شہر کی اہم شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں

کشادہ سڑکوں پر دکانوں کا سامان ، ہوٹلوں کی میز کرسیاں، مکینک اور دیگر دکانوں پر گاڑیوں کو پارک کردیا جاتا ہے

شہر میں ٹریفک جام ہونا معمول بنتاجارہا ہے، اراکین اسمبلی صورتحال کا فوری نوٹس لے کر مسئلہ حل کریں،شہریوں کا مطالبہ۔ فوٹو: ایکسپریس

شہرکے مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام معمول بن گیا،دن بھر شہرکی اہم اورمصروف شاہراہوں پردن بھرگاڑیوںکی طویل قطاریں لگی رہتی ہیں جس میں ایمبولینسیں بھی پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

شہریوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیات سے اپیل کی ہے کہ شہریوںکو بلاناغہ بدترین ٹریفک جام سے فوری نجات دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں،تفصیلات کے مطابق شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ خوفناک شکل اختیار کرگیا ہے،دن بھرشہرکی اہم اور مصروف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام میں شہریوںکی گاڑیوں کا ایندھن نہ صرف ضائع ہوتا ہے بلکہ قیمتی وقت بھی برباد ہوجاتا ہے،شہریوںکا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک جام ہونا معمول بنتاجارہا ہے جبکہ شہرکی کئی سڑکوں کو کشادہ بھی کیا گیا ہے تاہم اس کا بھی کچھ فائدہ نہیں ہو سکا۔

ہفتے کو شہر کے مختلف علاقوں آئی آئی چندریگر روڈ ، شاہین کمپلیکس ، ریگل چوک ، ایمپریس مارکیٹ ، نیو پریڈی اسٹریٹ ، زیب النسا اسٹریٹ،عبداﷲ ہارون روڈ ،فوارہ چوک ،آرٹس کونسل چوک ، گرومندر ، لسبیلہ چوک ، گلبہار ، ناظم آباد چورنگی،جہانگیر روڈ ، تین ہٹی ، لیاقت آباد ڈاکخانہ ، لیاقت آباد دس نمبر، کریم آباد ، عائشہ منزل ، بورڈ آفس چوک ، اے او کلینک چوک ، واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا ، راشد منہاس روڈ ، ڈرگ روڈ ، شارع فیصل ، بڑا بورڈ ، گارڈن ، رنچھوڑ لائن چوک ، لیمارکیٹ ، گلبائی ، ماڑی پور روڈ ، ہاکس بے روڈ اور ٹاور سمیت دیگر مقامات پر بدترین ٹریفک جام رہا جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں۔


 



مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، بدترین ٹریفک جام کے دوران کئی افراد کی گاڑیوں کا ایندھن ختم ہوگیا جس کے باعث انھیں دہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، شہریوں کا کہنا ہے کہ لسبیلہ چوک سے ناظم آباد چورنگی تک گلبہار کی دونوں سڑکوں اور پیٹیل پاڑہ سے گرومندر تک کی سڑک کو کشادہ کیا گیا تھا تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے تاہم کشادہ کی جانے والی ان تمام سڑکوں پر گاڑیوں کی پارکنگ ، ہوٹلوں کی میز کرسیاں اور مکینک کی دکان پر لائی جانے والی گاڑیوں کو پارک کردیاجاتا ہے اور ان سڑکوں پر گزرنے والا ٹریک وہی ہے جو سڑکیں کشادہ ہونے سے قبل تھا شہریوں کو ان کشادہ سڑکوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور اگر فائدہ ہوا ہے تو دکانداروں کو ، مال بردار گاڑیوں ، مکینک اور ہوٹل کے مالکان کو پہنچا ہے جہاں دن بھر گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں اور دن بھر ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہتی ہے ۔، اراکین اسمبلی صورتحال کا فوری نوٹس لے کر مسئلہ حل کریں۔
Load Next Story