کرکٹ کے ’’بادشاہوں‘‘کا فیصلہ

جاوید میانداد اور محسن خان پاکستان کرکٹ کا بڑا نام ہیں اگر وہ اسے غلط قرار دے رہے ہیں تو ان کی بات کو اہمیت دیں

جاوید میانداد اور محسن خان پاکستان کرکٹ کا بڑا نام ہیں اگر وہ اسے غلط قرار دے رہے ہیں تو ان کی بات کو اہمیت دیں: فوٹو: فائل

''تم کیا سمجھتے ہو، تمہارے کالمز یا خبروں کی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ بدل دیا جائے گا،ایسا کچھ نہیں ہونے والا، جاوید میانداد اور محسن خان اگر نئے سیٹ اپ کی مخالفت کر رہے ہیں تو یہ ہمارے لیے اچھا ہی ہے، یہ دونوں سابق ٹیسٹ کرکٹرز پی سی بی مخالف ہیں،اس لیے ان کے منفی بیانات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا''

1،2 دن قبل بورڈ کی ایک اعلیٰ شخصیت سے فون پر بات ہو رہی تھی، انھوں نے مجھ سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں پر رائے مانگی جو میں نے بے باک انداز سے دے دی تو پھر وہ مذکورہ باتیں کرنے لگے، میرا جواب صرف یہ تھا کہ جناب آپ لوگ کرکٹ بورڈ کے بادشاہ ہیں جو چاہیں کریں، آپ کو کون روک سکتا ہے لیکن کہیں متاثرہ کرکٹرز کی آہ اعلیٰ حکام کو ہی نہ لے ڈوبے، اس پر انھوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا کہ ''ایسا کچھ نہیں ہوگا''۔

واقعی فی الحال تو کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا،اس ملک میں طاقتور شخصیات کو جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتی ہیں انھیں کسی کا خوف نہیں ہوتا، اب آپ دیکھیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کیا ہو رہا ہے، دنیا میں کہیں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ کیلیے ڈرافٹنگ سے کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں ہوتا لیکن ہم کر رہے ہیں تاکہ اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں، بچپن سے یہ سنتا آ رہا ہوں کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اچھا نہیں، ارے بھائی جب آپ ہر سال اپنے ہی بنائے ہوئے سسٹم کو اگلے برس تبدیل کر دیں گے تو خاک بہتری آئے گی، نتائج دیکھنے کیلیے کم از کم چار، پانچ سال تو دیں مگر ایسا نہیں ہوتا، کہنے کو تو کرکٹ بورڈ میں جمہوریت آ گئی ہے مگر گورننگ بورڈ کے دس لوگ تین سال کیلیے چیئرمین کا انتخاب کریں۔


جس کا نام وزیر اعظم نے ہی بھیجا ہو یہ کیسی جمہوریت ہے، اس عمل میں سب کو شامل کرنا چاہیے، مگر اس صورت میں من پسند نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے شاید اسی لیے ایسا نہیں ہوتا، اب بھی نجم سیٹھی کا چیئرمین بننا تقریباً یقینی ہے، یوں مسلسل دوسری بار وزیر اعظم کا نامزد کردہ گورننگ بورڈ ممبر پی سی بی کی سربراہی سنبھالے گا،اس سے صاف ظاہر ہے کہ جمہوری انداز سے کوئی انتخاب نہیں ہوتا سرپرست اعلیٰ نامزد ہی اسے کرتے ہیں جسے چیئرمین بنانا ہو، جمہوری انتخاب کا راگ الاپ کر آئی سی سی کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جا رہی ہے جو خود بھارت کی وجہ سے اب اس پر اتنا زور نہیں دیتی، ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ گورننگ بورڈ میں شامل بیشتر ارکان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں مگر کرکٹ بورڈ میں آکر وہ خاموش ہو جاتے ہیں، کوئی انتخابات میں حصہ لینے کی بھی جرات نہیں کرتا، زیادہ سے زیادہ ہار ہی جائیں گے ناں مگر پتا تو چلے کہ کوئی تو ہمت والا بندہ ہے۔

موجودہ گورننگ بورڈ نے اپنی تین سالہ معیاد مکمل کر لی، جمعے کو بیشتر ارکان آخری اجلاس میں شرکت کریں گے،مگر کسی میٹنگ میں ایسا نہیں ہوا کہ انھوں نے اعلیٰ حکام کے کسی فیصلے پر اعتراض کیا ہو، گورننگ بورڈ بنا ہی اس لیے کہ بورڈ میں ''ون مین شو'' نہ ہو مگر یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکا،یہ اور بات ہے کہ چیئرمین سے زیادہ ایگزیکٹیو کمیٹی چیف نجم سیٹھی طاقتور تھے،ان کے سامنے کسی نے آواز نہ اٹھائی، پی ایس ایل کمپنی بنانی ہے ضرور بنا لیں جناب، نہیں بنانی نہ بنائیں جناب، ایسوسی ایشنز کے بعض لوگوں کو تو اپنے ڈیلی الاؤنس اور مراعات میں دلچسپی رہی، کوئی اپنے رشتہ داروں کو کھلانے کیلیے خاموش رہا تو کسی کی کوئی اور وجہ تھی، اس لیے بورڈ معاملات میں کوئی بہتری نہ آئی، اگر گورننگ بورڈ مضبوط ہو جائے تو کوئی چیئرمین من مانی نہ کر پائے،اب سنا ہے ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کے معاملے میں بعض ارکان احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں، ویسے بھی اب ان کا آخری اجلاس ہے اس میں کچھ تو کر جائیں، سوچنے کی بات ہے کہ اگر ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی سے صرف 8 کھلاڑی منتخب ہوں گے اور باقی 12 ڈرافٹنگ سے آئیں گے تو اس کا کتنا نقصان ہوگا، اسی طرح دیگر شہروں کے ساتھ بھی ہے۔

جاوید میانداد اور محسن خان پاکستان کرکٹ کا بڑا نام ہیں اگر وہ اسے غلط قرار دے رہے ہیں تو ان کی بات کو اہمیت دیں، صرف اس وجہ سے وہ بورڈ حکام کے مخالف ہیں انھیں نظر انداز کرنا درست نہ ہوگا، کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن نے تو پہلے ہی احتجاج شروع کر دیا، بورڈ کو خط بھی لکھا، دیکھیں کیا ہوتا ہے لیکن اگر زور زبردستی سے حکام نے اپنا فیصلہ تسلیم کرا لیا تو اس کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ ہو نہیں رہی، نئے کھلاڑیوں کو برسوں میں کبھی قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملتا ہے، جیسے ابھی چیمپئنز ٹرافی میں سرفراز احمد نے کئی پلیئرز کو آزمایا، ایسے میں نوجوانوں کیلیے پہلا ہدف یہی ہوتا ہے کہ وہ کم ازکم فرسٹ کلاس کرکٹ تو کھیلیں، افسوس یہ موقع بھی ان سے چھیننے کا پلان بنا لیا گیا ہے،میری بورڈ حکام سے درخواست ہے کہ ابھی ایسا نہ کریں، موجودہ سیٹ اپ کو چند برس برقرار رکھیں،پہلے بھی کہا تھا کہ اگر سفارشی کرکٹرز کے کھیلنے کا خدشہ ہے تو ٹرائلز میں اپنا عمل دخل بڑھائیں اورریجنز کے ساتھ خود ٹیلنٹ کی جانچ کریں۔

اس کے باوجود بھی اگر ایسا لگے کہ بہتری نہیں آ رہی تو کوئی درمیانی راہ تلاش کریں، ایسوسی ایشنز بورڈ کا ہی حصہ ہیں انھیں اعتماد دیں اور مشاورت سے فیصلے کریں،کرکٹ کو تباہی کی جانب نہ دھکیلیں، بڑے بڑے بادشاہ آئے جنھوں نے دنیا پرحکومت کی آج ان کا نام لینے والا تک کوئی موجود نہیں،آپ لوگ تو صرف کرکٹ بورڈ کے بادشاہ ہیں، ذرا سنبھل کر چلیں، اگر زور زبردستی سے فیصلے لاگو کیے گئے تو ملک میں تو تبدیلی آ ہی رہی ہے کرکٹ بورڈ میں بھی نہ آ جائے،گورننگ بورڈ ممبرز بھی جاتے جاتے کوئی اچھا کام کر جائیں، ایک بار پھر ربڑ اسٹیمپ بننے کے بجائے اٹھ کرکہہ دیں کہ ''ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسی تبدیلی منظور نہیں ہے''۔
Load Next Story