینی اور علاقائی سچ ہے کہ کابل اور لاہور میں ہونیوالے حالیہ دھماکے پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک یہ دہشتگرد عناصر بلا روک ٹوک افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے رہیں گے۔
اپنے حالیہ دورہ مالدیپ میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان، مالدیپ دہشتگردی کے خاتمے اور سارک کو مزید موثر بنانے پر متفق ہوگئے ، واضح رہے وزیراعظم نے اس نازک وقت میں مالدیپ کا دورہ کیا جب منگل کو سرکاری فوج نے مالدیپی اپوزیشن کے ساتھ جھڑپوں کے دوسرے روز پارلیمنٹ کی عمارت کا محاصرہ کرلیا جب کہ ملک میں سیاسی بحران طول پکڑ گیا ہے، عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے اپوزیشن کی بڑی جماعت مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کو سخت سیکیورٹی حصار میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پورے خطے میں امن اوراستحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم نوازشریف نے منگل کو مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے، بعدازاں صدر مالدیپ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا اسلام آباد میں منعقد ہونے والی گزشتہ سارک کانفرنس کے التواء کے موقف کے باعث بھارت نے پہلی دفعہ سارک کی تنظیم کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے گزشتہ چند سالوں میں چار مرتبہ اس طرح کے اقدامات کیے ہیں، بھارت نے سارک قوانین کی خلاف ورزی کی جس سے باہمی مسائل کے خاتمے کے موقف کو نقصان پہنچا۔
تاہم دہشتگردی کے مسئلہ پر امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک پاکستان کی قربانیوں کا صدق دل سے اعتراف نہیں کرتے، زبانی کلامی سب کہتے ہیں کہ پاکستان کا خطے کے امن اور دہشتگردی کے خاتمہ میں اہم کردار ہے مگر اسی پر الزامات کی بوچھاڑ بھی ہوتی ہے۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور امریکی قومی سلامتی کے مشیرلیفٹیننٹ جنرل ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے لاہور دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر نہ صرف افسوس کا اظہار کیا بلکہ یہ بھی کہا امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے۔
اگر تسلیم کرتا ہے تو امریکا افغانستان اور بھارت کو اس کے مخاصمانہ ، غیر حقیقی رویے اور جنگجویانہ طرز عمل کو ترک کرنے کا کیوں نہیں کہتا، امریکا کی مجبوری کیا ہے، عجیب بات کہ جو ملک دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست بنا ہوا ہے اسے ہی مطعون اور مورد الزام ٹھہرانے کی روش بھی جاری ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ سول وعسکری قیادت پاکستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونیکی اجازت نہیں دیگی جب کہ وزیر اعظم نوازشریف کی قیادت اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مسلح افواج کے تعاون سے پاکستان دہشتگردی کی لعنت کو شکست دینے کا عزم رکھتا ہے۔ پاکستان کے اس عزم اور پیغام کی منظم تشہیر دنیا کے مفاد میں ہے۔