ساجھے کی گائے
تخت و تاج اور مذہب والوں کا وہ سمجھوتہ آج تک قائم ہے اور گائے بھی زندہ اور سامنے موجود ہے جو چرتی ہے
barq@email.com
کسی نہایت ہی عالم فاضل اور لائق فائق اور ذہن و فطین شخص کا قول ہے کہ تاریخ میں صرف نام اصلی ہوتے ہیں اور واقعات سراسر جعلی اور جھوٹے جب کہ قصے کہانیوں میں واقعات بالکل سچے ہوتے ہیں صرف نام فرضی ہوتے ہیں۔یہ بات تو اب بتانے کی بالکل نہیں ہے کہ ہم نے بطور سائیڈ بزنس کے تحقیق و تفسیرڈالی ہوئی چنانچہ درجہ بالا قول زرین پربھی ہم نے اپنا ٹٹوئے تحقیق دوڑا یا تو پتہ چلا یہ بات سچی بھی ہے اور مچی بھی۔
ظاہر ہے کہ اس کے لیے ہم تاریخ اور اساطیر یعنی قصے کہانیوں کے بہت سارے صفحے کھنگالے ہوئے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ اس ''سچے جھوٹوں''کا اور جھوٹے سچوں کا تھوڑا سا نمونہ آپ کو بھی دکھادیں۔ہندی اساطیر یا دیو مالا میں ہمیں ایک کہانی ملی جسے راجہ وشوامتر اور رشی وسشٹھ کی کہانی کہتے ہیں۔
ہوایوں کہ وسومتر ایک بہت بڑا کھشتری راجہ تھا۔ ایک دن وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت شکار کو نکلا تو آبادیوں سے بہت دور اسے وسثٹھ نام کے ایک رشی کے آشرم میں آنکلا ۔ رشی وسثٹھ نے جو ذات کا برھمن تھا، راجہ اور اس کے لاؤ لشکر کی ایسی زبردست مہمان نوازی کی کہ راجہ وشوامتر دنگ رہ گیا کہ آخر اس رشی نے اس دشت و بیابان میں ایسے انتظامات اور مہمان نوازی کے لوازمات کا بندوبست کیسے کیا جس میں دنیا کی ہر نعمت موجود تھی۔ آخر کار اس نے رشی سے یہ بات پوچھ لی۔ رشی نے بتایا کہ میرے پاس ایک ''گائے '' ہے جو دیوتاؤں نے مجھے اپنی عبادت کے صلے میں عطا کی ہوئی ہے۔ مجھے جب کسی بھی چیز کی صرورت ہوتی ہے اس گائے سے کہہ دیتا ہوں اور وہ فوراً سب کچھ پید ا کر دیتی ہے۔
یہ سن کر راجہ وشو امتر مصر ہوا کہ یہ گائے مجھے دیدو لیکن رشی نہیں مانا۔ راجہ نے ہر طرح کے لالچ دیے ، منہ مانگی قیمت دینی چاہے لیکن پھر بھی وہ رشی راضی نہیں ہوا، تب راجہ نے فوج کو حکم دیا کہ رشی کی گائے زبردستی حاصل کرلے۔ راجہ کی فوج نے یہ قصد کیا تو رشی و سشٹھ نے گائے کو حکم دیا کہ راجہ کی فوج کے مقابل فوج پید ا کرو ۔گائے نے فوراً راجہ سے بھی بڑی فوج پید ا کرکے راجہ کے مقابل کھڑی کر دی جس نے راجہ کی فوج کو مار بھگایا ۔
راجہ غصے سے کانپتا ہوا راجد ھانی پہنچا اور اپنی ساری فوج کو رشی پر حملہ کرنے اور گائے لانے کے لیے بھیج دیا لیکن گائے نے بھی مقابل میں اس سے زیادہ فوج پیدا کرکے اس فوج کو بھی بھگا دیا۔راجہ کو پتہ چلا تو اس نے فوراً اپنا راج پاٹھ تیاگ کر بیٹوں کے حوالے کیا اور خود تپسیا کے لیے بن باس لے لیا کہ میں اس برھمن رشی کے مقابل اور زیادہ طاقتور بن کر اس کی گائے چھینوں گا۔راجہ وشوامتر عبادت کرتا رہا اور عبادت میں سالہا سال لگا دیے تب دیوتا برھما نے حاضر ہو کر اس کی خواہش پوچھی۔
راجہ نے '' برہم رشی بنانے کا مطالبہ کیا لیکن برھما نے اسے راج رشی کا رتبہ دیا جو بہت معمولی مرتبہ تھا ۔ راجہ پھر عبادت میں مگن ہو گیا۔ہندی اساطیر میں یہ اصول تھے کہ بہت زیادہ عبادت کرنے پر اس کے سامنے ''برھما دیوتا '' کو مجبوراً حاضر ہو کر اس کی خواہش پوری کرنی پڑتی جسے ''ور '' یا وردان کہتے ہیں۔
اس مرتبہ راجہ نے پھر وہی برھم رشی کا رتبہ چاہا لیکن برھما نے اسے ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک درجہ بڑھا کر اسے '' دیو رشی '' کا رتبہ عطا کیا۔ راجہ پھر تپسیا میں بیٹھ گیا ، اس مرتبہ اتنی عبادت کی کہ اسے یقین ہوگیا کہ اب تو مجھے برہم رشی کا رتبہ ضرور ملے گا ۔ برھما نے پھر خاص ''ور '' پوچھا تو رشی پھر وہی برھم رشی کا رتبہ مانگا کیونکہ رشی و سثٹھ کا رتبہ برھم رشی کا تھا اور اس کا ارادہ اس کے مقابلے خود کو بنانا تھا اور اس مرتبہ برھمانے مجبور ہو کر اسے برھم رشی یعنی سب سے اونچا رتبہ دے ہی ڈالا۔ وشوامتر برھم رشی کا عہدہ پاکر رشی و سشٹھ کے مقابلے کے لیے چل پڑا۔
رشی و سشٹھ نے اس کا پرتباک استقبال کیا۔ راجہ نے کہا، اب میں بھی تیری طرح برہم رشی بن چکا ہوں اور تم سے مقابلہ کر کے وہ گائے حاصل کرنا چاہتاہوں ، اٹھو اور مجھ سے مقابلہ کرو۔ اس پر رشی و سشٹھ نے مسکراتے ہوئے کہا، میں بھی برہم رشی اور تم بھی برھم رشی اس طرح ہم بھائی ہوئے مقابلے کی ضرورت ہی کیا ہے، ویسے ہی گائے حاضر ہے ، دونوں ہی مل کر گائے سے فائدہ اٹھائیں گے۔ کہانی ختم ہوگئی۔
وشوامتر اور سثٹھ دونوں ہی گائے میں ساجھے دار ہوگئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کہانی میں بنیادی نکتہ کیا ہے اور و ہ گائے کیا تھی ؟اس بات کو سمجھنے اور گائے کو پہچاننے کے لیے ہمیں ہندی دھرم کی تفصیل جاننا ہوگی۔ ہندؤں میں انسانوں کے چار درجے ہیں۔کھشتری جن کاکام حکومت کرنا ہوتا تھا، برہمن جن کا کام مذہبی ذمے داریاں ادا کرنا ہوتا ہے، ویش جو کمانے والے کاروباروں یا تجارت سے منسلک تھے اور ''شودر '' جو اصل میں قدیم ہندکی سرزمین کے اصل مالک تھے لیکن آریاؤں نے ان کو مغلوب کرکے غلام بنا لیا ، ایسا غلام جن کا درجہ جانوروں سے بدتر تھا ، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابتداء میں صرف تین ذاتیں تھیں۔ برھمنوں کا چوتھا طبقہ بہت بعد کی پیداوار ہے جس کے لیے کھشتریوں اور برھمنوں کے کافی عرصے تک جنگیں ہوتی رہیں ۔
آخر کار کھشتریوں نے برھمنوں کو بھی چوتھی اور اونچی ذات کے طور پر تسلیم کرکے حصہ دار بنالیا اور دونوں مل کر عوام کو لوٹنے لگے۔کہانی میں وشوامتر کھشتریوں کا نمایندہ ہے اور وسشٹھ برھمنوں کا استعارہ ہے۔اور یہ بتانے کی تو شاید ضرورت ہی نہیں کہ وہ ''گائے ''در اصل عوام تھی جو ان دونوں کو سب کچھ مہیا کرتی ہے، دونوں تیار خور نکھٹویعنی مذہبی ٹولہ اور حکمران ٹولہ اس کے بعد سمجھوتہ ہوئے پھر دونوں اس گائے کو دوہنے لگے اور گائے ان دونوں کو کھلاتی پلاتی اور سب کچھ مہیا کرتی رہی، دونوں ہاتھ پیر ہلائے بغیر جو کچھ حاصل کرنا چاہتے گائے سے حاصل کرتے رہتے۔
تخت و تاج اور مذہب والوں کا وہ سمجھوتہ آج تک قائم ہے اور گائے بھی زندہ اور سامنے موجود ہے جو چرتی ہے اور دونوں اس کو دوہتے ہیں ،کھاتے ہیں، پیتے ہیں طرح طرح کی نعمتیں بھی مہیا کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے اندر سے لڑاکو بھی پیدا کردیتے ہیں۔ یوں تاریخ سے زیادہ افسانہ وافسوں حقائق ہی حقائق ہوتے ہیں۔صرف طرز بیان تمثیلی اور استعاراتی ہوتا ہے۔ کھشتری برھمن اتحاد زندہ باد ،گائے مردہ باد۔
ظاہر ہے کہ اس کے لیے ہم تاریخ اور اساطیر یعنی قصے کہانیوں کے بہت سارے صفحے کھنگالے ہوئے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ اس ''سچے جھوٹوں''کا اور جھوٹے سچوں کا تھوڑا سا نمونہ آپ کو بھی دکھادیں۔ہندی اساطیر یا دیو مالا میں ہمیں ایک کہانی ملی جسے راجہ وشوامتر اور رشی وسشٹھ کی کہانی کہتے ہیں۔
ہوایوں کہ وسومتر ایک بہت بڑا کھشتری راجہ تھا۔ ایک دن وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت شکار کو نکلا تو آبادیوں سے بہت دور اسے وسثٹھ نام کے ایک رشی کے آشرم میں آنکلا ۔ رشی وسثٹھ نے جو ذات کا برھمن تھا، راجہ اور اس کے لاؤ لشکر کی ایسی زبردست مہمان نوازی کی کہ راجہ وشوامتر دنگ رہ گیا کہ آخر اس رشی نے اس دشت و بیابان میں ایسے انتظامات اور مہمان نوازی کے لوازمات کا بندوبست کیسے کیا جس میں دنیا کی ہر نعمت موجود تھی۔ آخر کار اس نے رشی سے یہ بات پوچھ لی۔ رشی نے بتایا کہ میرے پاس ایک ''گائے '' ہے جو دیوتاؤں نے مجھے اپنی عبادت کے صلے میں عطا کی ہوئی ہے۔ مجھے جب کسی بھی چیز کی صرورت ہوتی ہے اس گائے سے کہہ دیتا ہوں اور وہ فوراً سب کچھ پید ا کر دیتی ہے۔
یہ سن کر راجہ وشو امتر مصر ہوا کہ یہ گائے مجھے دیدو لیکن رشی نہیں مانا۔ راجہ نے ہر طرح کے لالچ دیے ، منہ مانگی قیمت دینی چاہے لیکن پھر بھی وہ رشی راضی نہیں ہوا، تب راجہ نے فوج کو حکم دیا کہ رشی کی گائے زبردستی حاصل کرلے۔ راجہ کی فوج نے یہ قصد کیا تو رشی و سشٹھ نے گائے کو حکم دیا کہ راجہ کی فوج کے مقابل فوج پید ا کرو ۔گائے نے فوراً راجہ سے بھی بڑی فوج پید ا کرکے راجہ کے مقابل کھڑی کر دی جس نے راجہ کی فوج کو مار بھگایا ۔
راجہ غصے سے کانپتا ہوا راجد ھانی پہنچا اور اپنی ساری فوج کو رشی پر حملہ کرنے اور گائے لانے کے لیے بھیج دیا لیکن گائے نے بھی مقابل میں اس سے زیادہ فوج پیدا کرکے اس فوج کو بھی بھگا دیا۔راجہ کو پتہ چلا تو اس نے فوراً اپنا راج پاٹھ تیاگ کر بیٹوں کے حوالے کیا اور خود تپسیا کے لیے بن باس لے لیا کہ میں اس برھمن رشی کے مقابل اور زیادہ طاقتور بن کر اس کی گائے چھینوں گا۔راجہ وشوامتر عبادت کرتا رہا اور عبادت میں سالہا سال لگا دیے تب دیوتا برھما نے حاضر ہو کر اس کی خواہش پوچھی۔
راجہ نے '' برہم رشی بنانے کا مطالبہ کیا لیکن برھما نے اسے راج رشی کا رتبہ دیا جو بہت معمولی مرتبہ تھا ۔ راجہ پھر عبادت میں مگن ہو گیا۔ہندی اساطیر میں یہ اصول تھے کہ بہت زیادہ عبادت کرنے پر اس کے سامنے ''برھما دیوتا '' کو مجبوراً حاضر ہو کر اس کی خواہش پوری کرنی پڑتی جسے ''ور '' یا وردان کہتے ہیں۔
اس مرتبہ راجہ نے پھر وہی برھم رشی کا رتبہ چاہا لیکن برھما نے اسے ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک درجہ بڑھا کر اسے '' دیو رشی '' کا رتبہ عطا کیا۔ راجہ پھر تپسیا میں بیٹھ گیا ، اس مرتبہ اتنی عبادت کی کہ اسے یقین ہوگیا کہ اب تو مجھے برہم رشی کا رتبہ ضرور ملے گا ۔ برھما نے پھر خاص ''ور '' پوچھا تو رشی پھر وہی برھم رشی کا رتبہ مانگا کیونکہ رشی و سثٹھ کا رتبہ برھم رشی کا تھا اور اس کا ارادہ اس کے مقابلے خود کو بنانا تھا اور اس مرتبہ برھمانے مجبور ہو کر اسے برھم رشی یعنی سب سے اونچا رتبہ دے ہی ڈالا۔ وشوامتر برھم رشی کا عہدہ پاکر رشی و سشٹھ کے مقابلے کے لیے چل پڑا۔
رشی و سشٹھ نے اس کا پرتباک استقبال کیا۔ راجہ نے کہا، اب میں بھی تیری طرح برہم رشی بن چکا ہوں اور تم سے مقابلہ کر کے وہ گائے حاصل کرنا چاہتاہوں ، اٹھو اور مجھ سے مقابلہ کرو۔ اس پر رشی و سشٹھ نے مسکراتے ہوئے کہا، میں بھی برہم رشی اور تم بھی برھم رشی اس طرح ہم بھائی ہوئے مقابلے کی ضرورت ہی کیا ہے، ویسے ہی گائے حاضر ہے ، دونوں ہی مل کر گائے سے فائدہ اٹھائیں گے۔ کہانی ختم ہوگئی۔
وشوامتر اور سثٹھ دونوں ہی گائے میں ساجھے دار ہوگئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کہانی میں بنیادی نکتہ کیا ہے اور و ہ گائے کیا تھی ؟اس بات کو سمجھنے اور گائے کو پہچاننے کے لیے ہمیں ہندی دھرم کی تفصیل جاننا ہوگی۔ ہندؤں میں انسانوں کے چار درجے ہیں۔کھشتری جن کاکام حکومت کرنا ہوتا تھا، برہمن جن کا کام مذہبی ذمے داریاں ادا کرنا ہوتا ہے، ویش جو کمانے والے کاروباروں یا تجارت سے منسلک تھے اور ''شودر '' جو اصل میں قدیم ہندکی سرزمین کے اصل مالک تھے لیکن آریاؤں نے ان کو مغلوب کرکے غلام بنا لیا ، ایسا غلام جن کا درجہ جانوروں سے بدتر تھا ، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابتداء میں صرف تین ذاتیں تھیں۔ برھمنوں کا چوتھا طبقہ بہت بعد کی پیداوار ہے جس کے لیے کھشتریوں اور برھمنوں کے کافی عرصے تک جنگیں ہوتی رہیں ۔
آخر کار کھشتریوں نے برھمنوں کو بھی چوتھی اور اونچی ذات کے طور پر تسلیم کرکے حصہ دار بنالیا اور دونوں مل کر عوام کو لوٹنے لگے۔کہانی میں وشوامتر کھشتریوں کا نمایندہ ہے اور وسشٹھ برھمنوں کا استعارہ ہے۔اور یہ بتانے کی تو شاید ضرورت ہی نہیں کہ وہ ''گائے ''در اصل عوام تھی جو ان دونوں کو سب کچھ مہیا کرتی ہے، دونوں تیار خور نکھٹویعنی مذہبی ٹولہ اور حکمران ٹولہ اس کے بعد سمجھوتہ ہوئے پھر دونوں اس گائے کو دوہنے لگے اور گائے ان دونوں کو کھلاتی پلاتی اور سب کچھ مہیا کرتی رہی، دونوں ہاتھ پیر ہلائے بغیر جو کچھ حاصل کرنا چاہتے گائے سے حاصل کرتے رہتے۔
تخت و تاج اور مذہب والوں کا وہ سمجھوتہ آج تک قائم ہے اور گائے بھی زندہ اور سامنے موجود ہے جو چرتی ہے اور دونوں اس کو دوہتے ہیں ،کھاتے ہیں، پیتے ہیں طرح طرح کی نعمتیں بھی مہیا کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے اندر سے لڑاکو بھی پیدا کردیتے ہیں۔ یوں تاریخ سے زیادہ افسانہ وافسوں حقائق ہی حقائق ہوتے ہیں۔صرف طرز بیان تمثیلی اور استعاراتی ہوتا ہے۔ کھشتری برھمن اتحاد زندہ باد ،گائے مردہ باد۔